آخر مجھے ہر وقت تھکاوٹ کیوں رہتی ہے؟اس کی وجہ بہت عام ہوسکتی ہے
Web Desk
4 November 2025
اب آپ بازار سے خریداری کر رہے ہوں، دفتر جا رہے ہوں یا گاڑی چلا رہے ہوں، تھکاوٹ کے شکار افراد کو دیکھنا معمول محسوس ہوتا ہے۔
درحقیقت ہر وقت تھکاوٹ کے شکار رہنے کی وجہ بہت عام ہوسکتی ہے اور وہ ہے جسم میں آئرن کی کمی۔
جسم میں آئرن کی کمی سے انیمیا یا خون کی کمی کے مسئلے کا سامنا ہوتا ہے جس میں مسلسل تھکاوٹ برقرار رہتی ہے۔
ویسے تو تھکاوٹ کی متعدد وجوہات ہوسکتی ہیں جیسے تناؤ، ناقص نیند یا مصروف شیڈول، مگر جب تھکاوٹ کا تسلسل برقرار رہے اور اچھی نیند یا چائے یا کافی سے بھی کوئی فائدہ نہ ہو تو پھر یہ انیمیا کی نشانی ہوسکتی ہے۔
عالمی ادارہ صحت نے آئرن کی کمی کو جسم میں سب سے عام غذائی کمی قرار دیا ہے اور ایک تخمینے کے مطابق 30 فیصد عالمی آبادی کو اس کے باعث انیمیا کا سامنا ہے۔آئرن کی کمی سے جسم مناسب مقدار میں خون کے سرخ خلیات بنانے میں ناکام رہتا ہے۔
اسی طرح جسم کو آئرن کی ضرورت ایک پروٹین ہیموگلوبن بنانے کے لیے بھی ہوتی ہے جو خون کے سرخ خلیات کو آکسیجن لے جانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
خون کے سرخ خلیات پورے جسم میں آکسیجن کو پہنچانے کا کام کرتے ہیں۔
ہمارے جسم کے ہر حصے کو اپنے افعال کے لیے آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے اور خون میں آکسیجن کی ناکافی مقدار سے متعدد علامات سامنے آتی ہیں۔
بہت زیادہ تھکاوٹ یا کمزوری جسم میں آئرن کی کمی کی عام ترین علامت ہے۔
جب جسم کو آئرن کی کمی کا سامنا ہوتا ہے تو وہ خون کے سرخ خلیات بنانے سے قاصر ہو جاتا ہے۔
اس کے نتیجے میں جسم کے مختلف اعضا تک آکسیجن کی فراہمی گھٹ جاتی ہے اور اس سے تھکاوٹ اور کمزوری کا احساس بڑھتا ہے۔
امریکا کے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کے مطابق سانس لینے میں مشکلات، سر چکرانا، سر درد، ہاتھ پیر ٹھنڈے رہنا، زرد جِلد، سینے میں تکلیف، کمزوری اور تھکاوٹ آئرن کی کمی سے ہونے والے انیمیا کی عام علامات ہیں۔
جسم میں آئرن کی کمی یادداشت اور مدافعتی نظام کو بھی متاثر کرسکتی ہے۔
تو اس کا حل کیا ہے؟
اس کا ایک آسان حل تو آئرن سے بھرپور غذاؤں کا استمال ہے، سرخ گوشت، کلیجی، مرغی کا گوشت اور مچھلی وغیرہ اس کے حصول کے بہترین ذرائع ہیں اور ہمارا جسم ان ذرائع سے ملنے والے آئرن کو زیادہ آسانی سے جذب کرلیتا ہے۔سبز پتوں والی سبزیاں، خشک آلو بخار، کشمش، گریوں، بیجوں اور مٹر وغیرہ سے بھی آئرن جسم کو ملتا ہے مگر یہ ذرا مشکل سے جسم میں جذب ہوتا ہے مگر ان کے ساتھ دیگر غذائی اجزا جیسے وٹامن سی بھی جسم کو ملتے ہیں۔
متعلقہ عنوانات
لوئر دیر میں پُراسرار بیماری سے 7 افراد جاں بحق، درجنوں بچے زیر علاج
1 October 2026
پاکستان میں نیشنل مینٹل ہیلتھ پالیسی 2026-2035 کا اجرا
1 October 2026
وقت آگیا کہ دنیا جان لے’پنک سالٹ‘ کس کا خزانہ ہے: مریم نواز
1 October 2026
لانگ مارچ سے کبھی کوئی فائدہ ہوا اور نہ آئندہ ہوگا، مصطفی کمال
1 October 2026
کراچی میں غیر رجسٹرڈ اور مشتبہ جعلی ادویات کیخلاف ایف آئی اے کا کریک ڈاؤن
30 September 2026
پاکستان گلوبل مینٹل ہیلتھ سمٹ 2026 کا آغاز کل اسلام آباد میں ہوگا، وزارتِ صحت نے تفصیلات جاری کر دیں
30 September 2026
نجی میڈیکل کالجز کو سرکاری اداروں سے زیادہ نشستیں دینے کا تاثر درست نہیں: پی ایم ڈی سی
30 September 2026
ریبیز سے ہر سال 50 ہزار سے زائد اموات، بچاؤ کیسے ممکن ہے؟
30 September 2026