LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کی امید، پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا زبردست تیزی پر اختتام سوئی گیس کا عید الاضحیٰ کے لیے نیا شیڈول جاری، صارفین کو سہولت دینے کا اعلان پاکستان میں گردشی قرض، غربت اور بے روزگاری میں اضافہ پٹرول پر مقررہ ہدف سے زیادہ لیوی وصول کی جا رہی ہے، قائمہ کمیٹی میں انکشاف رضوان کی کپتانی میں ٹیم بہتر نتائج نہ دے سکی، ہیڈ کوچ مائیک ہیسن امریکا ایران امن معاہدے کی توقع؛ خام تیل کی عالمی قیمتوں میں بڑی کمی امریکی صدر کا سعودی عرب، قطر اور پاکستان سمیت مسلم ممالک سے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کا مطالبہ 2سال میں پیٹرولیم لیوی سے 2 ہزار 725 ارب وصول، رقم آئی ایم ایف کے 2 قرض پروگراموں سے بھی زیادہ نکلی پاکستان کی پہلی شیڈو پالیسی دستاویزات جاری، نجی شعبے کی ترقی پر زور فیلڈ مارشل نے مذاکرات نتیجہ خیز بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا: امریکی ٹی وی اسلام آباد: وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب سے برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کی ملاقات پاکستان اور چین کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کی 15 دستاویزات پر دستخط امریکا کے ساتھ فریم ورک پر پہنچ گئے، وفد ابھی پاکستان بھیجنے کا ارادہ نہیں: ایران پاکستان اور چین کا قومی مفادات پر ایک دوسرے کی مکمل حمایت کا اعلان ٹانک: چیسن کچ میں دہشت گردی، نامعلوم افراد نے مڈل اسکول اور بنیادی ہیلتھ مرکز (BHU) کو دھماکے سے اڑا دیا

آخر مجھے ہر وقت تھکاوٹ کیوں رہتی ہے؟اس کی وجہ بہت عام ہوسکتی ہے

Web Desk

4 November 2025

اب آپ بازار سے خریداری کر رہے ہوں، دفتر جا رہے ہوں یا گاڑی چلا رہے ہوں، تھکاوٹ کے شکار افراد کو دیکھنا معمول محسوس ہوتا ہے۔
درحقیقت ہر وقت تھکاوٹ کے شکار رہنے کی وجہ بہت عام ہوسکتی ہے اور وہ ہے جسم میں آئرن کی کمی۔
جسم میں آئرن کی کمی سے انیمیا یا خون کی کمی کے مسئلے کا سامنا ہوتا ہے جس میں مسلسل تھکاوٹ برقرار رہتی ہے۔
ویسے تو تھکاوٹ کی متعدد وجوہات ہوسکتی ہیں جیسے تناؤ، ناقص نیند یا مصروف شیڈول، مگر جب تھکاوٹ کا تسلسل برقرار رہے اور اچھی نیند یا چائے یا کافی سے بھی کوئی فائدہ نہ ہو تو پھر یہ انیمیا کی نشانی ہوسکتی ہے۔
عالمی ادارہ صحت نے آئرن کی کمی کو جسم میں سب سے عام غذائی کمی قرار دیا ہے اور ایک تخمینے کے مطابق 30 فیصد عالمی آبادی کو اس کے باعث انیمیا کا سامنا ہے۔آئرن کی کمی سے جسم مناسب مقدار میں خون کے سرخ خلیات بنانے میں ناکام رہتا ہے۔
اسی طرح جسم کو آئرن کی ضرورت ایک پروٹین ہیموگلوبن بنانے کے لیے بھی ہوتی ہے جو خون کے سرخ خلیات کو آکسیجن لے جانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
خون کے سرخ خلیات پورے جسم میں آکسیجن کو پہنچانے کا کام کرتے ہیں۔
ہمارے جسم کے ہر حصے کو اپنے افعال کے لیے آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے اور خون میں آکسیجن کی ناکافی مقدار سے متعدد علامات سامنے آتی ہیں۔
بہت زیادہ تھکاوٹ یا کمزوری جسم میں آئرن کی کمی کی عام ترین علامت ہے۔
جب جسم کو آئرن کی کمی کا سامنا ہوتا ہے تو وہ خون کے سرخ خلیات بنانے سے قاصر ہو جاتا ہے۔
اس کے نتیجے میں جسم کے مختلف اعضا تک آکسیجن کی فراہمی گھٹ جاتی ہے اور اس سے تھکاوٹ اور کمزوری کا احساس بڑھتا ہے۔
امریکا کے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کے مطابق سانس لینے میں مشکلات، سر چکرانا، سر درد، ہاتھ پیر ٹھنڈے رہنا، زرد جِلد، سینے میں تکلیف، کمزوری اور تھکاوٹ آئرن کی کمی سے ہونے والے انیمیا کی عام علامات ہیں۔
جسم میں آئرن کی کمی یادداشت اور مدافعتی نظام کو بھی متاثر کرسکتی ہے۔
تو اس کا حل کیا ہے؟
اس کا ایک آسان حل تو آئرن سے بھرپور غذاؤں کا استمال ہے، سرخ گوشت، کلیجی، مرغی کا گوشت اور مچھلی وغیرہ اس کے حصول کے بہترین ذرائع ہیں اور ہمارا جسم ان ذرائع سے ملنے والے آئرن کو زیادہ آسانی سے جذب کرلیتا ہے۔سبز پتوں والی سبزیاں، خشک آلو بخار، کشمش، گریوں، بیجوں اور مٹر وغیرہ سے بھی آئرن جسم کو ملتا ہے مگر یہ ذرا مشکل سے جسم میں جذب ہوتا ہے مگر ان کے ساتھ دیگر غذائی اجزا جیسے وٹامن سی بھی جسم کو ملتے ہیں۔