پاکستان اور چین کا قومی مفادات پر ایک دوسرے کی مکمل حمایت کا اعلان
Web Desk
25 May 2026
بیجنگ کے عظیم عوامی ہال (Great Hall of the People) میں پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف اور چین کے وزیراعظم لی چیانگ کے درمیان وفود کی سطح پر ایک تاریخی اور انتہائی اہم ملاقات ہوئی ہے۔ پاک-چین سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ (ڈائمنڈ جوبلی) کے تاریخی پس منظر میں ہونے والی اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کے بنیادی قومی مفادات پر بلا مشروط اور مکمل حمایت کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے پرتپاک استقبال پر چینی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے واضح کیا کہ چین کے ساتھ پائیدار اسٹریٹجک شراکت داری اور ”آہنی دوستی“ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی اور غیر متزلزل ستون ہے، جو باہمی اعتماد، امن اور مشترکہ ترقی پر مبنی ہے۔
دونوں وزرائے اعظم نے اس بات پر اتفاق کیا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) نے پاکستان کی معیشت اور سماجی ڈھانچے کو بدلنے میں انقلابی کردار ادا کیا ہے۔ اب سی پیک کے اگلے مرحلے کو اعلیٰ معیار پر استوار کرنے کے لیے پاکستان نے ایک اہم تزویراتی قدم اٹھایا ہے:
وزیراعظم شہباز شریف نے چین کے 15ویں پانچ سالہ منصوبے اور پاکستان کے نئے ترقیاتی فریم ورک ”اُڑان پاکستان“ کے درمیان مثالی ہم آہنگی پیدا کرنے کی اہمیت پر زور دیا، تاکہ پاکستان کی معاشی ترجیحات کو تیز رفتاری سے پورا کیا جا سکے۔سی پیک کے نئے فیز میں اب روایتی انفراسٹرکچر کے ساتھ ساتھ جدید صنعتکاری، دوطرفہ ڈیجیٹل روابط، جدید زراعت، سائنس و ٹیکنالوجی، صاف توانائی (Clean Energy) اور خلائی تعاون پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے گی۔
ملاقات میں دفاعی اور معاشی تعاون کے ساتھ ساتھ مستقبل کی جدید ترین ٹیکنالوجی کے شعبوں پر بھی تفصیلی بات چیت ہوئی: وزیراعظم نے خلائی تحقیق، مصنوعی ذہانت (AI) اور جدید ترین ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں چین کے ساتھ تعاون بڑھانے کا عزم ظاہر کیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ چین کے خلائی اسٹیشن پروگرام (Space Station Program) کے لیے پاکستانی خلا بازوں کا انتخاب دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک گہرائی کا ایک نیا اور تاریخی مظہر ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان کی قومی ترقی اور معاشی استحکام کے لیے بیجنگ کی مستقل اور غیر متزلزل حمایت کو سراہا، اور چینی قیادت کو یقین دلایا کہ پاکستان میں مقیم چینی شہریوں، اداروں اور تمام ترقیاتی منصوبوں کی حفاظت کے لیے فول پروف سیکیورٹی کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا۔
اس اہم ترین ملاقات میں پاکستان کا اعلیٰ سطحی عسکری و سیاسی وفد شریک تھا، جس میں درج ذیل شخصیات شامل تھیں: چیف آف ڈیفنس فورسز، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر (جو تہران کے امن مشن سے براہِ راست بیجنگ پہنچے)۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، وزیرِ آئی ٹی شزہ فاطمہ خواجہ، رانا تنویر حسین، حنیف عباسی، ہارون اختر اور طارق فاطمی۔
ملاقات کے اختتام پر دونوں فریقین نے طے شدہ تمام منصوبوں پر عملدرآمد کی رفتار کو تیز کرنے اور اس لازوال شراکت داری کو عملی اور نتیجہ خیز بنانے کے پختہ عزم کا اظہار کیا۔
متعلقہ عنوانات
نیویارک میں ملازمین کے حقوق کی پامالی پر والگرینز سمیت 4 کمپنیوں کو 21 لاکھ ڈالر جرمانہ؛ 1600 سے زائد ورکرز کو ہرجانہ ملے گا
6 July 2026
عمران خان سے ملاقات کیلئے فہرست جاری
6 July 2026
جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے 4 اہم اجلاس طلب؛ ہائی کورٹس کے ججز کی مستقلی اور نئی تعیناتیوں پر غور ہوگا
6 July 2026
غیر ملکی ہیکرز کا سی ڈی اے پر بڑا سائبر حملہ؛ اسلام آبادیوں کا ٹیکس و بلنگ ڈیٹا ہیک، بحالی کے لیے ایک ماہ کی مہلت
6 July 2026
متنازعہ ٹویٹس کیس؛ سپریم کورٹ کا ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری
6 July 2026
لاہور میں غیر ملکی خواتین کے اغوا و زیادتی کیس میں اہم انکشافات؛ گینگ کا سرغنہ ‘وحید طاہر’ نکلا، اعضاء فروخت کرنے کی دھمکیاں دینے کا انکشاف
6 July 2026
ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں، معاہدہ ترجیح ہے: ٹرمپ
6 July 2026
پاکستان دہشت گردی کے خلاف ہر ضروری اقدام کا حق محفوظ رکھتا ہے: فیلڈ مارشل
6 July 2026