LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
حکومت کا رواں مالی سال سے ہائبرڈ سکوک بانڈز کے اجرا کا فیصلہ محکمہ ایکسائز کا 25 ارب 43 کروڑ روپے کا ریکارڈ ریونیو جمع آبنائے ہرمز صرف ایرانی انتظامات کے تحت ہی کھلے گی: باقر قالیباف کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس سروس معطل محسن نقوی کی یو این سیکرٹری جنرل سے ملاقات، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کچھ دیر پہلے ایران کی جانب معاہدے کیلئے رابطہ کیا گیا، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ امریکہ کا ایران میں 90 اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ، بحرین اور کویت میں سائرن بج گئے ایران کا امریکا کو دوٹوک پیغام، حملہ کیا تو بھرپور جواب ملے گا: قالیباف وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کا بلوچستان میں حالیہ دہشتگردی پر اظہار افسوس شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کو آج مشہد میں سپرد خاک کیا جائے گا ایران نے حالیہ امریکی حملوں کیخلاف اقوام متحدہ کو احتجاجی خطوط ارسال کر دیے ایران کا امریکی کارروائیوں کا منہ توڑ جواب دینے کا اعلان ایران پر موجودہ حملے گزشتہ کارروائیوں سے زیادہ وسیع ہیں، امریکی عہدیدار امریکی حملوں کے بعد چاہ بہار فری زون سے گاڑیاں محفوظ مقامات پر منتقل وزیرِ داخلہ محسن نقوی اگلے ہفتے واشنگٹن میں امریکی حکام سے ملاقات کریں گے، امریکہ ایران امن مذاکرات کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششیں تیز

پٹرول پر مقررہ ہدف سے زیادہ لیوی وصول کی جا رہی ہے، قائمہ کمیٹی میں انکشاف

Web Desk

25 May 2026

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ حکومت پٹرول اور ڈیزل پر عالمی مالیاتی ادارے کی مقررہ حد سے زیادہ لیوی وصول کر رہی ہے۔

کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے اجلاس کے دوران بتایا کہ عالمی مالیاتی ادارے کی جانب سے پٹرول پر 80 روپے لیوی کا ہدف دیا گیا تھا تاہم حکومت اس وقت 117 روپے تک وصول کر رہی ہے۔

کمیٹی کے رکن جاوید حنیف خان نے کہا کہ پٹرول اور ڈیزل دونوں پر مجموعی طور پر 160 روپے لیوی وصولی کا ہدف مقرر تھا، جسے پورا کرنے کے لیے پٹرول پر زیادہ اور ڈیزل پر نسبتاً کم لیوی عائد کی گئی ہے۔

اجلاس میں حکومت کی نئی موبائل سازی پالیسی پر بھی بریفنگ دی گئی۔ حکام نے بتایا کہ نئی پالیسی کا مقصد ملک سے ڈالر کے اخراج کو کم کرنا ہے۔

تاہم قائمہ کمیٹی کے چیئرمین سید نوید قمر نے کہا کہ موبائل فون کے پرزہ جات کی درآمد کے باعث اب بھی بڑی مقدار میں ڈالر بیرون ملک جا رہے ہیں۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ کاربن لیوی کی مد میں اب تک 37 ارب روپے جمع کیے جا چکے ہیں جن میں سے 9 ارب روپے برقی گاڑیوں کے لیے سبسڈی کی صورت میں فراہم کیے گئے۔

بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ رواں سال اب تک صرف 50 برقی چارجنگ مراکز قائم کیے جا سکے ہیں جبکہ سال بھر کے لیے 240 مراکز کا ہدف مقرر تھا۔