LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایبٹ آباد: بیکری میں آگ لگنے سے جھلسنے والے 3 مزدور دم توڑ گئے یو اے ای میں امریکی سفارتخانے نے سکیورٹی صورتحال کے باعث قونصلر اپائنٹمنٹس منسوخ کر دیں امریکی صدر ٹرمپ کا ایران پر مزید شدید حملوں کا اعلان یورپی یونین کا غزہ کی بحالی کیلیے ایک ارب ڈالر فنڈ کا اعلان خلیجی ملک نے نقد ادائیگیوں سے متعلق بڑی پابندی لگا دی ٹرمپ سے متفق ہوں کہ جہازوں کو تحفظ فراہم کرنے پر معاوضہ ملنا چاہیے: عباس عراقچی کوئٹہ اور نوشکی میں فائرنگ سے قبائلی رہنما سمیت 3 افراد جاں بحق کوہاٹ میں طوفانی بارش سے مکان کی چھت گر گئی، 9 افراد جاں بحق فیصل آباد میں گندے نالے میں گر کر 8 سالہ بچہ جاں بحق وزیراعظم سے سیکرٹری جنرل مسلم ورلڈ لیگ کی ملاقات، مسلم دنیا کے مسائل پر تبادلہ خیال ڈھوک ٹاہلیاں ڈیم میں مچھلیوں کی ہلاکت کا معاملہ وفاق تک پہنچ گیا، تحقیقات کا حکم ایران میں حالیہ امریکی حملوں میں شہدا کی تعداد 24 ہوگئی ایران کا ایک ارب ڈالر مالیت کا خام تیل چین روانہ، ایرانی آئل ٹینکروں نے ٹریکنگ سسٹم بند کر دیا پٹرولیم قیمتوں کے نظام میں اصلاحات، پلیٹس ڈیٹا عوامی کرنے کی سفارش پاکستان اور سعودی عرب کا توانائی تعاون بڑھانے پر اتفاق

رضوان کی کپتانی میں ٹیم بہتر نتائج نہ دے سکی، ہیڈ کوچ مائیک ہیسن

Web Desk

25 May 2026

پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے کہا ہے کہ قومی ٹیم کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کیے جا رہے ہیں اور اسی سوچ کے تحت محمد رضوان کو ٹی ٹوئنٹی ٹیم سے باہر رکھا گیا۔

راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مائیک ہیسن نے کہا کہ ان کے تقرر سے پہلے ہی محمد رضوان مختصر فارمیٹ کی قومی ٹیم کا حصہ نہیں تھے جبکہ قیادت میں بھی تبدیلی آ چکی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ویسٹ انڈیز کے خلاف ایک روزہ سیریز کے بعد ٹیم انتظامیہ اس نتیجے پر پہنچی کہ کپتانی میں تبدیلی کی ضرورت ہے کیونکہ ٹیم کی مجموعی کارکردگی توقعات کے مطابق نہیں تھی۔

ہیڈ کوچ کے مطابق ٹیم کا انتخاب صرف کسی ایک کھلاڑی کی کارکردگی کو دیکھ کر نہیں بلکہ پورے اسکواڈ کی ضرورت اور مستقبل کی حکمت عملی کے مطابق کیا جا رہا ہے۔

مائیک ہیسن نے کہا کہ اس فیصلے کے ذریعے دیگر کھلاڑیوں کو بھی یہ پیغام دیا گیا ہے کہ قومی ٹیم میں جگہ مستقل نہیں بلکہ کارکردگی سے مشروط ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ عالمی کپ قریب ہے اور ٹیم انتظامیہ مختلف آپشنز کو آزما کر مضبوط اور متوازن ٹیم تیار کرنا چاہتی ہے۔