LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سعودی عرب نے کشیدگی میں کمی کیلئے مذاکرات کا سلسلہ برقرار رکھنا ناگزیر قرار دیدیا چین کا افریقی ممالک میں ایبول کی وبا کے انسداد میں تعاون جاری رکھنے کا اعلان کانگو میں ایبولا کی وبا کا پھیلاؤ روکنے کیلئے نئی ویکسین کی آزمائش شروع کردی: ڈبلیو ایچ او ایران کی نئی امریکی کارروائی پر خلیج کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی وارننگ آبنائے ہرمز پر ایران کو محدود کنٹرول دینے کی تجویز زیر غور امریکا، ایران اور عمان کا آج آبنائے ہرمز سے متعلق عبوری معاہدے کا اعلان متوقع 5 اگست 2019ء کے بھارتی اقدامات غیر قانونی اور یکطرفہ تھے، عاصم افتخار حکومتِ پاکستان نے “فارن میڈیا فیسلیٹیشن گائیڈ لائنز 2026” جاری کر دیں: غیر ملکی و مقامی صحافیوں کے لیے آن لائن رجسٹریشن اور این او سی لازمی قرار امریکا نے فلائی بغداد ایئر لائن کو پابندیوں کی فہرست سے خارج کر دیا امریکی و برطانوی وزرائے خارجہ کی ملاقات، ایران اور خلیج کی صورتحال پر گفتگو آبنائے ہرمز میں نیا عارضی بحری راستہ قائم کرنے کی تیاری مکمل کرلی: ایران پنجاب حکومت کی انتظامی سطح پر تبدیلیاں، 46 افسروں کے تقرر و تبادلے حیدرآباد میں سی ٹی ڈی کی انٹیلیجنس بیسڈ کارروائی میں دہشت گرد گرفتار حکومت نے پٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا، ڈیزل سستا اسحاق ڈار کی اردن میں ترک، مصری اور الجزائر کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں

کانگو میں ایبولا کی وبا کا پھیلاؤ روکنے کیلئے نئی ویکسین کی آزمائش شروع کردی: ڈبلیو ایچ او

Web Desk

5 August 2026

عالمی ادارہ صحت (WHO) نے بتایا ہے کہ جمہوریہ کانگو میں ایبولا وائرس کی ’بُنڈی بُگیو‘ قسم کی تاریخ کی سب سے بڑی وبا سے نمٹنے کے لیے موثر علاج اور دنیا کی پہلی ویکسین کی تیاری پر تحقیقی کام تیزی سے جاری ہے، تاہم حتمی نتائج کے حصول میں ابھی کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔ عالمی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق WHO کے نمائندوں نے جنیوا میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس بار تحقیقاتی منصوبے پیشگی تیار ہونے کی وجہ سے آزمائشیں ماضی کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے شروع کی گئی ہیں۔

WHO کے قائم مقام سربراہ برائے تحقیق و ترقی ڈاکٹر واسی مورتی کے مطابق اس خاص قسم کے ایبولا وائرس کے لیے فی الحال کوئی باقاعدہ یا محفوظ علاج اور ویکسین دستیاب نہیں ہے، لیکن برطانیہ اور کینیڈا میں انسانی و حیاتیاتی آزمائشوں کے ابتدائی مراحل کا آغاز ہو چکا ہے۔ واضح رہے کہ یکم اگست تک جمہوریہ کانگو میں اس وبا کے 3,748 کیسز کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ 1,657 افراد جاں بحق اور 708 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔