LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایشین چیمپئنز ٹرافی: پاک بھارت کشیدگی کے باعث پاکستان ہاکی فیڈریشن کا نیوٹرل وینیو کا بڑا مطالبہ عمران خان سے کل جیل میں رفقاء کی ملاقات، فہرست جیل حکام کو بھجوا دی گئی پیٹرولیم ڈیلرز کا حکومتی ریلیف سکیم پر اعتراض، سستا پیٹرول دینے سے انکار فیلڈ مارشل عاصم منیر سے امریکی وفد کی ملاقات، خطے کی صورتحال پر گفتگو سیاسی کشیدگی سے سب کا نقصان ہوگا، تھرڈ فورس آنے سے پہلے معاملات حل کیے جائیں: بیرسٹر گوہر وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت پی ایم اسپیشل ریلیف اسکیم کا جائزہ اجلاس، فیول سبسڈی کے لیے سہولت ڈیسک قائم کرنے کی ہدایت پاکستان کو پہلے پائیدار سویرن پانڈا بانڈ کے اجرا پر 2026 اے پی اے سی کلائمیٹ بانڈز ایوارڈ سے نواز دیا گیا پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی میں افغان سرزمین استعمال ہورہی ہے ، طلال چودھری ایران اور امریکا مزید کشیدگی روک کر مذاکرات کی طرف واپس آئیں: چین وزیراعظم کا چھوٹے کاروبار کی معاونت کے لیے حکمت عملی بنانے کا حکم عمران خان کی ہسپتال منتقلی کا کیس: سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل سے معاونت طلب کر لی 27 ستمبر لانگ مارچ سے قبل پی ٹی آئی رہنماؤں کو ہراساں اور گرفتار نہ کرنے کا حکم چین پاکستان میں جدید طرز کے لا انفورسمنٹ سینٹر کے قیام میں تعاون کرے گا پٹرولیم لیوی کا خاتمہ چاہیے، خیرات نہیں، حافظ نعیم الرحمان اوزون تہہ کا تحفظ نئی نسل کے محفوظ مستقبل کی ضمانت ہے، مریم نواز

عمران خان سےعظمیٰ خان اور وکیل سلمان صفدر کی ملاقات کرا دی گئی

Web Desk

2 December 2025

عمران خان سے ان کی فیملی اور وکلاء کی ملاقات کے سلسلے میں جو ہیجان برپا تھا آج اس کا ڈراپ سین ہو گیا،جیل انتظامیہ نے جیل مینول کے عین مطابق بانی پی ٹی آئی کی بہن عظمیٰ خان اور وکیل سلمان صفدر کو اس شرط پر ملاقات کی اجازت دی کہ اس ملاقات کے دوران یا اس کے بعد کسی قسم کی سیاسی گفتگو یا سرگرمی نہیں کی جائے گی۔

جیل انتظامیہ کے اس فیصلے کے تناظر میں تحریک انصاف نے سلمان صفدر اور عمران خان کی بہن عظمیٰ خان کو ملاقات کے لیے نامزد کرنے کا ایک دانشمندانہ فیصلہ کیا ہے۔ذرائع کا کہنا تھا کہ جیل انتظامیہ کی طرف سے دی گئی یہ اجازت جہاں ایک اچھا اور قانون کے مطابق کیا گیا فیصلہ ہے، وہیں اب تحریک انصاف پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ قواعد و ضوابط کی پاسداری کرے تاکہ فیملی اور وکلاء کی ملاقاتوں کا یہ سلسلہ جاری رکھا جا سکے۔دوسری جانب ذرائع نے مزید بتایا گیا جیل انتظامیہ نے اس سلسلے کے تسلسل کے لیے یہ شرط عائد کی ہے کہ ملاقاتوں کے بعد کسی قسم کی بھی سیاسی سرگرمی یا گفتگو نہ کی جائے بصورت دیگر اس فیصلے پر نظر ثانی کی جا سکتی ہے۔