LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، اسعد محمود تفتیش سے روپوش قرار پاکستان میں انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے غور کرنا چاہئے: خواجہ آصف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارکباد وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کو یوم فتح کی چھٹی سالگرہ پر مبارکباد شادی اور بچے پیدا کرنے کی ہمت کریں: پوپ لیو کی جنوبی امریکا میں نوجوانوں کو نصیحت سعودی عرب نے ریاض کی جانب داغے گئے 2 بیلسٹک اور 2 کروز میزائل تباہ کر دیے ڈی جی آئی ایس پی آر کا لاہور کی تین جامعات کا دورہ، طلبہ اور اساتذہ سے خصوصی نشستیں ٹرمپ کا سیاسی انتقام لینے اور دھمکیاں دینے پر ڈیموکریٹس کے خلاف تحقیقات کا حکم فضائی آلودگی میں لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست صدر اور وزیراعظم کا دیوالی پر ملک میں اتحاد، مذہبی ہم آہنگی کے فروغ پر زور امریکی فوج کا بحیرۂ عمان میں تجارتی جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا کل سے آغاز: بابر اعظم اور کوشال مینڈس اپنی ٹیموں کی قیادت کریں گے

عثمان خواجہ کے انکشافات نے بال ٹیمپرنگ سکینڈل کو پھر زندہ کر دیا

Web Desk

7 November 2026

آسٹریلیا کے سابق ٹیسٹ کرکٹر عثمان خواجہ کے حالیہ انکشافات نے سال 2018 کے ہنگامہ خیز بال ٹیمپرنگ اسکینڈل ‘سینڈ پیپر گیٹ’ کو ایک بار پھر زندہ کر دیا ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس اسکینڈل کے بارے میں تمام آسٹریلوی کھلاڑیوں کو مکمل علم تھا۔

عثمان خواجہ نے اپنے انکشافات اپنی نئی سوانح عمری (آٹو بائیو گرافی) بعنوان ‘صبر’ میں کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ یہ معاملہ ہمیشہ کے لیے دب جائے، اور اب آٹھ برس بعد سچائی کا سامنے آنا ضروری تھا۔ عثمان خواجہ کے مطابق، پورٹ الزبتھ ٹیسٹ اور کیپ ٹاؤن ٹیسٹ سے قبل بھی بال ٹیمپرنگ کی کارروائیاں ہوتی رہی ہیں، اور جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز کے دوران اس حوالے سے ٹیم میں باقاعدہ گفتگو بھی ہوئی تھی۔ انہوں نے مؤقف اپنایا کہ پوری ٹیم کو اس معاملے کی ذمہ داری لینی چاہیے تھی، کیونکہ صرف تین کھلاڑیوں کو سزا ملنا انصاف کا پورا تقاضا نہیں تھا۔

کتاب میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس دوران اسٹیو اسمتھ نے معاملے سے لاعلم رہنے کا فیصلہ کیا تھا۔ یاد رہے کہ 24 مارچ 2018 کو کیپ ٹاؤن ٹیسٹ کے دوران پیش آنے والے اس واقعے پر ڈیوڈ وارنر، اسٹیو اسمتھ اور کیمرون بینکرافٹ کو سخت سزاؤں کا سامنا کرنا پڑا تھا، جبکہ اس وقت پیٹ کمنز سمیت چار بولرز نے بال ٹیمپرنگ سے لاعلمی ظاہر کی تھی۔ دوسری جانب، کرکٹ آسٹریلیا نے عثمان خواجہ کے انکشافات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ 8 برسوں میں بہت سی افواہیں سامنے آئیں، تاہم بورڈ اپنی اصل انٹیگریٹی (دیانت داری) تحقیقات کے نتائج سے مکمل طور پر مطمئن ہے۔