امریکا؛ سپریم کورٹ نے’چرسیوں‘ کو اسلحہ رکھنے کی اجازت دیدی
Web Desk
18 June 2026
امریکی عدالتی نظام اور اسلحہ رکھنے کے آئینی حقوق (Second Amendment) کے حوالے سے واشنگٹن سے ایک انتہائی دور رس اور تاریخی تزویراتی فیصلہ سامنے آیا ہے۔ امریکی سپریم کورٹ نے ایک غیر معمولی متفقہ (9-0) فیصلے میں قرار دیا ہے کہ وفاقی حکومت محض اس بنیاد پر کسی شہری سے اسلحہ رکھنے کا بنیادی حق نہیں چھین سکتی کہ وہ غیر قانونی طور پر چرس (ماریجوانا) استعمال کرتا ہے۔عدالتِ عظمیٰ کے اس تاریخی فیصلے، اس کے دائرۂ کار، حدود اور پسِ منظر کے تزویراتی خدوخال درج ذیل ہیں:فیصلے کا بنیادی تزویراتی نکتہ اور وفاقی قانون کی تشریححکومت پر بارِ ثبوت: امریکی سپریم کورٹ نے واضح کیا ہے کہ جب تک وفاقی حکومت ٹھوس شواہد سے یہ ثابت نہیں کر دیتی کہ نشہ کرنے والا مذکورہ شخص اپنے اس اسلحے کے باعث معاشرے یا دوسروں کے لیے کوئی فوری خطرہ بن سکتا ہے، تب تک اس پر پابندی عائد نہیں کی جا سکتی۔وفاقی قانون محدود: اس فیصلے سے امریکی وفاقی حکومت کے اس پرانے اور سخت قانون کی تشریح شدید محدود ہو گئی ہے، جس کے تحت کسی بھی ممنوعہ منشیات کے استعمال کنندہ کے لیے صرف اسلحہ پاس رکھنا بھی ایک سنگین جرم تھا، جس پر 15 سال تک قید کی سزا ہو سکتی تھی۔صرف استعمال خطرناک ہونے کی دلیل نہیں: اکثریتی رائے تحریر کرتے ہوئے معزز جج نے ریمارکس دیے کہ محض کسی غیر قانونی منشیات کا استعمال کسی شخص کو خودکار طور پر معاشرے کے لیے “خطرناک” قرار دینے کے لیے کافی نہیں ہے۔آئینی حقوق کا تحفظ اور جسٹس گورسچ کا موقفامریکی سپریم کورٹ کے جسٹس گورسچ نے اس فیصلے کی تزویراتی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے خبردار کیا:”اگر وفاقی حکومت کو صرف کسی مخصوص گروہ (جیسے ماریجوانا استعمال کرنے والے) کو زبردستی ‘خطرناک’ قرار دے کر اس کے تمام افراد سے اسلحہ رکھنے کا حق چھیننے کا اختیار دے دیا جائے، تو اس سے امریکی آئین کی دوسری ترمیم (Second Amendment) کے تحت شہریوں کو دیے گئے اسلحہ رکھنے کے بنیادی اور تزویراتی حق کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔”یہ تاریخی فیصلہ کس مقدمے میں آیا؟یہ تزویراتی قانونی جنگ امریکی ریاست ٹیکساس کے ایک رہائشی علی ہیمانی نے لڑی تھی:مقدمے کا پسِ منظر: علی ہیمانی نے عدالت میں اعتراف کیا تھا کہ وہ تقریباً ہر دوسرے دن ماریجوانا (چرس) استعمال کرتے ہیں، اور ان کے گھر میں ایک $9\text{mm}$ پستول بھی موجود تھی۔گرفتاری کی نوعیت: وفاقی حکام نے ان پر صرف اس بنیاد پر مقدمہ قائم کیا تھا کہ وہ منشیات کے صارف ہونے کے باوجود اسلحہ کے مالک ہیں، حالانکہ گرفتاری کے وقت وہ نہ تو نشے کی حالت میں تھے اور نہ ہی ان کے ہاتھ میں کوئی ہتھیار تھا۔عدالتی فیصلہ: سپریم کورٹ نے نچلی عدالت کے اس فیصلے کو مکمل طور پر برقرار رکھا جس میں علی ہیمانی کے خلاف وفاق کی جانب سے عائد فردِ جرم کو غیر آئینی قرار دے کر خارج کر دیا گیا تھا۔فیصلے کی تزویراتی حدود اور استثنیٰسپریم کورٹ نے جہاں چرس استعمال کرنے والوں کو ریلیف دیا، وہاں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے چند سخت ترین قانونی حدود بھی برقرار رکھی ہیں:بحال ہونے والے حقوقبرقرار رہنے والی سخت پابندیاںچرس کا عام یا تفریحی استعمال کرنے والوں کو گھر میں دفاع کے لیے اسلحہ رکھنے کی تزویراتی اجازت۔منشیات کے عادی (Addicts): سنگین حد تک منشیات کے عادی افراد پر اسلحہ رکھنے کی پابندی بدستور نافذ رہے گی۔محض منشیات کے مینو میں نام ہونے پر خودکار گرفتاری کا خاتمہ۔حالتِ نشہ میں پابندی: عین نشے کی حالت میں اسلحہ لہرانے یا پاس رکھنے پر مکمل پابندی برقرار ہے۔-خطرناک افراد: ایسے تمام افراد جو اپنے یا معاشرے کے لیے خطرہ ثابت ہوں، ان پر اسلحہ رکھنے کی ممانعت رہے گی۔ہنٹر بائیڈن مقدمے پر اثر انداز نہ ہونے کی وجہ:عدالتِ عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں خصوصی طور پر واضح کیا ہے کہ اس نئے قانون کا اطلاق سابق امریکی صدر جو بائیڈن کے بیٹے ہنٹر بائیڈن جیسے ہائی پروفائل مقدمات پر بالکل نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہنٹر بائیڈن نے جس وقت اسلحہ خریدا اور اپنے پاس رکھا، وہ اس وقت باقاعدہ طور پر سخت منشیات کے “عادی” (Addict) ہونے کا اعتراف کر چکے تھے۔امریکہ میں ماریجوانا (چرس) کی قانونی حیثیتموجودہ تزویراتی صورتحال یہ ہے کہ امریکہ کی 40 سے زائد ریاستوں میں ماریجوانا کو طبی یا تفریحی بنیادوں پر کسی نہ کسی شکل میں قانونی قرار دیا جا چکا ہے، تاہم وفاقی قانون (Federal Law) کے تحت یہ اب بھی ممنوعہ منشیات کے زمرے میں ہی شامل ہے، یہی وجہ ہے کہ سپریم کورٹ کا یہ تزویراتی فیصلہ وفاقی اور ریاستی قوانین کے مابین توازن پیدا کرنے میں ایک سنگِ میل ثابت ہوگا۔
متعلقہ عنوانات
امریکی فوج نے ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کردی
18 June 2026
مغرب میں جمہوریت اور مشرق میں کمیونزم ناکام، حل اسلامی نظام میں ہے: مولانا فضل الرحمٰن
18 June 2026
وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا تاریخی ٹیلیفونک رابطہ
18 June 2026
وزیراعظم نے کفایت شعاری اقدامات میں توسیع کی منظوری دے دی
18 June 2026
فیلڈ مارشل سے گھانا کے چیف آف ڈیفنس سٹاف کی ملاقات، عسکری تعاون بڑھانے پر اتفاق
18 June 2026
وزیر اعظم شہباز شریف نے دورہ سوئٹزرلینڈ منسوخ کردیا
18 June 2026
سہیل آفریدی کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی درخواست سننے والا سنگل بنچ تحلیل
18 June 2026
اسحاق ڈار سے بحرینی ہم منصب کا رابطہ، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر تبادلہ خیال
18 June 2026