LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان کا خطے میں کشیدگی پر اظہار تشویش، فریقین سے وعدوں کی پاسداری کی اپیل آبنائے ہرمز مکمل بند، جہازرانوں کو اگلے نوٹس تک سفر نہ کرنے کی ہدایت وزیراعظم شہباز شریف کی کل قطر روانگی متوقع بنگلادیش میں طوفانی بارشوں کے باعث 44 افراد ہلاک،متعدد لاپتہ جماعت اسلامی کا آزاد کشمیر میں قیام امن کیلئے گرینڈ جرگہ تشکیل دینے کا فیصلہ قطر نے سمندری سرگرمیاں غیر معینہ مدت تک معطل کر دیں، ایرانی حملوں کی شدید مذمت نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی کی ملاقات قطر میں سوگ کی فضا، سابق امیر شیخ حمد بن خلیفہ الثانی انتقال کر گئے امریکی حملوں کے ردعمل میں ایران کے خلیجی ممالک پر جوابی میزائل حملے، آبنائے ہرمز تاحکم ثانی بند ڈیرہ غازی خان: قبائلی علاقے میں 11 سالہ لڑکی مبینہ طور پر فروخت کر دی گئی امریکا میں تارکین وطن کے ’ورک پرمٹ‘ سے متعلق اہم خبر سامنے آگئی امریکی اہلکار عمان میں ایرانی حکام سے ذاتی حیثیت میں بات چیت میں شریک نہیں ہوں گے: روسی میڈیا امریکی صدر کی نائب صدر اور وزیرخارجہ کو عمان میں مذاکرات جاری رکھنے کی ہدایت ایران کے پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز بند کردی: خبرایجنسی ایران کے مختلف شہروں میں دھماکوں کی آوازیں

امریکا ایران مذاکرات: صدر ٹرمپ کے ایلچی اور ایرانی وزیر خارجہ سوئٹزرلینڈ روانہ

Web Desk

20 June 2026

جنیوا/واشنگٹن: لبنان میں جنگ بندی کے بعد واشنگٹن اور تہران کے درمیان طے پانے والے عبوری امن معاہدے کو مستقل علاقائی ڈیل میں بدلنے کے لیے سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں، جس کے سلسلے میں امریکی ایلچی سٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی ایک اہم مشن پر سوئٹزرلینڈ روانہ ہو رہے ہیں۔ امریکی ویب سائٹ ‘ایکسیوس’ کے مطابق سٹیو وٹکوف سوئٹزرلینڈ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کے ہمراہ اس اعلیٰ سطحی بیٹھک کا حصہ بنیں گے، جبکہ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے بھی ہفتے کے روز وہاں پہنچنے کی توقع ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب محض ایک دن قبل لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان شدید لڑائی کے باعث امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اپنا دورہ منسوخ کر دیا تھا، جس سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور عالمی تیل کی سپلائی کی بحالی پر سوالیہ نشان لگ گیا تھا۔

دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے 14 نکاتی عبوری معاہدے کے تحت فریقین کو ایران کے جوہری پروگرام اور دیگر پیچیدہ علاقائی تنازعات کو حل کرنے کے لیے 60 دن کا وقت ملا ہے۔ ایک سینیئر امریکی اہلکار نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ اور قطر کے مذاکرات کاروں نے ایران کے تعاون سے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان بھی جنگ بندی ممکن بنا دی ہے، جس کی تصدیق دونوں اطراف سے کی گئی ہے۔ ایک اسرائیلی اہلکار کا کہنا تھا کہ اگر حزب اللہ حملہ نہیں کرتی تو ہمارے لیے یہ جنگ کا وقت نہیں، تاہم اسرائیلی فوج سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر جنوبی لبنان میں موجود رہے گی۔ دوسری جانب لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق جنگ بندی سے چند گھنٹے قبل اسرائیلی فضائی حملوں میں 47 لبنانی شہری ہلاک ہوئے، جبکہ اسرائیل نے بھی اپنے چار فوجیوں کی ہلاکت کا اعتراف کیا ہے۔