LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
حکومت بلوچستان اور دھرنا کمیٹی کے مذاکرات کامیاب، تحریری معاہدہ طے پا گیا ایرانی وزارت توانائی کی شہریوں سے بجلی کا استعمال کم کرنے کی اپیل 27 جولائی کو جب کشمیر میں ڈبے کھلیں گے تو ہر طرف شیر ہی شیر ہوگا: مریم اورنگزیب خطے کے پانیوں میں امریکی فوج کی نقل و حرکت، انکے فوجی ساز و سامان پر نظر ہے: ایران فارما سیوٹیکل صنعت کو عالمی سطح پر نمایاں کرنے کا منصوبہ پیش کر دیا: مصطفیٰ کمال خلائی سائنسدانوں کے استعفوں کے بعد مودی سرکار پریشان، رضاکارانہ ریٹائرمنٹ اور استعفوں پر پابندی لگادی پٹرولیم قیمتوں کی ڈی ریگولیشن مسترد، پٹرول پمپ مالکان کی ہڑتال کی دھمکی پاسدارانِ انقلاب کا قطر میں امریکی العدید ایئر بیس کو نشانہ بنانے کا دعویٰ عوام پر مہنگائی کا ایک اور بم: پٹرول 5 روپے 44 پیسے اور ڈیزل ریکارڈ 31 روپے 5 پیسے مہنگا ایرانی حملے میں بجلی اور ڈی سیلینیشن پلانٹ کو نقصان پہنچا: کویت امریکا نے غیرملکی طلبہ اور صحافیوں کے ویزا قوانین سخت کر دیے، قیام کی مدت مقرر پیٹرولیم مصنوعات:حکومتی اقدام کو “لوٹ مار” اور “ڈاکہ” قرار,حافظ نعیم الرحمان اوگرا روزانہ کی بنیاد پر پٹرولیم قیمتوں کا تعین کرے گی: وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری سے پورٹ قاسم کی ترقی کا نیا دور شروع ہوگا: معظم الیاس عام انتخابات 2026: آزاد کشمیر میں جدید رزلٹ مینجمنٹ سسٹم متعارف کرانے کی تیاری

امریکہ کا یوکرین کیلئے مختص ہتھیاروں کو مشرق وسطیٰ منتقل کرنے پر غور

Web Desk

27 March 2026

واشنگٹن ڈی سی: امریکی اخبار ‘واشنگٹن پوسٹ’ نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف جاری حالیہ کشیدگی اور مشرقِ وسطیٰ میں فوجی وسائل پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیشِ نظر یوکرین کے لیے مختص ہتھیاروں کو ری ڈائریکٹ (Redirect) کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، نیٹو (NATO) کی مالی معاونت سے خریدے گئے فضائی دفاعی میزائلوں کو دوبارہ تعینات کر کے مشرقِ وسطیٰ منتقل کیے جانے کا امکان ہے، جو یوکرین کی دفاعی صلاحیتوں کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتا ہے۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیل اور امریکہ کی عسکری سرگرمیاں خطے میں پھیل رہی ہیں اور امریکی فوج کو اپنے وسائل کی ترجیحات طے کرنے میں دشواری کا سامنا ہے۔ پینٹاگون کے ترجمان نے اس ممکنہ فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پینٹاگون کا بنیادی مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ امریکی افواج اور ان کے اتحادی و شراکت دار کسی بھی جنگی صورتحال میں کامیاب ہونے کے لیے ضروری وسائل سے لیس رہیں۔

سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ہتھیاروں کی اس ممکنہ منتقلی سے یوکرین کے اہم دفاعی نظاموں تک رسائی بری طرح متاثر ہو سکتی ہے، جبکہ دوسری جانب خطے میں جنگ بندی کے لیے سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔ ماہرین کے مطابق، امریکہ کا یہ قدم اس بات کی علامت ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کا بحران اب یوکرین کی جنگ پر بھی اثر انداز ہونا شروع ہو گیا ہے، جس سے عالمی دفاعی توازن تبدیل ہو سکتا ہے۔