LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
مکہ دفاعی معاہدہ امن، سلامتی، خوشحالی کی جانب اہم سنگِ میل ہے:سعودی وزیرِ خارجہ صارفین پر ایک اور بوجھ: نیپرا نے بجلی کی قیمت میں اضافہ کر دیا امریکا پاکستان تعلقات میں پیش رفت کا سلسلہ جاری ہے، امریکی سفارتخانہ آزاد کشمیر میں مرحلہ وار الیکشن دھاندلی کیلئے کرائے گئے: بلاول بھٹو پھر برس پڑے مالیاتی نظام میں ڈیجیٹل جدت اور اے آئی کا کردار کلیدی ہے: گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد پی سی بی نے نیشنل چیمپئنز کپ کے میچ آفیشلز پینل کا اعلان کر دیا تھائی لینڈ میں سکول میں فائرنگ سے 7 افراد ہلاک، 15 زخمی میں مذاکرات کی دعوتیں دے دے کر تھک گیا ہوں، اپوزیشن بات چیت چاہتی ہی نہیں چین نے افغانستان میں موجود دہشتگرد تنظیموں کو ہمسایہ ممالک کیلئے سنگین خطرہ قرار دیدیا مون سون کے بعد خستہ حال عمارتوں کا سروے کرایا جائے، وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت سعودی ولی عہد اور فرانسیسی صدر میں رابطہ، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال سلامتی کونسل کی جانب سے سوات میں دہشت گرد حملے کی مذمت خون میں مائیکرو پلاسٹک کی موجودگی دل کے شدید دورے کے خطرے سے منسلک، نئی تحقیق حوثی باغیوں کا سعودی عرب پر حملہ، ایک پاکستانی سمیت 11 شہری زخمی پاکستان، سعودیہ، ترکیہ کا سربراہی اجلاس آج، مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط متوقع

اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری سے پورٹ قاسم کی ترقی کا نیا دور شروع ہوگا: معظم الیاس

Web Desk

17 July 2026

چیئرمین پورٹ قاسم اتھارٹی ریئر ایڈمرل (ر) سید معظم الیاس نے دنیا نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ یو اے ای، ترکیہ، قطر اور چین کی جانب سے پورٹ قاسم میں 30 سالہ منصوبے کے تحت تقریباً 2 ارب ڈالر کی نئی سرمایہ کاری متوقع ہے، جس سے ملکی بندرگاہی انفراسٹرکچر میں ترقی کا نیا دور شروع ہوگا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ریکوڈک مائننگ کمپنی بھی پورٹ قاسم میں براہِ راست 15 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی اور معدنیات کی ترسیل کے لیے ریلوے ٹریک پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔ مزید برآں، ایم ایل ون منصوبے کے تحت پپری سے پورٹ قاسم تک نئی ریلوے لائن تعمیر کی جا رہی ہے جو مستقبل میں تھر کے کوئلے کی ترسیل اور ملکی برآمدات کے لیے استعمال ہوگی۔ سید معظم الیاس کے مطابق، بندرگاہ پر 25 کروڑ ڈالر کی لاگت سے ڈریجنگ آپریشن کے پہلے مرحلے کا آغاز ہو چکا ہے، جس کی تکمیل کے بعد 18 میٹر گہرائی والے دنیا کے جدید اور انتہائی بڑے بحری جہاز بھی یہاں لنگر انداز ہو سکیں گے۔