LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
افغان طالبان رجیم کے 8 ڈرونز پاکستانی حدود میں داخل، تمام مار گرائے وزیراعظم کی بوسنیا کے صدارتی کونسل کے چیئرمین سے ملاقات، عالمی امور پر تبادلہ خیال وزیراعظم کی عالمی رہنماؤں، بل گیٹس سے ملاقاتیں، سرمایہ کاری میں تعاون بڑھانے پر اتفاق اسلام آباد: وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی امریکی سفیر نیٹلی بیکر سے ملاقات محسن نقوی کی سربراہ پاسداران انقلاب سے ملاقات، مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر گفتگو آبنائے ہرمز میں جہازوں کیلئے نئی پابندی، خلاف ورزی پر بھاری جرمانہ مقرر مسلسل اصلاحات اور مضبوط ذخائرپاکستان کے معاشی منظر نامےکو سہارا دے رہے ہیں: اے ڈی بی او آئی سی مسئلہ کشمیر کو عالمی ایجنڈے پر سرفہرست رکھے: اسحاق ڈار پاکستان اور سعودی عرب: بھائی چارے سے بالاتر ایک اتحاد، 96 واں سعودی قومی دن پی ٹی آئی لانگ مارچ: پنجاب حکومت کی فوج و رینجرز کی تعیناتی کی درخواست پنجاب بھر میں انٹرمیڈیٹ پارٹ ٹو کے سالانہ امتحانات کے نتائج جاری ایران نے اپنا مؤقف اور شرائط امریکا تک پہنچا دیں: اسماعیل بقائی سعودی قومی دن پر صدرِ مملکت اور وزیر اعظم کی شاہ سلمان اور محمد بن سلمان کو مبارکباد اقتصادی جائزہ مذاکرات کیلئے آئی ایم ایف کا وفد پاکستان پہنچ گیا علم اور اخلاق جارح دشمن کا ہاتھ کاٹ سکتے ہیں، ایرانی سپریم لیڈر

امریکا نے غیرملکی طلبہ اور صحافیوں کے ویزا قوانین سخت کر دیے، قیام کی مدت مقرر

Web Desk

17 July 2026

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے غیرملکی طلبہ، ثقافتی تبادلہ پروگراموں کے شرکا اور غیرملکی صحافیوں کے لیے ویزا قوانین مزید سخت کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

امریکی محکمہ داخلی سلامتی (DHS) کی جانب سے جاری کیے گئے نئے حتمی ضابطوں کے مطابق ایف (F) اسٹوڈنٹ ویزا اور جے (J) ایکسچینج ویزا رکھنے والوں کے لیے امریکا میں قیام کی زیادہ سے زیادہ مدت چار سال مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ آئی (I) میڈیا ویزا پر آنے والے غیرملکی صحافی زیادہ سے زیادہ 240 روز تک امریکا میں قیام کر سکیں گے۔ چینی صحافیوں کے لیے یہ مدت صرف 90 روز رکھی گئی ہے۔ اس سے قبل ان ویزوں پر امریکا میں قیام کی اجازت متعلقہ تعلیمی پروگرام یا ملازمت کی مدت تک برقرار رہتی تھی۔

نئے ضوابط فیڈرل رجسٹر میں اشاعت کے 60 روز بعد نافذ ہوں گے، تاہم ان کا اطلاق کانگریس کے جائزے سے مشروط ہوگا۔ نئے قوانین کے تحت گریجویٹ طلبہ متعلقہ حکام کی اجازت کے بغیر نہ تو اپنا تعلیمی مقصد تبدیل کر سکیں گے اور نہ ہی کسی دوسرے تعلیمی ادارے میں منتقل ہو سکیں گے۔ اسی طرح تعلیم یا تربیت مکمل ہونے کے بعد امریکا چھوڑنے کے لیے دی جانے والی مہلت بھی 60 دن سے کم کرکے 30 دن کر دی گئی ہے۔محکمہ داخلی سلامتی نے واضح کیا ہے کہ مقررہ مدت سے زیادہ امریکا میں قیام کے خواہش مند افراد توسیع کے لیے درخواست دے سکیں گے یا امریکا سے باہر جا کر دوبارہ داخلے کی اجازت حاصل کرنا ہوگی۔ادھر چین نے امریکی فیصلے کو امتیازی قرار دیتے ہوئے اسے فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لن جیان نے کہا کہ نئی پالیسی 2021 میں امریکا اور چین کے درمیان میڈیا سے متعلق طے پانے والے اتفاق رائے کی خلاف ورزی ہے اور اس سے امریکا میں چینی میڈیا کے معمول کے پیشہ ورانہ فرائض متاثر ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکا نے یہ فیصلہ واپس نہ لیا تو چین مناسب جوابی اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے۔امریکی محکمہ داخلی سلامتی کے مطابق 2024 کے دوران امریکا میں 18 لاکھ سے زائد اسٹوڈنٹ ویزا انٹریاں ریکارڈ کی گئیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 11 فیصد زیادہ ہیں۔ مالی سال 2024 میں امریکا نے 5 لاکھ سے زائد ایکسچینج وزیٹرز اور 37 ہزار 300 غیرملکی میڈیا نمائندوں کو ویزے جاری کیے۔ محکمہ کا مؤقف ہے کہ طلبہ، ایکسچینج پروگراموں کے شرکا اور دیگر غیر تارکین وطن کی بڑھتی ہوئی تعداد کی مؤثر نگرانی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے، جس کے پیش نظر یہ نئے قواعد متعارف کرائے گئے ہیں۔