LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعظم آزادکشمیرکی فوڈ اتھارٹی کو کاغذی کارروائی کے بجائے عملی اقدامات کا حکم درجہ حرارت میں اضافے کا امکان، متعلقہ ادارے الرٹ رہیں: این ڈی ایم اے گورنر پنجاب نے سیلاب متاثرین میں 26 گھروں کی چابیاں تقسیم کردیں پاکستان کی سعودی عرب میں حوثیوں کے حملوں کی شدید مذمت ایرانی صدر کا جارح قوتوں کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان شہباز شریف سے ممتاز صنعت کاروں اور کاروباری شخصیات کے وفد کی ملاقات اسلام آباد جوڈیشل سروس رولز 2011 میں ترمیم منظور، ججز کے تبادلوں کی راہ ہموار قائم مقام صدر یوسف رضا گیلانی نے سینیٹ موبائل ایپلی کیشن کا افتتاح کر دیا حوثیوں کے حملے قابلِ مذمت، پاکستان سعودیہ کی حمایت جاری رکھے گا: وزیراعظم سندھ اسمبلی: جماعت اسلامی کی لیوی ٹیکس ختم کرنے کی قرارداد منظور آئی ٹی برآمدات میں اضافہ؛ پاکستانی ٹیک سیکٹر کی عالمی منڈیوں تک رسائی ٹرمپ کی ایران سے جنگ جیتنے پر تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی کی پیشگوئی اڈیالہ جیل کے 3 قیدیوں کا عمران خان جیسی طبی سہولیات کیلئے آئینی عدالت سے رجوع اقوامِ متحدہ نے معیاری عالمی نقشے میں کشمیر کو متنازعہ علاقہ قرار دے دیا 27 ستمبر احتجاج کیس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کا لارجر بینچ بنانے کا فیصلہ

لائیو نشریات کے دوران نیوز اینکر کی آنکھ لگ گئی، پھر کیا ہوا؟

Web Desk

8 August 2026

امریکہ کی ریاست ٹینیسی کے شہر میمفس سے تعلق رکھنے والی معروف ٹی وی اینکر ڈومینک ڈیلن (Dominique Dillon) اس وقت عالمی سطح پر سوشل میڈیا اور میڈیا کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں، جب وہ لائیو نشریات کے دوران آن ایئر ہی کچھ لمحوں کے لیے سو گئیں۔

ڈومینک ڈیلن فاکس 13 (FOX13) کے مقبول مارننگ شو ’گڈ مارننگ میمفس‘ کی اینکر ہیں۔ 29 جولائی کو لائیو نشریات کے دوران کیمرے کے سامنے اینکر کی سیٹ پر بیٹھے بیٹھے اچانک ان کی آنکھ لگ گئی اور وہ کچھ سیکنڈز کے لیے سو گئیں۔ جب انہوں نے آنکھ کھولی تو کیمرہ اگلے شاٹ پر شفٹ ہو چکا تھا۔ ڈومینک نے بعد میں اعتراف کیا کہ وہ اس واقعے پر بے حد شرمندہ تھیں اور انہیں لگا جیسے وہ کسی ڈراؤنے خواب سے گزر رہی ہوں۔ اسٹوڈیو پروڈیوسرز نے بھی یہی سمجھا تھا کہ وہ اپنے ٹیبلٹ کی سکرین دیکھ رہی ہیں۔

تاہم جب واقعے کی اصل وجہ سامنے آئی تو سوشل میڈیا پر تنقید کے بجائے صارفین نے ان سے بھرپور ہمدردی کا اظہار کیا۔ ڈومینک دو چھوٹے بچوں کی ماں ہیں؛ جن کی بڑی بیٹی دو سال جبکہ چھوٹی بیٹی صرف آٹھ ماہ کی ہے۔ واقعے کی رات ان کے شوہر ڈبل شفٹ پر تھے اور ان کی 8 ماہ کی بیٹی دانت نکلنے کی شدید تکلیف کے باعث رات دیر تک روتی رہی۔ رات 11 بجے بچی کو سلانے کے بعد ڈومینک کو اپنی صبح کی ڈیوٹی کے لیے محض چند گھنٹے کی نیند مل سکی کیونکہ وہ عام طور پر صبح کے شو کے لیے رات ڈیڑھ (1:30) بجے بیدار ہو جاتی ہیں۔

اینکر کے ادارے FOX13 نے بھی ڈومینک کا مکمل دفاع کرتے ہوئے اسے ایک معصومانہ ’پاور نیپ‘ (Power Nap) قرار دیا اور کہا کہ ڈومینک کی اس کہانی نے دنیا بھر میں ملازمت پیشہ ماؤں (Working Mothers) کی کٹھن زندگی، نیند کی کمی اور بچوں کی پرورش کی قربانیوں کو اجاگر کیا ہے۔