LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ٹرمپ کی ایران سے جنگ جیتنے پر تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی کی پیشگوئی اڈیالہ جیل کے 3 قیدیوں کا عمران خان جیسی طبی سہولیات کیلئے آئینی عدالت سے رجوع اقوامِ متحدہ نے معیاری عالمی نقشے میں کشمیر کو متنازعہ علاقہ قرار دے دیا 27 ستمبر احتجاج کیس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کا لارجر بینچ بنانے کا فیصلہ اسلام آباد کو خودمختار یونٹ بنانے پر نیا ٹیکس لگانے کی تجاویز تیار یمن کے حوثی باغیوں کے سعودی شہروں پر حملے، 73 افراد زخمی ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر نان اسٹاپ اے آئی تصاویر اور ویڈیوز پوسٹ کر ڈالیں وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا پاک بحریہ کے افسران اور جوانوں کو خراجِ تحسین ایرانی جوہری تنصیبات تک آئی اے ای اے کو رسائی کے مثبت اثرات ہونگے: رافیل گروسی جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملے، 3 روز میں 27 افراد جاں بحق، 69 زخمی صدرٹرمپ کی کینیڈین کمپنی بمبار ڈیئر کو طیاروں کی فروخت روکنے کی دھمکی آسٹریا میں 14 سال سے کم عمر طالبات کے سکارف پہننے پر پابندی کا قانون نافذ ایران کا امریکی اور اسرائیلی حملوں میں خارگ جزیرے کو 550 مرتبہ نشانہ بنانے کا اعتراف دشمن نے جنگ بارے ایرانی صلاحیت کا درست اندازہ نہیں لگایا: بریگیڈیئر جنرل کیومرث حیدری ایران نے دفاعی ہتھیاروں کی بڑے پیمانے پر پیداوار شروع کردی

اقوامِ متحدہ نے معیاری عالمی نقشے میں کشمیر کو متنازعہ علاقہ قرار دے دیا

Web Desk

8 September 2026

نیویارک / اسلام آباد: اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اپنے معیاری عالمی نقشے میں تبدیلیاں لاتے ہوئے ‘ایکوئل ارتھ’ (Equal Earth) نقشہ اپنانے کی قرارداد کثرتِ رائے سے منظور کر لی ہے، جس میں جموں و کشمیر کو باضابطہ طور پر متنازعہ علاقہ دکھایا گیا ہے۔

منظور کی گئی قرارداد کے تحت روایتی مرکیٹر نقشے کے بجائے ایکوئل ارتھ نقشہ نافذ کیا گیا ہے، جس میں کشمیر کی حدود اور لائن آف کنٹرول (LoC) کو نقطہ دار (dotted line) لکیر سے واضح کیا گیا ہے۔ بھارت سمیت 164 رکن ممالک نے اس قرارداد کی حمایت میں ووٹ دیا۔ عالمی سطح پر بھارت کی جانب سے اس نقشے کے حق میں ووٹ دینے سے نئی دہلی کے مقبوضہ کشمیر کو اپنا “اٹوٹ انگ” اور اندرونی معاملہ قرار دینے کے بیانیے کو شدید زچ پہنچی ہے۔

شدید اندرونی و سیاسی تنقید کے بعد بھارتی وزارتِ خارجہ نے وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس کی حمایت محض نقشے کے جغرافیائی تناسب کی حد تک تھی، سرحدوں کی حد تک نہیں۔ تاہم، ترجمان دفترِ خارجہ پاکستان نے بھارتی وضاحت کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اقوامِ متحدہ کا منظور شدہ نقشہ ہی عالمی سطح پر حتمی اور معتبر ہے جو مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے اصولی موقف اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی توثیق کرتا ہے۔