LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
شہباز شریف نے مسلم لیگ ن خیبرپختونخوا کا اہم اجلاس کل طلب کر لیا حکومت اور پیپلز پارٹی مذاکرات کا دوسرا دور ختم، بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق سعودی سفیر کی خواجہ آصف سے ملاقات، دفاعی تعاون مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ سہیل آفریدی سمیت دیگر ملزمان کے وارنٹ گرفتاری کا حکم نامہ جاری برآمدات میں اضافے کیلئے جی ایس پی پلس فریم ورک سے بھرپور استفادہ کیا جائے: اسحاق ڈار بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے 6 رفقاء کی فہرست جیل حکام کو جمع روہڑی کے قریب ایل پی جی باؤزر دھماکے میں 2 افراد جاں بحق، 4 زخمی مصنوعی ذہانت سے سرکاری اخراجات کم کرنے کا منصوبہ، ہزاروں نوکریاں ختم ہوں گی حوثی ملیشیا کا عدن ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملہ روس اور ایران کے درمیان 8 جوہری پاور یونٹس کی تعمیر کے معاہدوں پر دستخط گھریلو تنازع پر بھائی نے فائرنگ کرکے دو بہنوں کو قتل کردیا ایران کا مستقبل سپریم لیڈر کی ہدایات کے مطابق ہوگا، صدر مسعود پزشکیان انٹربینک میں روپے کی قدر میں بہتری، ڈالر مزید سستا ہوگیا ماسکو میں تیسرے روس افریقہ سربراہی اجلاس کا آغاز، پوتن کا کثیر قطبی عالمی نظام پر زور سیاسی جماعتیں عوامی ریلیف اور عملی اقدامات پر توجہ دیں: شرجیل میمن

شہباز شریف سے ممتاز صنعت کاروں اور کاروباری شخصیات کے وفد کی ملاقات

Web Desk

8 September 2026

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف سے ممتاز صنعت کاروں اور کاروباری شخصیات کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے ملاقات کی، جس میں ملکی معاشی صورتحال، برآمدات میں اضافے اور صنعتی شعبے کو درپیش چیلنجز پر تفصیل سے گفتگو کی گئی۔

وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے بجٹ کی تیاری سے قبل بھی صنعت کاروں کے ساتھ تفصیلی مشاورت کی تھی اور درپیش تمام تر مشکل حالات کے باوجود تاجر برادری کی تجاویز کی روشنی میں بنیاد پرست معاشی اصلاحات نافذ کی گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سخت انفورسمنٹ اقدامات کے ذریعے ایک سال کے دوران 800 ارب روپے کی تاریخی ریکوری ممکن بنائی گئی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے زور دیا کہ ملکی برآمدات میں اضافہ حکومت کی معاشی پالیسی کا بنیادی نقطہ ہے اور ایکسپورٹس بڑھانے کی راہ میں حائل تمام رکاوٹوں کو ترجیحی بنیادوں پر دور کیا جائے گا۔ اس موقع پر تاجر برادری اور صنعت کاروں نے وزیراعظم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے مشاورتی عمل کے تسلسل کو معاشی استحکام کے لیے انتہائی سود مند قرار دیا۔