LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاسپورٹ کے اجراء کو مکمل طور پر ای پاسپورٹ پر منتقل کرنے کا فیصلہ گورنر پنجاب کی پی پی پارلیمنٹیرینز سے ملاقات، عوامی مسائل پر آواز اٹھانے کی ہدایت سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے: پاکستان خیبرپختونخوا کا آئندہ مالی سال کا 2280 ارب روپے کا بجٹ آج پیش کیا جائے گا لبنان، حزب اللہ، اسرائیل سمیت تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی کی توقع رکھتے ہیں: ٹرمپ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ آج سوئٹرز لینڈ میں شروع ہوگا امریکا؛ سپریم کورٹ نے’چرسیوں‘ کو اسلحہ رکھنے کی اجازت دیدی امریکی فوج نے ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کردی مغرب میں جمہوریت اور مشرق میں کمیونزم ناکام، حل اسلامی نظام میں ہے: مولانا فضل الرحمٰن وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا تاریخی ٹیلیفونک رابطہ وزیراعظم نے کفایت شعاری اقدامات میں توسیع کی منظوری دے دی فیلڈ مارشل سے گھانا کے چیف آف ڈیفنس سٹاف کی ملاقات، عسکری تعاون بڑھانے پر اتفاق وزیر اعظم شہباز شریف نے دورہ سوئٹزرلینڈ منسوخ کردیا سہیل آفریدی کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی درخواست سننے والا سنگل بنچ تحلیل اسحاق ڈار سے بحرینی ہم منصب کا رابطہ، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر تبادلہ خیال

امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ آج سوئٹرز لینڈ میں شروع ہوگا

Web Desk

19 June 2026

امریکہ اور ایران کے مابین تاریخی ‘اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت’ (Islamabad Memorandum of Understanding) پر دستخط کے بعد، دونوں حریف ممالک کے مابین امن و مصالحت کے عمل کو حتمی شکل دینے کے لیے مذاکرات کا اگلا کلیدی مرحلہ آج سوئٹزرلینڈ کے خوبصورت اور تزویراتی شہر برجنسٹاک (Bürgenstock) میں شروع ہو رہا ہے۔

سوئس وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق، اس ملاقات کا بنیادی مقصد اب تک طے پانے والے امن نکات اور معاہدے پر تزویراتی عمل درآمد (Implementation) کے روڈ میپ کو واضح کرنا ہے۔

اس اعلیٰ سطحی مذاکراتی عمل میں نہ صرف دونوں بنیادی فریقین (امریکہ اور ایران) آمنے سامنے ہوں گے، بلکہ اس تاریخی کامیابی کو ممکن بنانے والے دو اہم ترین ثالث ممالک پاکستان اور قطر کے اعلیٰ سطحی نمائندے اور سفارت کار بھی برجنسٹاک میں تزویراتی نگرانی کے لیے موجود رہیں گے۔ اگرچہ ماضی قریب میں دونوں سربراہانِ مملکت کے مابین ڈیجیٹل دستخطوں کے بعد وزرائے اعظم کی سطح پر براہِ راست رابطے ہوئے ہیں، تاہم گراؤنڈ لیول پر معاہدے کے نفاذ کے لیے یہ چار ملکی بیٹھک انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔

برجنسٹاک میں ہونے والی اس تزویراتی بات چیت کو انتہائی خفیہ اور حساس رکھا جا رہا ہے، جس کی چند وجوہات درج ذیل ہیں: سوئس حکومت اور متعلقہ وزارتوں کی جانب سے تاحال یہ واضح نہیں کیا گیا کہ اس نازک بات چیت میں امریکہ اور ایران کے کون سے اعلیٰ حکام یا سفارت کار شرکت کر رہے ہیں۔ یہ ملاقات باقاعدہ فیس ٹو فیس (روبرو) ہوگی یا بیک چینل سفارت کاری کا حصہ، اس کی حتمی نوعیت کو بھی تاحال صیغۂ راز میں رکھا گیا ہے۔

نئے اعلامیے کی تبدیلیاں: سوئس حکومت نے میٹنگ کے سیکیورٹی اور سفارتی پروٹوکول کی وجہ سے مزید تفصیلات فراہم کرنے سے معذرت کی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس میٹنگ میں دیگر عالمی طاقتوں یا ممالک کی شرکت سے متعلق تذکرہ بھی سوئس انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ نئے ترمیمی اعلامیے سے نکال دیا گیا ہے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ فوکس صرف بنیادی فریقین اور مرکزی ثالثین پر ہی رہے گا۔

عالمی سفارتی حلقے سوئٹزرلینڈ کے شہر برجنسٹاک میں ہونے والے ان مذاکرات کو مشرقِ وسطیٰ اور بین الاقوامی امن کے لیے ایک عظیم سنگِ میل قرار دے رہے ہیں، جہاں پاکستان کا تزویراتی ثالثی پورٹ فولیو دنیا بھر میں سراہا جا رہا ہے۔