LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ٹرمپ نے جنگ بندی میں توسیع صرف3سے 5روزکےلیے کی، جلد ڈیل چاہتےہیں، امریکی میڈیا اگلے 36سے 72گھنٹوں میں پاکستان میں امریکا ایران مذاکرات ممکن ہیں،ٹرمپ سفارتی میدان میں ہونے والی پیش رفت پر نظررکھے ہوئے ہیں، ایرانی وزارت خارجہ آبنائے ہرمزکے قریب 3بحری جہازوں پر فائرنگ، 2جہازایرانی تحویل میں وزیرِ اعظم شہباز شریف سے ایرانی سفیر کی ملاقات: علاقائی امن اور دوطرفہ تعاون پر اہم گفتگو برطانیہ کی امریکہ ایران مذاکرات میں پاکستان کے ثالثی کردار کی حمایت، اسحاق ڈار اور برطانوی ہائی کمشنر کی ملاقات حکومت اور آئی ایم ایف میں نئی آٹو پالیسی پر اتفاق، ڈیوٹیز میں کمی کا فیصلہ پہلگام واقعہ کے ایک سال بعد بھی بھارت شواہد پیش نہ کر سکا: عطاء اللہ تارڑ ایران جنگ کی مخالفت: ایرانی نژاد امریکی رکن کانگریس یاسمین انصاری کو دھمکیاں زمین کے قدرتی وسائل انسانی زندگی کی بقا کیلئے ناگزیر ہیں: وزیراعظم جنگ کیلئے تیار، جنگ بندی کے دوران صلاحیتیں مزید بہتر بنا رہے ہیں: سینٹ کام ایران سے حقائق پر بات کرنے کے بجائے اسے ٹرخایا گیا، دھمکیاں بھی دی گئیں: روس اقوام متحدہ کا جنگ بندی میں توسیع کا خیر مقدم، پاکستانی کوششوں کی مکمل حمایت امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا دورہ پاکستان منسوخ، وائٹ ہاؤس نے تصدیق کردی ایران نے مذاکرات کے حوالے سے امریکہ کی  شرائط مسترد کردیں: ایرانی سرکاری میڈیا

امریکہ میں غیر قانونی تارکین وطن کی گرفتاریاں ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں

Web Desk

11 November 2025

ہوم لینڈ سیکیورٹی کے مطابق امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کی حراست میں موجود افراد کی تعداد ریکارڈ 66 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔ یہ اضافہ غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کے بعد سامنے آیا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق جنوری سے اب تک ICE کی حراستی آبادی میں 70 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ پالیسی “طلب و رسد” کے اصول پر مبنی ہے، جس کے تحت کسی بھی غیر قانونی تارکِ وطن کو گرفتار کیا جا سکتا ہے، چاہے اس پر کوئی جرم ثابت نہ ہو۔

تازہ رپورٹ کے مطابق زیرِ حراست تقریباً نصف افراد کے خلاف کوئی فوجداری مقدمہ نہیں، جبکہ باقی کے خلاف مختلف الزامات یا سزائیں موجود ہیں۔ حکام کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے ضمانت کے امکانات بھی محدود کر دیے ہیں۔

دوسری جانب امریکی عدالتوں نے بعض حراستی مراکز میں غیر انسانی حالات پر تشویش کا اظہار کیا ہے، جبکہ محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے کہا ہے کہ عوامی تحفظ کے لیے کارروائیاں جاری رہیں گی۔