LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
نیویارک سٹی میں پرائمری اور مڈل اسکول کے طلبہ کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال پر پابندی کا فیصلہ سیکورٹی خدشات کے باعث ضلع ٹانک میں کرفیو نافذ امریکی ریاست منی سوٹا میں فائرنگ، 2 افراد ہلاک، حملہ آور بھی ہلاک برنی سینڈرز کی ٹرمپ پر کڑی تنقید، ایران جنگ ختم کرنے کا مطالبہ سعودی عرب کی آبنائے ہرمز میں سعودی آئل ٹینکر پر ایرانی حملے کی مذمت شادی کی تقریب میں حملہ: ایرانی ہلال احمر سوسائٹی کا تحقیقات کیلئے عالمی عدالت سے رجوع روس خفیہ طور پر ایران کو جدید سپر سونک کروز میزائل تیار کرنے میں مدد دے رہا: برطانوی میڈیا جرمنی میں ڈرون حملے کی کوشش، یورپی یونین کا روس پر دباؤ بڑھانے کا اعلان ایران نے شادی کی تقریب پر حملے کو واشنگٹن کی اخلاقی گراوٹ کی ایک اور مثال قرار دیدیا امریکی حملوں میں 19 افراد شہید، 108 زخمی ہوئے: ایرانی وزیر صحت کی تصدیق ایران اسرائیل کیساتھ دوبارہ جنگ سے پہلے امریکی اڈوں کو نشانہ بنا رہا: عالمی تجزیہ کار صومالی تنظیم الشباب اور یمنی حوثیوں کے درمیان فوجی تعاون بڑھانے کی اطلاعات میری ٹائم اتحاد میں شمولیت کیلئے ضروری مراحل مکمل کر لیے گئے، سعودی وزارت دفاع جنگ بندی کے باوجود رواں سال غزہ میں اسرائیلی حملوں سے 900 سے زائد فلسطینی شہید: وزارتِ صحت جغرافیائی، سیاسی کشیدگی: 86 ٹن سونا امریکا اور کینیڈا سے برطانیہ منتقل

امریکہ میں غیر قانونی تارکین وطن کی گرفتاریاں ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں

Web Desk

11 November 2025

ہوم لینڈ سیکیورٹی کے مطابق امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کی حراست میں موجود افراد کی تعداد ریکارڈ 66 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔ یہ اضافہ غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کے بعد سامنے آیا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق جنوری سے اب تک ICE کی حراستی آبادی میں 70 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ پالیسی “طلب و رسد” کے اصول پر مبنی ہے، جس کے تحت کسی بھی غیر قانونی تارکِ وطن کو گرفتار کیا جا سکتا ہے، چاہے اس پر کوئی جرم ثابت نہ ہو۔

تازہ رپورٹ کے مطابق زیرِ حراست تقریباً نصف افراد کے خلاف کوئی فوجداری مقدمہ نہیں، جبکہ باقی کے خلاف مختلف الزامات یا سزائیں موجود ہیں۔ حکام کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے ضمانت کے امکانات بھی محدود کر دیے ہیں۔

دوسری جانب امریکی عدالتوں نے بعض حراستی مراکز میں غیر انسانی حالات پر تشویش کا اظہار کیا ہے، جبکہ محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے کہا ہے کہ عوامی تحفظ کے لیے کارروائیاں جاری رہیں گی۔