LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
لبنانی وزیراعظم کی ایرانی صدر سے ملاقات، خودمختاری کے احترام پر زور لانگ مارچ کی تیاریوں پر اپوزیشن کی بڑی بیٹھک، خیبرپختونخوا کی صورتحال کا جائزہ نیتن یاہو کا جہاز گزرنے کیوں دیا؟ ایمنسٹی انٹرنیشنل کا فرانس پر دوہرے معیار کا الزام 80 ممالک کا آبنائے ہرمز کھولنے کا مطالبہ، ایران، حوثیوں کے حملوں کی شدید مذمت فرانس کا سعودی اہم بندرگاہ ینبع کے تحفظ کیلئے فوجی وسائل فراہم کرنے کا اعلان ٹرمپ کی تین خبر رساں اداروں پر عائد پابندی غیر آئینی قرار امید ہے ترکیہ دوبارہ امریکا کے F-35 لڑاکا طیارے کے پروگرام میں شامل ہو جائیگا: اردگان روسی علاقوں پر رات گئے یوکرینی ڈرون حملے: 40 ڈرون تباہ، آئل ڈپو کو نقصان امریکا میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر کے باہر اسرائیل مخالف مظاہرہ برطانوی رائل ائیرفورس کا جنگی طیارہ تربیت کے دوران گر کر تباہ جدید ترین امریکی لڑاکا طیارے F-35 کے حساس پرزے چین کے ہاتھ لگ گئے ‘امریکا اور ایران اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی طرف واپس آئیں’ ، چینی صدر شی جن پنگ کا صدر ٹرمپ سے مطالبہ سی این این سمیت 3 بڑے میڈیا اداروں کے نمائندوں کو بالآخر وائٹ ہاؤس میں داخلے کی اجازت مل گئی سعودی اتحادی فورس کا حوثی ملیشیا کے 6 بیلسٹک میزائل تباہ کرنے کا دعویٰ مصطفیٰ کمال نے پاکستان کو بچانے کیلئے نئے صوبے لازم و ملزوم قرار دیدیئے

امریکہ میں غیر قانونی تارکین وطن کی گرفتاریاں ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں

Web Desk

11 November 2025

ہوم لینڈ سیکیورٹی کے مطابق امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کی حراست میں موجود افراد کی تعداد ریکارڈ 66 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔ یہ اضافہ غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کے بعد سامنے آیا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق جنوری سے اب تک ICE کی حراستی آبادی میں 70 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ پالیسی “طلب و رسد” کے اصول پر مبنی ہے، جس کے تحت کسی بھی غیر قانونی تارکِ وطن کو گرفتار کیا جا سکتا ہے، چاہے اس پر کوئی جرم ثابت نہ ہو۔

تازہ رپورٹ کے مطابق زیرِ حراست تقریباً نصف افراد کے خلاف کوئی فوجداری مقدمہ نہیں، جبکہ باقی کے خلاف مختلف الزامات یا سزائیں موجود ہیں۔ حکام کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے ضمانت کے امکانات بھی محدود کر دیے ہیں۔

دوسری جانب امریکی عدالتوں نے بعض حراستی مراکز میں غیر انسانی حالات پر تشویش کا اظہار کیا ہے، جبکہ محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے کہا ہے کہ عوامی تحفظ کے لیے کارروائیاں جاری رہیں گی۔