LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
فیلڈ مارشل عاصم منیر سے امریکی وفد کی ملاقات، خطے کی صورتحال پر گفتگو سیاسی کشیدگی سے سب کا نقصان ہوگا، تھرڈ فورس آنے سے پہلے معاملات حل کیے جائیں: بیرسٹر گوہر وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت پی ایم اسپیشل ریلیف اسکیم کا جائزہ اجلاس، فیول سبسڈی کے لیے سہولت ڈیسک قائم کرنے کی ہدایت پاکستان کو پہلے پائیدار سویرن پانڈا بانڈ کے اجرا پر 2026 اے پی اے سی کلائمیٹ بانڈز ایوارڈ سے نواز دیا گیا پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی میں افغان سرزمین استعمال ہورہی ہے ، طلال چودھری ایران اور امریکا مزید کشیدگی روک کر مذاکرات کی طرف واپس آئیں: چین وزیراعظم کا چھوٹے کاروبار کی معاونت کے لیے حکمت عملی بنانے کا حکم عمران خان کی ہسپتال منتقلی کا کیس: سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل سے معاونت طلب کر لی 27 ستمبر لانگ مارچ سے قبل پی ٹی آئی رہنماؤں کو ہراساں اور گرفتار نہ کرنے کا حکم چین پاکستان میں جدید طرز کے لا انفورسمنٹ سینٹر کے قیام میں تعاون کرے گا پٹرولیم لیوی کا خاتمہ چاہیے، خیرات نہیں، حافظ نعیم الرحمان اوزون تہہ کا تحفظ نئی نسل کے محفوظ مستقبل کی ضمانت ہے، مریم نواز مکہ پر ڈرون حملے کی کوشش قابل مذمت، حرمین شریفین کے تحفظ کیلئے سعودیہ کیساتھ ہیں: وزیراعظم او آئی سی کی مقدس مقامات پر حملوں کی مذمت، سعودی عرب سے مکمل یکجہتی کا اعلان پاکستان کا بھارتی طیاروں کے لیے فضائی حدود کی پابندی میں23اکتوبر تک توسیع کا اعلان

امریکہ میں غیر قانونی تارکین وطن کی گرفتاریاں ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں

Web Desk

11 November 2025

ہوم لینڈ سیکیورٹی کے مطابق امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کی حراست میں موجود افراد کی تعداد ریکارڈ 66 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔ یہ اضافہ غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کے بعد سامنے آیا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق جنوری سے اب تک ICE کی حراستی آبادی میں 70 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ پالیسی “طلب و رسد” کے اصول پر مبنی ہے، جس کے تحت کسی بھی غیر قانونی تارکِ وطن کو گرفتار کیا جا سکتا ہے، چاہے اس پر کوئی جرم ثابت نہ ہو۔

تازہ رپورٹ کے مطابق زیرِ حراست تقریباً نصف افراد کے خلاف کوئی فوجداری مقدمہ نہیں، جبکہ باقی کے خلاف مختلف الزامات یا سزائیں موجود ہیں۔ حکام کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے ضمانت کے امکانات بھی محدود کر دیے ہیں۔

دوسری جانب امریکی عدالتوں نے بعض حراستی مراکز میں غیر انسانی حالات پر تشویش کا اظہار کیا ہے، جبکہ محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے کہا ہے کہ عوامی تحفظ کے لیے کارروائیاں جاری رہیں گی۔