LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعظم آزادکشمیرکی فوڈ اتھارٹی کو کاغذی کارروائی کے بجائے عملی اقدامات کا حکم درجہ حرارت میں اضافے کا امکان، متعلقہ ادارے الرٹ رہیں: این ڈی ایم اے گورنر پنجاب نے سیلاب متاثرین میں 26 گھروں کی چابیاں تقسیم کردیں پاکستان کی سعودی عرب میں حوثیوں کے حملوں کی شدید مذمت ایرانی صدر کا جارح قوتوں کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان شہباز شریف سے ممتاز صنعت کاروں اور کاروباری شخصیات کے وفد کی ملاقات اسلام آباد جوڈیشل سروس رولز 2011 میں ترمیم منظور، ججز کے تبادلوں کی راہ ہموار قائم مقام صدر یوسف رضا گیلانی نے سینیٹ موبائل ایپلی کیشن کا افتتاح کر دیا حوثیوں کے حملے قابلِ مذمت، پاکستان سعودیہ کی حمایت جاری رکھے گا: وزیراعظم سندھ اسمبلی: جماعت اسلامی کی لیوی ٹیکس ختم کرنے کی قرارداد منظور آئی ٹی برآمدات میں اضافہ؛ پاکستانی ٹیک سیکٹر کی عالمی منڈیوں تک رسائی ٹرمپ کی ایران سے جنگ جیتنے پر تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی کی پیشگوئی اڈیالہ جیل کے 3 قیدیوں کا عمران خان جیسی طبی سہولیات کیلئے آئینی عدالت سے رجوع اقوامِ متحدہ نے معیاری عالمی نقشے میں کشمیر کو متنازعہ علاقہ قرار دے دیا 27 ستمبر احتجاج کیس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کا لارجر بینچ بنانے کا فیصلہ

ایک ہی فلائٹ نمبر کے دو طیارے آمنے سامنے، مسافر بال بال بچ گئے

Web Desk

15 August 2026

امریکا میں ایئر ٹریفک کنٹرولر کی بروقت حاضردماغی اور مہارت نے ایک ہی فلائٹ نمبر سے پرواز کرنے والے دو مسافر طیاروں کو ممکنہ حادثے اور تصادم سے بچا لیا۔ امریکی فضائی کمپنی ‘امریکن ایئرلائنز’ کے دو مختلف طیارے اتفاقاً ایک ہی کال سائن اور فلائٹ نمبر 2482 کے تحت پرواز کر رہے تھے، جن میں سے ایک طیارہ شکاگو سے فینکس پہنچ رہا تھا جبکہ دوسرا فینکس ایئرپورٹ سے پرواز کر کے روانہ ہو رہا تھا۔ دونوں طیاروں کا ایک ہی فلائٹ نمبر ہونے کی وجہ سے شدید خطرہ پیدا ہو گیا تھا کہ پائلٹس ایئر ٹریفک کنٹرول کی جانب سے ملنے والی ہدایات کو غلط سمجھ کر کسی خطرناک صورتحال سے دوچار ہو سکتے ہیں، بالخصوص اس وقت جب دونوں کے فضائی راستے ایک دوسرے کے انتہائی قریب آ چکے تھے۔

صورتحال کی نزاکت کو فوری بھانپتے ہوئے ایئر ٹریفک کنٹرولر نے حاضر دماغی کا مظاہرہ کیا اور دونوں طیاروں کو باہم الجھن سے بچانے کے لیے الگ الگ شناختی نام دے دیے، جس کے تحت آنے والے طیارے کو ‘ارائیول’ اور جانے والے طیارے کو ‘ڈیپارچر’ کہہ کر ہدایات دینا شروع کر دیں۔ اس کے ساتھ ہی کنٹرولر نے فضا میں حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے لینڈنگ کرنے والے طیارے کو زیادہ بلندی پر رکھا جبکہ ٹیک آف کرنے والے طیارے کو عارضی طور پر مزید اوپر جانے سے روک دیا، جس سے دونوں کے درمیان محفوظ فاصلہ برقرار رہا۔ کنٹرولر کے اس ہنگامی و سمارٹ اقدام کے باعث دونوں پروازیں بحفاظت اپنی منزلوں کی جانب گامزن ہو گئیں اور ایک بڑا حادثہ ٹل گیا۔