LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
تیل کی قیمتیں کم رکھنا امریکا کی پہلی ، ایران کو جوہری ہتھیاروں سے روکنا دوسری ترجیح ہے: جے ڈی وینس انڈونیشیا میں زلزلے سے جانی نقصان پر وزیراعظم کا اظہار افسوس آزاد کشمیر الیکشن: نتائج کو’’فارم 47 پلس‘‘ کے نام سے یاد رکھا جائیگا: شرجیل میمن نیویارک کی تاریخی پاکستان ڈے پریڈ 42ویں سال میں داخل، بلال سعید پہلی بار میڈیسن ایونیو پر سر بکھیریں گے شور پرود کے پہاڑی سلسلے میں سکیورٹی فورسز کا کامیاب آپریشن،10 دہشت گرد ہلاک آزاد کشمیر میں عوام نے انتشار اور تشدد کی سیاست کو مسترد کر دیا: مریم نواز دنیا کے کسی معاشرے نے خواتین کو محکوم رکھ کر ترقی نہیں کی: چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ مخالفین کیساتھ ہمیشہ اچھا سلوک کیا، امید نہیں تھی کہ پیپلزپارٹی کی طرف سے شکایت کا موقع ملے گا: نوازشریف مسلم لیگ ن کی مرکزی قیادت کا اجلاس شروع، آزادکشمیر میں حکومت سازی پر غور بھارتی حکام نے میرواعظ عمر فاروق کو ایک بار پھر گھر میں نظر بند کردیا لبنانی حکومت فوج کو اسرائیلی دباؤ میں لانے کی کوشش کر رہی ہے: حزب اللہ انڈونیشیا میں 7.7 شدت کا زلزلہ، سونامی کا خطرہ ٹل گیا، 20 افراد جاں بحق وزیراعظم کی سیلاب متاثرین کو ہر ممکن امداد فراہم کرنے کی ہدایت آسمان کی طرف دیکھ رہا ہوں، بے گناہ لوگ جیلوں میں قید ہیں: شیخ رشید امریکا ایران مذاکرات میں ڈیڈ لاک، عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ

ایک ہی فلائٹ نمبر کے دو طیارے آمنے سامنے، مسافر بال بال بچ گئے

Web Desk

15 August 2026

امریکا میں ایئر ٹریفک کنٹرولر کی بروقت حاضردماغی اور مہارت نے ایک ہی فلائٹ نمبر سے پرواز کرنے والے دو مسافر طیاروں کو ممکنہ حادثے اور تصادم سے بچا لیا۔ امریکی فضائی کمپنی ‘امریکن ایئرلائنز’ کے دو مختلف طیارے اتفاقاً ایک ہی کال سائن اور فلائٹ نمبر 2482 کے تحت پرواز کر رہے تھے، جن میں سے ایک طیارہ شکاگو سے فینکس پہنچ رہا تھا جبکہ دوسرا فینکس ایئرپورٹ سے پرواز کر کے روانہ ہو رہا تھا۔ دونوں طیاروں کا ایک ہی فلائٹ نمبر ہونے کی وجہ سے شدید خطرہ پیدا ہو گیا تھا کہ پائلٹس ایئر ٹریفک کنٹرول کی جانب سے ملنے والی ہدایات کو غلط سمجھ کر کسی خطرناک صورتحال سے دوچار ہو سکتے ہیں، بالخصوص اس وقت جب دونوں کے فضائی راستے ایک دوسرے کے انتہائی قریب آ چکے تھے۔

صورتحال کی نزاکت کو فوری بھانپتے ہوئے ایئر ٹریفک کنٹرولر نے حاضر دماغی کا مظاہرہ کیا اور دونوں طیاروں کو باہم الجھن سے بچانے کے لیے الگ الگ شناختی نام دے دیے، جس کے تحت آنے والے طیارے کو ‘ارائیول’ اور جانے والے طیارے کو ‘ڈیپارچر’ کہہ کر ہدایات دینا شروع کر دیں۔ اس کے ساتھ ہی کنٹرولر نے فضا میں حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے لینڈنگ کرنے والے طیارے کو زیادہ بلندی پر رکھا جبکہ ٹیک آف کرنے والے طیارے کو عارضی طور پر مزید اوپر جانے سے روک دیا، جس سے دونوں کے درمیان محفوظ فاصلہ برقرار رہا۔ کنٹرولر کے اس ہنگامی و سمارٹ اقدام کے باعث دونوں پروازیں بحفاظت اپنی منزلوں کی جانب گامزن ہو گئیں اور ایک بڑا حادثہ ٹل گیا۔