LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان میں معاشی شرح نموسست، مہنگائی میں اضافے کا خدشہ،آئی ایم ایف کی آؤٹ لک رپورٹ صدرزرداری سے وزیراعظم کی ملاقات، پاک ایران مذاکرات کے تمام پہلوؤں پر اعتماد میں لیا وزیراعظم شہباز شریف کل سعودی عرب روانہ ہوں گے؛ ایک ماہ میں دوسرا دورہ اسحاق ڈار کی یورپی یونین خارجہ امور سے رابطہ، پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا گیا پاک فضائیہ جدید ٹیکنالوجی سے لیس مضبوط فورس ہے: نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف امریکہ ایران مذاکرات کی ناکامی شرمناک ہے، مسلم ممالک متحد ہوں تو دشمن کچھ نہیں؛ امیر جماعت اسلامی اسحاق ڈار کا کینیڈین ہم منصب سے رابطہ، امریکا ایران مذاکرات پر تبادلہ خیال مشرقِ وسطیٰ بحران کے اثرات؛ ملک میں بجلی کا بڑا بریک ڈاؤن وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا اہم انٹرویو؛ پاکستان کا ایک ارب ڈالر کے پانڈا بانڈز اور نئے مالیاتی ذرائع کی تلاش کا اعلان واشنگٹن میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان براہِ راست مذاکرات آج ہوں گے صدر مسعود پزشکیان کی ایمانوئل میکرون سے گفتگو؛ امریکا کے ساتھ تنازع ختم کرانے کے لیے یورپی یونین سے کردار ادا کرنے کا مطالبہ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا گرین زون میں آغاز محمد اورنگزیب کی سربراہ سعودی فنڈ سے ملاقات، اقتصادی تعاون بڑھانے پر اتفاق ایران کا جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات کا معاوضہ ادا کرنے کا مطالبہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی بہت کمزور ہے: چین

یو این سیکرٹری جنرل کے ذاتی مندوب کی ایران کے دورے کی تیاریاں

Web Desk

8 April 2026

اقوامِ متحدہ کے ذرائع کے مطابق، یو این سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کے ذاتی مندوب نے جنگ کے خاتمے اور سفارتی حل کی تلاش کے لیے ایران کا دورہ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ یہ دورہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو کم کرنے کی عالمی کوششوں کا حصہ ہے، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ اس مشن کی حتمی تاریخوں کا انحصار سیکیورٹی صورتحال اور لاجسٹکس کے انتظامات پر ہوگا۔

یاد رہے کہ اقوامِ متحدہ کے تجربہ کار سفارتکار جین آر نالٹ، جنہیں اس اہم مشن کی ذمہ داری سونپی گئی ہے، گزشتہ پیر کو مشرقِ وسطیٰ پہنچے تھے۔ اگرچہ اقوامِ متحدہ نے تاحال جین آر نالٹ کے دورے کی تفصیلی تفصیلات یا ملاقاتوں کا ایجنڈا فراہم نہیں کیا ہے، لیکن سفارتی حلقے اسے خطے میں پائیدار امن کی جانب ایک اہم قدم قرار دے رہے ہیں۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی سطح پر جنگ بندی کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے اور تمام نظریں تہران میں ہونے والے ممکنہ مذاکرات پر لگی ہوئی ہیں۔