امریکا کے ساتھ عبوری معاہدے پر عملدرآمد تک مذاکرات نہیں ہوں گے: عراقچی
Web Desk
9 August 2026
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان اس وقت کوئی براہِ راست مذاکرات نہیں ہو رہے اور ایران اس وقت تک امریکا کے ساتھ گفتگو کا آغاز نہیں کرے گا جب تک واشنگٹن جون میں طے پانے والے عبوری معاہدے کی خلاف ورزی سے باز نہیں آتا۔برطانوی خبر رساں ایجنسی (روئٹرز) کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اس وقت صرف ثالثوں کے ذریعے سفارتی پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے اہم انکشافات و نکات درج ذیل ہیں:آبنائے ہرمز اور عمان (مسقط) معاہدہ: تہران اور مسقط کے درمیان آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کے حوالے سے ایک معاہدہ حتمی مراحل میں داخل ہو چکا ہے، جس میں بحری آمدورفت کے لیے نئے روٹس (Maritime Routes) کی وضاحت کی جائے گی۔بحری راستے کی فوری بحالی کا انکار: معاہدہ حتمی مراحل میں ہونے کے باوجود اس اہم ترین عالمی بحری راستے کو فوری طور پر نہیں کھولا جائے گا۔امریکی شرائط کی پابندی: آبنائے ہرمز کو بحری نقل و حمل کے لیے دوبارہ کھولنا اس بات پر مشروط ہے کہ امریکا پہلے جون کے طے شدہ معاہدے کی تمام دیگر شرائط پر مکمل عمل درآمد کرے۔
متعلقہ عنوانات
وزیراعظم شہباز شریف کی کویتی ولی عہد سے ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق
22 September 2026
اسرائیلی حکومت ٹرمپ کے غزہ منصوبے میں رکاوٹیں ڈال رہی ہے: اردوان
22 September 2026
ایم ون اور ایم 14 سمیت اہم شاہراہیں کل شام سے بند کرنے کا اعلان
22 September 2026
ایران کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، اب مشرق وسطیٰ میں غنڈہ گردی نہیں کر سکتا: ٹرمپ
22 September 2026
8 اسلامی ممالک کا غزہ میں فوری امداد اور اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا کا مطالبہ
22 September 2026
عالمی تقسیم تشویشناک، گوتریس کا جنگیں طاقت سے نہیں مذاکرات سے ختم کرنے پر زور
22 September 2026
امریکا کے پاس گولہ بارود کی کمی نہیں، ذخائر میں ریکارڈ اضافہ ہو رہا ہے: ٹرمپ
22 September 2026
فیلڈ مارشل عاصم منیر سے فرانسیسی سیکرٹری جنرل برائے دفاع و قومی سلامتی کی ملاقات
22 September 2026