LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا، حکومت نے ریلیف سے قبل قیمتیں آسمان پر پہنچا دیں پمز ایم سی ایچ سے نومولود چوری کی کوشش ناکام، دو خواتین اور لڑکی گرفتار پٹرولیم لیوی کے خاتمے تک احتجاج جاری رہے گا: حافظ نعیم الرحمان انڈونیشین نیوی کے سربراہ کی نیول چیف سے ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے کا عزم ملائیشین وزیراعظم سے من گھڑت بیانیہ نکلوانے کی بھارتی کوشش ناکام، انٹرویو پھر سرخیوں میں اسحاق ڈار سے لبنانی وزیر داخلہ کی ملاقات ہوئی، تمام شعبوں میں تعاون پر اتفاق پٹرولیم قیمتوں میں ریلیف، حکومت اور جماعت اسلامی میں اہم ملاقات خیبرپختونخوا دو دن سے لاوارث، سہیل آفریدی سیر سپاٹے کر رہے ہیں: عظمیٰ بخاری سینیٹ کمیٹی میں ایم ڈی کیٹ اور میڈیکل داخلہ نظام میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کی سفارشات افغان میڈیکل طلبہ کی پاکستان میں تعلیم جاری رکھنے کی درخواست پر فیصلہ جاری پٹرولیم مصنوعات پر لیوی ختم کی جائے، حکومت ہوش کے ناخن لے: شرجیل میمن امریکا خلا میں فوجی طاقت بڑھانے کا سلسلہ بند کرے، چین کا مطالبہ باب المندب کی بندش پوری دنیا کیلئے تباہ کن ہوگی: قطر کا اظہارِ تشویش ازبکستان کا 10 رکنی میڈیا وفد 7 روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گیا حکومت ریلیف کا ڈرامہ بند اور پٹرولیم لیوی کا بھتہ ختم کرے: حافظ نعیم

سعودی عرب اور یمن کی متحدہ عرب امارات کے آئل ٹینکر پر حملے کی مذمت

Web Desk

9 August 2026

سعودی عرب اور یمن کی حکومتوں نے بحرین، اردن، قطر اور شام کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز سے گزرنے والے متحدہ عرب امارات (UAE) کے ایک آئل ٹینکر پر ہونے والے حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ متحدہ عرب امارات نے اس بزدلانہ حملے کا براہِ راست الزام ایران پر عائد کیا ہے اور تصدیق کی ہے کہ خوش قسمتی سے اس واقعے میں کوئی جانی نقصان یا عملے کا فرد زخمی نہیں ہوا۔

سعودی وزارتِ خارجہ نے اپنے باضابطہ بیان میں کہا کہ بحری جہازوں پر ایسے قابلِ مذمت حملے عالمی سمندری آمدورفت کی سلامتی، جہاز رانی کے تحفظ اور عالمی توانائی کی پائیدار فراہمی کے نظام پر حملہ تصور کیے جائیں گے۔ سعودی عرب نے ایران کو اس کی مسلسل جارحانہ کارروائیوں کے نتائج کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی پانیوں میں ان خلاف ورزیوں کا سلسلہ فوری طور پر بند کرے۔ دوسری جانب یمن کی وزارتِ خارجہ نے بھی ایک علیحدہ بیان میں اس حملے کو تجارتی جہازوں اور بین الاقوامی بحری گزرگاہوں کی سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے عالمی قوانین اور پاسداری کی تاکید کی ہے۔