LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
گڈز اور منی مزدا ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کا دوسرا روز، گاڑیوں کی روانگی معطل افغان حکومت اپنی سرزمین پاکستان میں دہشتگردی کیلئے استعمال نہ ہونے دے، حافظ نعیم پاکستان، سعودیہ اور ترکیہ کا مکہ باہمی دفاعی معاہدے کے بعد خصوصی نغمہ جاری مریم نواز سے ایم پی ایز کی ملاقات، سیاسی امور، عوامی فلاحی منصوبوں پر تبادلہ خیال کوسوو میں اپوزیشن رکن اسمبلی نے قائم مقام وزیراعظم پر انڈے پھینک دیے سعودی عرب اور یمن کی متحدہ عرب امارات کے آئل ٹینکر پر حملے کی مذمت آزاد جموں و کشمیر قانون اسمبلی کے انتخابات کا تیسرا مرحلہ کل ہوگا آئی ایس پی آر سمر انٹرن شپ پروگرام، ڈاکٹر معید یوسف کی طلبہ کیساتھ خصوصی نشست نائجیریا کی تاریخ کا سب سے بڑا ریسکیو آپریشن، 6ماہ سے جنگل میں قید 308 افراد بازیاب صدر کا قدیم مقامی باشندگان کے حقوق، ثقافت کے تحفظ کیلئے پاکستان کے عزم کا اعادہ محسن نقوی کا لاہور ایئرپورٹ کا دورہ، امیگریشن کے عمل کا جائزہ لیا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ خطے کے کسی ملک کیلئے خطرہ نہیں: سعودی عہدیدار کیریبین جزیرے میں واقع تاریخی آتش فشاں ماؤنٹ پیلے ایک بار پھر فعال اسماء جتک کو دھمکیوں اور اہل خانہ کے قتل کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی قائم واٹس ایپ کا آئی فون صارفین کیلئے اہم فیچر متعارف

عراقی مسلح گروپ کا امریکی اور سعودی حملوں کا بدلہ لینے کا اعلان

Web Desk

9 August 2026

عراق کی شیعہ مسلح تنظیم حرکت حزب اللہ النجباء کے سربراہ اکرم الکعبی نے مشترکہ سعودی-امریکی فضائی حملوں کا سخت فوجی بدلہ لینے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ایک بانی و عسکری بیان میں اکرم الکعبی نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ اب سفارت کاری مکمل طور پر بے فائدہ ثابت ہو چکی ہے اور پاپولر موبلائزیشن فورسز (PMF / الحشد الشعبي) کے ٹھکانوں پر ہونے والے حملوں کا بدلہ لینے کے لیے ریاض کو صرف موزوں عسکری ردِعمل کے ذریعے ہی قابو میں لایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا:

“میزائل کا جواب صرف میزائل سے دیا جا سکتا ہے، اور آگ کا مقابلہ صرف اور صرف آگ سے کیا جائے گا۔”

واضح رہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) اور سعودی عرب نے مشترکہ فضائی کارروائیوں میں عراق میں موجود ایران دوست مسلح گروہوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا۔ ان اداروں کا موقف تھا کہ یہ گروہ امریکی فورسز اور سعودی عرب کے توانائی و تیل کے بنیادی ڈھانچے پر ہونے والے ڈرون و راکٹ حملوں میں ملوث تھے۔ دوسری جانب پاپولر موبلائزیشن فورسز نے تصدیق کی ہے کہ ان مشترکہ فضائی حملوں میں اس کے کم از کم 20 ارکان ہلاک اور 32 زخمی ہوئے تھے۔