LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسرائیل کی سفاکیت کم نہ ہوئی، ڈرون حملے میں مزید 2 فلسطینی شہید، متعدد زخمی یورپ میں شدید گرمی کی لہر برقرار، اموات 4 ہزار سے تجاوز کر گئیں اسرائیلی فوج کے سربراہ کا لبنان میں فیصلہ کن کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں، باقر قالیباف ٹرمپ نے کہا وٹکوف، جیرڈ کشنر دوبارہ ماسکو آنے کیلئے تیار ہیں: ترجمان کریملن صدر ٹرمپ انقرہ میں نیٹو ممالک کے اجلاس میں شرکت کریں گے، وائٹ ہاؤس اوپیک پلس ممالک کا اگست کیلئے تیل کی پیداوار بڑھانے کا فیصلہ امریکی نیوی نے بحیرہ عرب میں لاپتہ اہلکار کی تلاش روک دی گروپ کیپٹن کو شہید کرنے والا ملزم سعد 9 گھنٹوں میں گرفتار کر لیا: آئی جی اسلام آباد وفاقی وزیر احسن اقبال کا دورہ امریکہ: ہیلتھ کیئر اور معاشی ترقی کے لیے سمندر پار پاکستانیوں کو شراکت داری کی دعوت، ٹیلی میڈیسن ماڈل کی تجویز فلسطینی علاقوں پر قبضہ ختم ہونے تک اسرائیل سے تعلقات بحال نہیں ہو سکتے، مصر یمنی فورسز اور حوثیوں کے درمیان جھڑپوں میں 65 اموات کی تصدیق شہید رہبراعلیٰ کے خون کا بدلہ ضرور لیں گے، مشیر ایرانی سپریم لیڈر پشاور: چینی باشندوں کی حفاظت کےلئے فول پروف نظام قائم امریکی صدر کی روسی ہم منصب کو یوکرین جنگ کے حل میں مدد کی پیشکش

برطانیہ میں امیگریشن قوانین سخت؛ غیر قانونی آمد پر مستقل رہائش کیلئے 30 سال انتظار کرنا ہوگا

Web Desk

20 November 2025

برطانیہ نے امیگریشن پالیسی میں سخت ترین اصلاحات کا اعلان کردیا ہے جن کے تحت غیر قانونی طور پر ملک میں داخل ہونے والے افراد کو مستقل رہائش حاصل کرنے کیلئے اب 30 سال تک کا انتظار کرنا پڑے گا۔ نئی پالیسی ان افراد پر بھی لاگو ہوگی جو انسانی حقوق کی بنیاد پر ملک بدری سے بچ نکلیں۔

ہوم سیکریٹری شابانہ محمود کی جانب سے پیش کی گئی مجوزہ اصلاحات کے مطابق وہ غیر قانونی تارکین، جنہوں نے فیملی لائف یا انسانی حقوق کی شق 8 کے تحت کامیاب اپیل کرکے ملک بدری رکوا لی، اب مستقل رہائش کے لیے طویل ترین مدت کا سامنا کریں گے۔

اسی طرح کم ہنر والے کام کرنے والے وہ تارکین جو ریاستی مراعات (benefits) لیتے ہیں، انہیں بھی مستقل رہائش (ILR) حاصل کرنے کے لیے 25 سال تک انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔

حکومت کی نئی مشاورتی دستاویز میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی فرد برطانیہ میں غیر قانونی طور پر داخل ہوا ہو یا بطور وزیٹر آیا ہو تو اس کے لیے سیٹلمنٹ کا دورانیہ بڑھا دیا جائے گا، جو بعض کیسز میں 30 سال تک پہنچ سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ سزائیں ان ناکام اسائلم سیکرز پر بھی لاگو ہوں گی جو قانونی اپیل جیت کر ملک میں رہنے کا حق حاصل کر لیتے ہیں۔
فی الحال قانونی طور پر آنے والے افراد کو 5 سال بعد مستقل رہائش مل جاتی ہے، مگر نئی پالیسی کے تحت یہ دورانیہ تمام کیٹگریز میں بڑھا کر 10 سال کیا جا رہا ہے، جبکہ کچھ خصوصی شعبوں کے لیے الگ مدت رکھی گئی ہے۔

مزید یہ کہ یہ اصلاحات 2021 کے بعد آنے والے تقریباً 20 لاکھ افراد پر بھی لاگو ہوں گی، جس سے امیگریشن نظام میں وسیع پیمانے پر تبدیلی آئے گی۔