LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران پر دوسری جنگِ عظیم جیسی شدت کے حملوں کیلئے تیار ہیں: امریکی وزیر دفاع وزیر اعلیٰ پنجاب کا سرمایہ کاروں کیلئے خصوصی مراعاتی پیکج کا اعلان کے پی پولیس میں انویسٹی گیشن اور آپریشن ونگ الگ الگ کرنے کا فیصلہ امریکی ریاست آئیڈاہو میں فائرنگ، 3 افراد ہلاک، حملہ آور نے خودکشی کر لی شام اور اردن کا عراقی سرزمین سے کسی بھی حملے کا منہ توڑ جواب دینے کا اعلان ایران امریکا کشیدگی میں کمی کیساتھ ہی خام تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ چین کا صوبہ گانسو میں سیلاب سے تباہی کی ذمہ داری کے تعین کیلئے تحقیقات کا اعلان یوکرین کا روس میں ڈرون حملہ، 13 سالہ لڑکی ہلاک، 2 شدید زخمی چین کے سٹیل پلانٹ میں دھماکے کی تحقیقات مکمل، 62 افراد ذمہ دار قرار، 7 گرفتار آسٹریا میں جون کے دوران ہیٹ ویوز کے باعث 395 اموات ریکارڈ پیپر لیک اور امتحانات منسوخی: راہول گاندھی کا مودی سرکار سے معافی مانگنے کا مطالبہ دہشتگرد انسانیت کے دشمن ہیں: حنیف عباسی کی سوات میں خودکش دھماکے کی شدید مذمت ملک سے دہشتگردی کے ناسور کے مکمل خاتمے تک جدوجہد جاری رہے گی: شزہ فاطمہ انتخابات میں کامیابی یا شکست کو جمہوری روایت کے مطابق قبول کیا جانا چاہئے: اختیار ولی خان وزیراعلیٰ سندھ کا بارش سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو، نکاسی آب کے اقدامات تیز کرنے کا حکم

برطانیہ میں امیگریشن قوانین سخت؛ غیر قانونی آمد پر مستقل رہائش کیلئے 30 سال انتظار کرنا ہوگا

Web Desk

20 November 2025

برطانیہ نے امیگریشن پالیسی میں سخت ترین اصلاحات کا اعلان کردیا ہے جن کے تحت غیر قانونی طور پر ملک میں داخل ہونے والے افراد کو مستقل رہائش حاصل کرنے کیلئے اب 30 سال تک کا انتظار کرنا پڑے گا۔ نئی پالیسی ان افراد پر بھی لاگو ہوگی جو انسانی حقوق کی بنیاد پر ملک بدری سے بچ نکلیں۔

ہوم سیکریٹری شابانہ محمود کی جانب سے پیش کی گئی مجوزہ اصلاحات کے مطابق وہ غیر قانونی تارکین، جنہوں نے فیملی لائف یا انسانی حقوق کی شق 8 کے تحت کامیاب اپیل کرکے ملک بدری رکوا لی، اب مستقل رہائش کے لیے طویل ترین مدت کا سامنا کریں گے۔

اسی طرح کم ہنر والے کام کرنے والے وہ تارکین جو ریاستی مراعات (benefits) لیتے ہیں، انہیں بھی مستقل رہائش (ILR) حاصل کرنے کے لیے 25 سال تک انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔

حکومت کی نئی مشاورتی دستاویز میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی فرد برطانیہ میں غیر قانونی طور پر داخل ہوا ہو یا بطور وزیٹر آیا ہو تو اس کے لیے سیٹلمنٹ کا دورانیہ بڑھا دیا جائے گا، جو بعض کیسز میں 30 سال تک پہنچ سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ سزائیں ان ناکام اسائلم سیکرز پر بھی لاگو ہوں گی جو قانونی اپیل جیت کر ملک میں رہنے کا حق حاصل کر لیتے ہیں۔
فی الحال قانونی طور پر آنے والے افراد کو 5 سال بعد مستقل رہائش مل جاتی ہے، مگر نئی پالیسی کے تحت یہ دورانیہ تمام کیٹگریز میں بڑھا کر 10 سال کیا جا رہا ہے، جبکہ کچھ خصوصی شعبوں کے لیے الگ مدت رکھی گئی ہے۔

مزید یہ کہ یہ اصلاحات 2021 کے بعد آنے والے تقریباً 20 لاکھ افراد پر بھی لاگو ہوں گی، جس سے امیگریشن نظام میں وسیع پیمانے پر تبدیلی آئے گی۔