LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
محمد بن سلمان کی سینٹکام سربراہ سے ملاقات، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال صدر مملکت نے انڈونیشین بحریہ کے سربراہ کو نشان امتیاز سے نواز دیا پبلک چارج قانون میں توسیع پر ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف عدالت سے رجوع: نیویارک سٹی کی قیادت میں امریکی شہروں کا مقدمہ دائر برطانیہ سے علیحدگی کی مہم تیز، سکاٹ لینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ کا آزادی کا مطالبہ پی ٹی آئی کے 24 اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کے پاسپورٹ بلاک کرنے کا حکم کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ: کم آمدن طبقے کے لیے 75 ارب روپے کے فیول ریلیف پیکیج متحدہ نے کمیٹی میں تمام شقوں کی حمایت کی، اسمبلی میں مکر گئی: شرجیل میمن لاہور آمد: وزیراعلیٰ کے پی کے سہیل آفریدی کا دو موریا پل پر خطاب، پنجاب پولیس کی سیکیورٹی لینے سے انکار اور حکومت فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے انڈونیشین بحریہ کے سربراہ کی ملاقات ڈیجیٹل معیشت پاکستان کے ترقیاتی ایجنڈے کا مرکز ہے: احسن اقبال سندھ بلدیاتی ترمیمی ایکٹ: سپیشل کمیٹی کی رپورٹ ایوان میں پیش، ایم کیو ایم کا احتجاج پوٹھوہار اور بالائی خیبر پختونخوا میں 17 ستمبر تک شدید بارش کا الرٹ ملک میں فاشزم اور معاشی بحران عروج پر، 27 ستمبر کو عوام کے حقوق اور آئین کی بحالی کے لیے نکلیں گے: راجہ ناصر عباس عدالتیں اور پارلیمنٹ سیاسی معاملات میں مداخلت بند کریں، مسائل کا سیاسی حل نکالا جائے: بیرسٹر گوہر علي خان اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا مانیٹری پالیسی کا اعلان: شرحِ سود 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

برطانیہ میں امیگریشن قوانین سخت؛ غیر قانونی آمد پر مستقل رہائش کیلئے 30 سال انتظار کرنا ہوگا

Web Desk

20 November 2025

برطانیہ نے امیگریشن پالیسی میں سخت ترین اصلاحات کا اعلان کردیا ہے جن کے تحت غیر قانونی طور پر ملک میں داخل ہونے والے افراد کو مستقل رہائش حاصل کرنے کیلئے اب 30 سال تک کا انتظار کرنا پڑے گا۔ نئی پالیسی ان افراد پر بھی لاگو ہوگی جو انسانی حقوق کی بنیاد پر ملک بدری سے بچ نکلیں۔

ہوم سیکریٹری شابانہ محمود کی جانب سے پیش کی گئی مجوزہ اصلاحات کے مطابق وہ غیر قانونی تارکین، جنہوں نے فیملی لائف یا انسانی حقوق کی شق 8 کے تحت کامیاب اپیل کرکے ملک بدری رکوا لی، اب مستقل رہائش کے لیے طویل ترین مدت کا سامنا کریں گے۔

اسی طرح کم ہنر والے کام کرنے والے وہ تارکین جو ریاستی مراعات (benefits) لیتے ہیں، انہیں بھی مستقل رہائش (ILR) حاصل کرنے کے لیے 25 سال تک انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔

حکومت کی نئی مشاورتی دستاویز میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی فرد برطانیہ میں غیر قانونی طور پر داخل ہوا ہو یا بطور وزیٹر آیا ہو تو اس کے لیے سیٹلمنٹ کا دورانیہ بڑھا دیا جائے گا، جو بعض کیسز میں 30 سال تک پہنچ سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ سزائیں ان ناکام اسائلم سیکرز پر بھی لاگو ہوں گی جو قانونی اپیل جیت کر ملک میں رہنے کا حق حاصل کر لیتے ہیں۔
فی الحال قانونی طور پر آنے والے افراد کو 5 سال بعد مستقل رہائش مل جاتی ہے، مگر نئی پالیسی کے تحت یہ دورانیہ تمام کیٹگریز میں بڑھا کر 10 سال کیا جا رہا ہے، جبکہ کچھ خصوصی شعبوں کے لیے الگ مدت رکھی گئی ہے۔

مزید یہ کہ یہ اصلاحات 2021 کے بعد آنے والے تقریباً 20 لاکھ افراد پر بھی لاگو ہوں گی، جس سے امیگریشن نظام میں وسیع پیمانے پر تبدیلی آئے گی۔