LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
آزاد کشمیر الیکشن: کوٹلی میں 2 پریزائیڈنگ افسران معطل، گرفتار کر لیا گیا رانا ثنا اللہ نے ایل اے 10 کوٹلی میں انتخاب روکنے کا مطالبہ کر دیا دشمن اب دباؤ کے ذریعے ایرانی قوم کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتے، مشیر سپریم لیڈر ایران نے لبنانی جنگجوؤں کا دفاع اپنی سٹریٹجک پالیسی کا حصہ بنا لیا ہے، ایرانی سپریم لیڈر کراچی: جمالی پل کے قریب منی ٹرک نے شہریوں کو کچل ڈالا، 3 افراد جاں بحق آبنائے ہرمز سے گزرنے والا آئل ٹینکر بارودی سرنگ سے ٹکرا کر تباہ بھارتی وزیرِ دفاع کے کشمیر سے متعلق اشتعال انگیز بیانات، پاکستان کی شدید مذمت لیگی قیادت حقیقی معنوں میں عوام کی امنگوں کی ترجمان ہے، مریم اورنگزیب کیپٹن محمد سرور شہید کا 78واں یوم شہادت، مسلح افواج کے سربراہان کا خراج عقیدت جنوبی افریقہ میں فائرنگ، دو سگے بھائیوں سمیت چار پاکستانی جاں بحق یوکرین نے اسرائیل کے کہنے پر ایرانی جہاز کو نشانہ بنایا: عباس عراقچی بحیرہ احمر میں حوثیوں کے حملے ایرانی ایجنڈے کی تکمیل ہیں: یمنی وزیراعظم ٹرمپ نے ایران کو سفارتکاری کا موقع دینے کیلئے حملے روکے: مائیک والٹز اسحاق ڈار سے ڈائریکٹر جنرل آئی اے ای اے کا ٹیلی فونک رابطہ، مختلف امور پر تبادلہ خیال حیدرآباد میں بی آئی ایس پی مستحقین سے غیر قانونی کٹوتیوں میں ملوث 5 ملزمان گرفتار

اکتوبر میں برطانوی حکومت سائبر حملے کا شکار رہی، سینئر وزیر کا پہلی بار اعتراف

Web Desk

19 December 2025

برطانیہ کے ایک سینئر وزیر نے پہلی بار باضابطہ طور پر اعتراف کیا ہے کہ اکتوبر 2025 میں برطانوی حکومت کے نظام پر سائبر حملہ ہوا تھا، جس کے نتیجے میں حکومتی سسٹمز میں دراندازی کی گئی۔

وزارتِ تجارت کے وزیر کرس برائنٹ نے جمعے کے روز ٹائمز ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ حکومت کے ڈیجیٹل نظام متاثر ہوئے تھے، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ آیا یہ حملہ براہِ راست چین یا چینی ریاست سے منسلک عناصر کی جانب سے کیا گیا۔

کرس برائنٹ کے مطابق واقعے کی تحقیقات تاحال جاری ہیں اور حتمی نتائج سامنے آنے میں وقت لگ سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ دراندازی ہوئی، لیکن حکومت اس بات پر مطمئن ہے کہ اس سے کسی فرد کو براہِ راست نقصان پہنچنے کا خطرہ محدود رہا۔

اس سے قبل برطانوی اخبار دی سن نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ سائبر حملہ ایک چینی سائبر گروہ اسٹورم 1849 نے کیا، جس کے نتیجے میں فارن آفس کے ڈیٹا تک رسائی حاصل کی گئی، جہاں ممکنہ طور پر ہزاروں ویزا درخواستوں سے متعلق معلومات موجود تھیں۔ تاہم وزیرِ تجارت نے اس رپورٹ کو قیاس آرائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ بڑے پیمانے پر ڈیٹا کے غلط استعمال کے شواہد نہیں ملے۔

کرس برائنٹ نے واضح کیا کہ سیکیورٹی کی خامی ایک سرکاری ویب سائٹ میں موجود تکنیکی خرابی کے باعث پیدا ہوئی تھی، جسے فوری طور پر درست کر لیا گیا۔ انہوں نے اسکائی نیوز کو بتایا کہ کمزوری کی نشاندہی ہوتے ہی ہنگامی اقدامات کیے گئے اور ڈیجیٹل سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنایا گیا۔

ادھر برطانوی وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر رواں ماہ کے آغاز میں کہہ چکے ہیں کہ چین برطانیہ کے لیے قومی سلامتی کے خطرات پیدا کرتا ہے، تاہم اس کے باوجود حکومت چین کے ساتھ روابط بڑھانے کی پالیسی پر قائم ہے۔

فارن آفس میں پیش آنے والا یہ سائبر واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب رواں سال برطانیہ کی دو بڑی کمپنیوں کو بھی شدید سائبر حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک حملے کے باعث کار ساز کمپنی جیگوار لینڈ روور کو پانچ ہفتوں تک پیداوار بند کرنا پڑی، جبکہ ریٹیل کمپنی مارکس اینڈ اسپینسر نے چھ ہفتوں کے لیے آن لائن آرڈرز معطل کر دیے تھے۔

فارن آفس کے ترجمان کے مطابق سائبر حملے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور حکومتی ڈیٹا و نظام کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اضافی سیکیورٹی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔