LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
حکومت نے عوام پر معاشی دہشت گردی مسلط کر رکھی ہے: حافظ نعیم الرحمان خیبر پختونخوا پولیس میں بڑے پیمانے پر تبادلے اور تقرریاں، 18 افسران تبدیل سہیل آفریدی حفاظتی تحویل میں ہیں، گرفتار نہیں کیا گیا: عطا تارڑ ریاض ایئرپورٹ کے ٹرمینل 4 پر میزائل حملہ، آگ بھڑک اٹھی کے پی کو مزید تجربہ گاہ بنانا بند کیا جائے، گورنر راج کا نفاذ جمہوری عمل پر ضرب ہے: اسد قیصر خیبرپختونخوا ایڈوائزری کونسل کا پہلا اجلاس، عوام کو دہشتگردی نے نجات دلائیں گے: گورنر میناب سکول حملے میں 168 افراد شہید ہوئے، امریکا کو جواب دہ بنائیں گے: ایران خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو مسترد کرتے ہیں: مولانا فضل الرحمان آرٹیکل 232 کے تحت صدر کی طرف سے ایمرجنسی نافذ کرنے کا گزیٹ نوٹیفکیشن جاری آرٹیکل 245 کے تحت خیبر پختونخوا میں فوج کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری وفاقی حکومت کا خیبر پختونخوا کے نامزد اضلاع میں ایریا ڈیویلپمنٹ سیکرٹریٹ قائم کرنے کا حکم خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج مسائل کا حل نہیں، جمہوریت دشمنی کا سفر جاری ہے: حافظ نعیم الرحمان خیبر پختونخوا کے حکومتی امور سے متعلق وفاقی حکمنامہ جاری، 11 رکنی مشاورتی کونسل قائم خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا فیصلہ آسان نہیں تھا: محسن نقوی وفاقی دارالحکومت میں ریڈ الرٹ جاری: حساس عمارتوں پر رینجرز تعینات، دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر گرفتاریوں کا حکم

اکتوبر میں برطانوی حکومت سائبر حملے کا شکار رہی، سینئر وزیر کا پہلی بار اعتراف

Web Desk

19 December 2025

برطانیہ کے ایک سینئر وزیر نے پہلی بار باضابطہ طور پر اعتراف کیا ہے کہ اکتوبر 2025 میں برطانوی حکومت کے نظام پر سائبر حملہ ہوا تھا، جس کے نتیجے میں حکومتی سسٹمز میں دراندازی کی گئی۔

وزارتِ تجارت کے وزیر کرس برائنٹ نے جمعے کے روز ٹائمز ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ حکومت کے ڈیجیٹل نظام متاثر ہوئے تھے، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ آیا یہ حملہ براہِ راست چین یا چینی ریاست سے منسلک عناصر کی جانب سے کیا گیا۔

کرس برائنٹ کے مطابق واقعے کی تحقیقات تاحال جاری ہیں اور حتمی نتائج سامنے آنے میں وقت لگ سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ دراندازی ہوئی، لیکن حکومت اس بات پر مطمئن ہے کہ اس سے کسی فرد کو براہِ راست نقصان پہنچنے کا خطرہ محدود رہا۔

اس سے قبل برطانوی اخبار دی سن نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ سائبر حملہ ایک چینی سائبر گروہ اسٹورم 1849 نے کیا، جس کے نتیجے میں فارن آفس کے ڈیٹا تک رسائی حاصل کی گئی، جہاں ممکنہ طور پر ہزاروں ویزا درخواستوں سے متعلق معلومات موجود تھیں۔ تاہم وزیرِ تجارت نے اس رپورٹ کو قیاس آرائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ بڑے پیمانے پر ڈیٹا کے غلط استعمال کے شواہد نہیں ملے۔

کرس برائنٹ نے واضح کیا کہ سیکیورٹی کی خامی ایک سرکاری ویب سائٹ میں موجود تکنیکی خرابی کے باعث پیدا ہوئی تھی، جسے فوری طور پر درست کر لیا گیا۔ انہوں نے اسکائی نیوز کو بتایا کہ کمزوری کی نشاندہی ہوتے ہی ہنگامی اقدامات کیے گئے اور ڈیجیٹل سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنایا گیا۔

ادھر برطانوی وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر رواں ماہ کے آغاز میں کہہ چکے ہیں کہ چین برطانیہ کے لیے قومی سلامتی کے خطرات پیدا کرتا ہے، تاہم اس کے باوجود حکومت چین کے ساتھ روابط بڑھانے کی پالیسی پر قائم ہے۔

فارن آفس میں پیش آنے والا یہ سائبر واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب رواں سال برطانیہ کی دو بڑی کمپنیوں کو بھی شدید سائبر حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک حملے کے باعث کار ساز کمپنی جیگوار لینڈ روور کو پانچ ہفتوں تک پیداوار بند کرنا پڑی، جبکہ ریٹیل کمپنی مارکس اینڈ اسپینسر نے چھ ہفتوں کے لیے آن لائن آرڈرز معطل کر دیے تھے۔

فارن آفس کے ترجمان کے مطابق سائبر حملے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور حکومتی ڈیٹا و نظام کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اضافی سیکیورٹی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔