LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پمز واقعہ کے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی ہو گی، خود کو احتساب کیلئے پیش کرتا ہوں: مصطفیٰ کمال پمز واقعے کے سی سی ٹی وی سمیت تمام شواہد محفوظ کر لیے گئے ہیں: طلال چوہدری ہسپتال واقعہ: حافظ نعیم نے حکومتی گڈ گورننس کے دعووں پر سوالات اٹھا دیے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر نئے امیگریشن کاؤنٹرز فعال اسحاق ڈار کی لندن میں پاکستان نژاد برطانوی ارکان پارلیمنٹ سے ملاقات پمز واقعہ: لاپرواہی ثابت ہوئی تو کسی کو نہیں چھوڑا جائے گا، وفاقی وزیر صحت پمز ہسپتال میں زیادہ بچوں کی اموات دم گھٹنے سے ہوئیں: طارق فضل چودھری سعودی کابینہ کا آبی گزرگاہوں کو کھلا اور محفوظ رکھنے کی ضرورت پر زور سیرتِ محمدیؐ کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا حصہ بنانا ہو گا، مریم نواز وزیراعظم کا پمز ہسپتال آتشزدگی کا نوٹس، واقعہ کی فوری تحقیقات کا حکم ملک بھر میں عید میلاد النبیﷺ مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ منائی جا رہی ہے پنجاب اور شن جیانگ میں زراعت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق اسلام آباد کے پمز ہسپتال کے نرسری وارڈ میں آتشزدگی، 14 نومولود جاں بحق خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پوری انسانیت کیلیے رحمت بن کر تشریف لائے، محسن نقوی حضور نبی اکرم ﷺ کی آمد انسانیت کیلئے ہدایت کا ذریعہ ہے، گورنر پنجاب

سوشل میڈیا ضوابط کی خلاف ورزی، متحدہ عرب امارات نے ساڑھے 3 ہزار پاکستانی بے دخل کردیئے

Web Desk

11 June 2026

اسلام آباد: قومی اسمبلی کو بتایا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں سوشل میڈیا سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی پر تقریباً ساڑھے 3 ہزار پاکستانی شہریوں کو ملک بدر کر کے پاکستان واپس بھیج دیا گیا۔

ایوان کو دی گئی بریفنگ کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے دوران بعض پاکستانی شہریوں نے متحدہ عرب امارات کے سوشل میڈیا ضوابط کی خلاف ورزی کی، جس کے نتیجے میں متعلقہ حکام نے ان کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انہیں بے دخل کر دیا۔

حکام نے بتایا کہ بے دخل کیے گئے پاکستانیوں کی جائیدادوں اور دیگر اثاثوں کی منتقلی کا عمل ان کے ورثا کے حوالے سے کیا جا رہا ہے تاکہ متاثرہ خاندانوں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

بریفنگ میں مزید کہا گیا کہ اگر کسی متاثرہ شہری یا اس کے اہل خانہ کو جائیداد یا دیگر قانونی معاملات میں مشکلات درپیش ہوں تو وہ وزارت خارجہ سے رابطہ کر سکتے ہیں، وزارت ہر ممکن معاونت فراہم کرے گی۔