LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سانحہ گل پلازہ: تفتیشی افسر کو تحقیقات مکمل کرنے کیلئے 9 اگست تک مہلت مل گئی ٹرمپ کا امیرِ قطر سے ٹیلیفونک رابطہ، خلیج میں استحکام کیلئے مذاکرات کی اہمیت پر زور ’’یوم استحصال کشمیر‘‘جنوبی ایشیا کی تاریخ کا ایک سیاہ دن ہے: شرجیل میمن بلاول بھٹو دل بڑا کریں، لیڈر شکست پر روتے اچھے نہیں لگتے: طلال چودھری ’’یوم استحصال‘‘: پاک فوج کا کشمیری عوام سے غیر متزلزل یکجہتی کے عزم کا اعادہ ایران کیساتھ جنگ، امریکا کو طویل فاصلے تک مار کرنیوالے میزائلوں کی کمی کا سامنا مودی سرکار کے اقدامات نے بھارتی ریاستی جبر میں اضافہ کیا: وزیراعظم پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج ’’یومِ استحصالِ کشمیر‘‘ منایا جارہا ہے ن لیگ نئے صوبوں پر جلد فیصلہ کر کے اپنا مؤقف سامنے لائے گی: رانا ثنا اللہ حکومت کا پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید کمی کا اعلان اسحاق ڈار القدس سے متعلق وزارتی اجلاس میں شرکت کیلئے اردن روانہ آبنائے ہرمز معاہدے کی راہ ہموار، ایران کی عمان سے مثبت مذاکرات کی تصدیق وزیراعظم شہباز شریف 6 اور 7 اگست کو سعودی عرب کا دورہ کریں گے پی ٹی اے کا بڑا کریک ڈاؤن، 7 ماہ میں 18 لاکھ سے زائد سمز بلاک روس میں کرپٹو کرنسی کے لیے جامع قانون منظور، صدر پوتن نے دستخط کر دیے

ورزش سے دوری ذیابیطس ٹائپ 2 کے مریضوں کی طبی پیچیدگیاں بڑھا دیتی ہے

Web Desk

14 February 2026

نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ورزش نہ کرنے والے ذیابیطس ٹائپ 2 کے مریضوں میں طبی پیچیدگیوں کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔

جرنل آف سپورٹ اینڈ ہیلتھ سائنس میں شائع تحقیق کے مطابق، ذیابیطس سے منسلک 10 فیصد پیچیدگیاں جیسے فالج، ہارٹ فیلیئر، امراض قلب اور بینائی سے محرومی کا خطرہ زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنے سے بڑھ جاتا ہے۔ اس تحقیق میں 27 تحقیقی رپورٹس کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا، جن میں تقریباً 24 لاکھ افراد شامل تھے۔

محققین نے ذیابیطس کے مریضوں کی جسمانی سرگرمیوں کے دورانیے اور ذیابیطس سے جڑی پیچیدگیوں کو ٹریک کیا۔ تحقیق میں واضح ہوا کہ جو افراد ہر ہفتے کم از کم 150 منٹ معتدل سے سخت جسمانی سرگرمیوں سے دور رہتے ہیں، انہیں سست طرز زندگی کا حامل قرار دیا گیا۔

معتدل جسمانی سرگرمیوں میں تیز رفتاری سے چہل قدمی، سائیکل چلانا، یوگا، رقص یا گھر کے کام شامل ہیں، جبکہ سخت سرگرمیوں میں تیراکی، ایروبک ڈانس، تیزی سے سائیکل چلانا، رسی کودنا اور مشقت والے کام شامل ہیں۔

نتائج کے مطابق ورزش نہ کرنے والے مریضوں میں فالج کا خطرہ 10.2 فیصد، عصبی مسائل کا خطرہ 9.7 فیصد، ہارٹ فیلیئر کا خطرہ 7.3 فیصد اور امراض قلب کا خطرہ 7 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

محققین نے بتایا کہ جسمانی سرگرمیاں ذیابیطس کی پیچیدگیوں سے بچاؤ میں مؤثر ہیں، اور مریضوں کو چاہیے کہ اپنی روزمرہ زندگی میں باقاعدگی سے ورزش کو شامل کریں تاکہ مختلف طبی مسائل سے محفوظ رہا جا سکے۔