LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
الجزائر کا اماراتی طیاروں کے لیے فضائی حدود بند کرنے کا اعلان این سی سی آئی اے میں نفری کم، وفاقی پولیس کا 23 افسران بھجوانے کا فیصلہ روس کے سرحدی علاقے میں یوکرینی ڈرون حملہ، 2 افراد ہلاک، 7 زخمی روس کے یوکرین کے صنعتی شہر پاولو ہراد پر حملے، 7 افراد ہلاک، 76 زخمی سعودی عرب کو حوثی حملوں کے خلاف دفاع کا حق حاصل ہے، عبدالعزیز الوصل جماعت اسلامی کا لانگ مارچ، مرکزی قیادت نے تاریخ کے تعین کا اختیار حافظ نعیم کو دے دیا نیتن یاہو کی ٹرمپ کو ایران کیخلاف ناکہ بندی اور معاشی دباؤ پر مبارکباد نائن الیون کے زخم آج بھی تازہ، دہشتگردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی: ٹرمپ ایران زخمی جانور کی طرح آخری وقت میں ہے، امریکی وزیر خزانہ کا دعویٰ بلوچستان میں آخری دہشت گرد کے خاتمے تک اقدامات جاری رہیں گے: کور کمانڈر کوئٹہ آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول، ایران کیخلاف جنگ مکمل کرینگے: پیٹ ہیگسیتھ وزیراعظم بجلی کی لوڈشیڈنگ پر برہم، 2 گھنٹے سے زائد نہ کرنے کا حکم ایرانی نائب صدر کا یمن میں حوثیوں کی کارروائیوں پر اظہارِ مسرت سندھ اسمبلی نے رینجرز کی تعیناتی میں مزید ایک سال کی توسیع کر دی ایران کی آئی اے ای اے پر کڑی تنقید، جنگ کا جواز فراہم کرنے کا الزام

ورزش سے دوری ذیابیطس ٹائپ 2 کے مریضوں کی طبی پیچیدگیاں بڑھا دیتی ہے

Web Desk

14 February 2026

نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ورزش نہ کرنے والے ذیابیطس ٹائپ 2 کے مریضوں میں طبی پیچیدگیوں کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔

جرنل آف سپورٹ اینڈ ہیلتھ سائنس میں شائع تحقیق کے مطابق، ذیابیطس سے منسلک 10 فیصد پیچیدگیاں جیسے فالج، ہارٹ فیلیئر، امراض قلب اور بینائی سے محرومی کا خطرہ زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنے سے بڑھ جاتا ہے۔ اس تحقیق میں 27 تحقیقی رپورٹس کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا، جن میں تقریباً 24 لاکھ افراد شامل تھے۔

محققین نے ذیابیطس کے مریضوں کی جسمانی سرگرمیوں کے دورانیے اور ذیابیطس سے جڑی پیچیدگیوں کو ٹریک کیا۔ تحقیق میں واضح ہوا کہ جو افراد ہر ہفتے کم از کم 150 منٹ معتدل سے سخت جسمانی سرگرمیوں سے دور رہتے ہیں، انہیں سست طرز زندگی کا حامل قرار دیا گیا۔

معتدل جسمانی سرگرمیوں میں تیز رفتاری سے چہل قدمی، سائیکل چلانا، یوگا، رقص یا گھر کے کام شامل ہیں، جبکہ سخت سرگرمیوں میں تیراکی، ایروبک ڈانس، تیزی سے سائیکل چلانا، رسی کودنا اور مشقت والے کام شامل ہیں۔

نتائج کے مطابق ورزش نہ کرنے والے مریضوں میں فالج کا خطرہ 10.2 فیصد، عصبی مسائل کا خطرہ 9.7 فیصد، ہارٹ فیلیئر کا خطرہ 7.3 فیصد اور امراض قلب کا خطرہ 7 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

محققین نے بتایا کہ جسمانی سرگرمیاں ذیابیطس کی پیچیدگیوں سے بچاؤ میں مؤثر ہیں، اور مریضوں کو چاہیے کہ اپنی روزمرہ زندگی میں باقاعدگی سے ورزش کو شامل کریں تاکہ مختلف طبی مسائل سے محفوظ رہا جا سکے۔