LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
حوثی ملیشیا کے حملوں کے باعث ریاض ایئرپورٹ کی 86 فیصد پروازیں منسوخ کے پی پولیس کو جدید ساز و سامان کی فراہمی، اے پی سیز، ایمبولینسز افسران کے حوالے ایرانی قوم بموں سے زیادہ طاقتور، دشمن اپنے مقاصد حاصل نہیں کرسکتا: ایرانی فوج اسرائیل کا انتخابات سے پہلے ایران پر حملے کا ارادہ نہیں: وزیر دفاع گورنر خیبر پختونخوا کی پشاور ماسٹر پلان کے 180 روزہ اہداف پر عملدرآمد تیز کرنے کی ہدایت پاکستان اور امریکا کا توانائی کے شعبے میں دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق ذوالفقار علی بھٹو کا بمبئی جائیدادوں پر 9 سالہ قانونی معرکہ ملکی زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، ساڑھے 21 ارب ڈالر تک پہنچ گئے شہباز شریف کی رانا مبشر اقبال کی رہائش گاہ آمد، خالہ زاد بھائی کے انتقال پر تعزیت لاہور ہائیکورٹ کا نیا ججز روسٹر جاری، 2 نومبر سے 24 دسمبر تک بنچز مقدمات سنیں گے سٹیٹ بینک نے شرح سود میں 0.50 فیصد اضافہ کردیا، شرح 12 فیصد مقرر پاکستان اور ایتھوپیا کا تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون بڑھانے پر اتفاق سعودی عرب پر حوثی باغیوں کے بیلسٹک میزائل حملوں کی شدید مذمت: دفترِ خارجہ فیلڈ مارشل کی تجویز پر ایران چار ملکی اجلاس کی میزبانی کر رہا ہے: اسماعیل بقائی سابق آرمی چیف جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ انتقال کر گئے

ورزش سے دوری ذیابیطس ٹائپ 2 کے مریضوں کی طبی پیچیدگیاں بڑھا دیتی ہے

Web Desk

14 February 2026

نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ورزش نہ کرنے والے ذیابیطس ٹائپ 2 کے مریضوں میں طبی پیچیدگیوں کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔

جرنل آف سپورٹ اینڈ ہیلتھ سائنس میں شائع تحقیق کے مطابق، ذیابیطس سے منسلک 10 فیصد پیچیدگیاں جیسے فالج، ہارٹ فیلیئر، امراض قلب اور بینائی سے محرومی کا خطرہ زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنے سے بڑھ جاتا ہے۔ اس تحقیق میں 27 تحقیقی رپورٹس کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا، جن میں تقریباً 24 لاکھ افراد شامل تھے۔

محققین نے ذیابیطس کے مریضوں کی جسمانی سرگرمیوں کے دورانیے اور ذیابیطس سے جڑی پیچیدگیوں کو ٹریک کیا۔ تحقیق میں واضح ہوا کہ جو افراد ہر ہفتے کم از کم 150 منٹ معتدل سے سخت جسمانی سرگرمیوں سے دور رہتے ہیں، انہیں سست طرز زندگی کا حامل قرار دیا گیا۔

معتدل جسمانی سرگرمیوں میں تیز رفتاری سے چہل قدمی، سائیکل چلانا، یوگا، رقص یا گھر کے کام شامل ہیں، جبکہ سخت سرگرمیوں میں تیراکی، ایروبک ڈانس، تیزی سے سائیکل چلانا، رسی کودنا اور مشقت والے کام شامل ہیں۔

نتائج کے مطابق ورزش نہ کرنے والے مریضوں میں فالج کا خطرہ 10.2 فیصد، عصبی مسائل کا خطرہ 9.7 فیصد، ہارٹ فیلیئر کا خطرہ 7.3 فیصد اور امراض قلب کا خطرہ 7 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

محققین نے بتایا کہ جسمانی سرگرمیاں ذیابیطس کی پیچیدگیوں سے بچاؤ میں مؤثر ہیں، اور مریضوں کو چاہیے کہ اپنی روزمرہ زندگی میں باقاعدگی سے ورزش کو شامل کریں تاکہ مختلف طبی مسائل سے محفوظ رہا جا سکے۔