LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
روس کے کیف میں فضائی حملے، 6 افراد ہلاک، 59 زخمی برطانوی ایئربیس سے بی ون بمبار طیارے احتیاطی طور پر واپس بلائے: جے ڈی وینس روس میں طاعون کے ممکنہ کیس کا بغور جائزہ لے رہے ہیں: امریکی صدر سائبیریا میں سائنسی تجربہ گاہ میں خاتون محقق کی ہلاکت، علاقے میں شدید خوف و ہراس روشنی سے دماغی خلیوں کو کنٹرول کرنے والی تحقیق پر 3 سائنس دانوں کو نوبیل انعام اسرائیل کی فائرنگ اور گولہ باری سے 2 بچوں سمیت 6 فلسطینی زخمی عراقی شہر کرکوک میں داعش کے حملے، ایک پولیس اہلکار ہلاک، 4 زخمی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی عوامی مقبولیت مسلسل ریکارڈ کم سطح پر برقرار نیوزی لینڈ کی حکمران نیشنل پارٹی کی عوامی حمایت کم ہو کر 25.9 فیصد رہ گئی اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس اسلام آباد پہنچ گئے ملک میں بجلی کا شارٹ فال 4 ہزار میگا واٹ سے تجاوز کرگیا، بدترین لوڈشیڈنگ کا خدشہ سعودی آرامکو نے ایشیا کے لیے خام تیل سستا کردیا، قیمتیں 6 سال کی کم ترین سطح پر آگئیں آبنائے ہرمز میں بحری ٹینکر نامعلوم پروجیکٹائل کی زد میں آگیا، جہاز میں آگ بھڑک اٹھی حوثیوں کا سعودی دارالحکومت ریاض کے ائیرپورٹ اور آرامکو ریفائنری کو نشانہ بنانے کا دعویٰ میرا ذاتی خیال ہے اماراتی طیارہ واقعے کا ذمہ دار ایران ہے: ٹرمپ

روشنی سے دماغی خلیوں کو کنٹرول کرنے والی تحقیق پر 3 سائنس دانوں کو نوبیل انعام

Web Desk

5 October 2026

سال 2026ء کا نوبیل انعام برائے طب (Physiology or Medicine) روشنی کے ذریعے دماغی خلیوں کی سرگرمی کو کنٹرول کرنے والی ٹیکنالوجی ‘آپٹوجنیٹکس’ (Optogenetics) تیار کرنے والے تین نامور سائنس دانوں کے نام کر دیا گیا ہے۔ سویڈن کے نوبیل اسمبلی نے اعلان کیا کہ امریکا کے کارل ڈائسراتھ (Karl Deisseroth) اور جرمنی کے پیٹر ہیگمین (Peter Hegemann) اور جارج ناگل (Georg Nagel) کو مشترکہ طور پر اس عظیم الشان اعزاز کا حقدار قرار دیا گیا ہے۔

نوبیل کمیٹی کے مطابق اس انقلابی ٹیکنالوجی کی بدولت زندہ دماغ کے اندر انفرادی عصبی خلیوں (Brain Cells/Neurons) کو روشنی کی مدد سے فعال یا غیر فعال کرنا ممکن ہوا، جس سے سائنس دانوں کو یہ سمجھنے میں بے مثال پیش رفت حاصل ہوئی ہے کہ دماغ معلومات کیسے پروسیس کرتا ہے۔ اس تحقیق کی بنیاد 1990ء کی دہائی میں ہیگمین اور ناگل کی جانب سے روشنی کے لیے حساس پروٹینز کی دریافت تھی، جسے بعد میں کارل ڈائسراتھ نے چوہوں کے عصبی خلیوں پر استعمال کر کے عملی شکل دی۔ اس وقت آپٹوجنیٹکس کے ذریعے شیزوفرینیا، الزائمر، پارکنسنز، مرگی اور ذہنی ڈپریشن جیسے پیچیدہ امراض کا علاج تلاش کرنے کے ساتھ بینائی بحال کرنے کے تجربات کیے جا رہے ہیں۔ تینوں سائنس دانوں کو 12 ملین سویڈش کرونا (Swedish Krona) کی انعامی رقم بھی مشترکہ طور پر دی جائے گی