LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پہلا ون ڈے، پاکستان نے آسٹریلیا کو 5 وکٹ سے ہرا دیا نیویارک حراستی مرکز کے باہر مظاہرے، پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں، آنسو گیس کا استعمال امریکا: میساچوسٹس کے تعلیمی اداروں میں ریچھ داخل، طلبہ کلاس رومز تک محدود رہے پاکستان ون ڈے کرکٹ میں 1000میچ کھیلنے والی تیسری ٹیم بن گئی وزیراعلیٰ نے ستھرا پنجاب ورکرز کیلئے 10ہزار فی کس انعام کا اعلان کیا ہے: مریم اورنگزیب پاکستان ایک مخلص دوست، ایران کے ساتھ اچھی ڈیل ہوگی: امریکی وزیر جنگ جیٹ فیول اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمتوں میں بڑی کمی، نوٹیفکیشن جاری آئی ایم ایف کا گاڑیوں اور سولر پینلز پر سیلز ٹیکس چھوٹ برقرار رکھنے سے انکار پاکستان کی شاندار کامیابی: مسلسل پانچویں سال بھی ایراسمس منڈس اسکالرشپ حاصل کرنے میں دنیا بھر میں پہلے نمبر پر برقرار امریکی صدر کے نام کی شمولیت غیر قانونی قرار: کینیڈی سینٹر بند کرنے کا ٹرمپ انتظامیہ کا فیصلہ امریکی عدالت نے معطل کر دیا حاجیوں کی وطن واپسی کے لیے سعودی عرب سے پروازوں کا آغاز کل ہوگا امریکا کا امیر ممالک کے دفاعی اخراجات کا مزید بوجھ اٹھانے سے انکار ملک بھر میں 74 لاکھ 70 ہزار جانور قربان کیے گئے، ٹینریز ایسوسی ایشن ٹیکس وصولی کے لیے ایف بی آر کے تمام دفاتر 30 مئی کو کھلے رہیں گے اسحاق ڈار اور مارکو روبیو کی واشنگٹن میں ملاقات، پاک امریکا تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو تباہ کر دیں گے: ٹرمپ

Web Desk

13 April 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف اپنے جارحانہ تیور برقرار رکھتے ہوئے سخت وارننگ دی ہے کہ اگر کوئی بھی ایرانی جہاز امریکی ناکہ بندی کے قریب آنے کی کوشش کرے گا تو اسے فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایرانی بحریہ کا بڑا حصہ پہلے ہی سمندر کی تہہ میں جا چکا ہے اور اب تک ایران کے 158 بحری بیڑے مکمل طور پر تباہ کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ کا ہدف صرف چند چھوٹے جہاز نہیں بلکہ پوری بحری قوت کو مفلوج کرنا ہے۔

صدر ٹرمپ نے ایرانی ‘فاسٹ اٹیک شپس’ کو کم تر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان چھوٹی کشتیوں سے امریکی بحریہ کو کوئی بڑا خطرہ نہیں ہے۔ انہوں نے اپنی عسکری کارروائیوں کا موازنہ منشیات کے خلاف آپریشنز سے کرتے ہوئے کہا کہ ہم اسی طریقے سے کارروائی کر رہے ہیں جس طرح سمندر میں منشیات اسمگل کرنے والی کشتیوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی نہ صرف تیز ہے بلکہ انتہائی سخت بھی ہے تاکہ دشمن کو سنبھلنے کا موقع نہ مل سکے۔

اپنے بیان میں صدر ٹرمپ نے امریکہ کی سرحدی حفاظت اور انسدادِ منشیات کی مہم کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کی انتظامیہ نے سمندر کے ذریعے امریکہ میں داخل ہونے والی 98.2 فیصد منشیات کو کامیابی سے روک دیا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے طاقت کا بھرپور استعمال جاری رہے گا۔ دوسری جانب، عسکری مبصرین کا ماننا ہے کہ صدر ٹرمپ کے ان بیانات سے خلیج میں براہِ راست فوجی تصادم کا خطرہ شدت اختیار کر گیا ہے۔