ٹرمپ کا بڑھتی کشیدگی کے باوجود ایران پر حملہ نہ کرنے کا فیصلہ
Web Desk
4 June 2026
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے قریبی مشیروں کو انتہائی واضح الفاظ میں بتایا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ موجودہ جنگ بندی کو ختم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے، جب تک کہ تہران براہِ راست امریکی فوجیوں کو ہلاک کرنے کی کارروائی نہ کرے۔
امریکی اخبار ‘وال سٹریٹ جرنل’ کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق، صدر ٹرمپ کا یہ مؤقف اس بات کی واشنگٹن میں نشاندہی کرتا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ تنازع کو ایک وسیع علاقائی جنگ (Regional War) میں تبدیل کرنے سے ہر قیمت پر گریز کرنا چاہتے ہیں۔ امریکی صدر مشرقِ وسطیٰ میں بڑے پیمانے پر ممکنہ تصادم سے بچنے کے لیے محدود نوعیت کے واقعات اور معمولی کشیدگی کو برداشت کرنے کے لیے تیار دکھائی دیتے ہیں۔یہ اہم پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان شدید کشیدگی ایک بار پھر عروج پر پہنچ چکی ہے اور حالیہ دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے بعد کے سب سے سنگین فوجی واقعات پیش آئے ہیںایران نے خطے میں امریکی فوجی تنصیبات سمیت کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو میزائلوں اور خودکش ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے، جن حملوں میں اب تک ایک شخص کے ہلاک ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کے معاملے پر جاری شدید تنازع نے عالمی منڈیوں میں پٹرولیم اور توانائی کی فراہمی سمیت بین الاقوامی بحری تجارت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ایران نے اس اہم آبی گزرگاہ سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت پر سخت پابندیاں عائد کی ہیں، جبکہ امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کے خلاف معاشی و فوجی اقدامات کے ذریعے تہران پر دباؤ برقرار رکھا ہوا ہے۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے حالیہ تازہ امریکی فوجی کارروائیوں کو محض ایک “دفاعی ردِعمل” قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ اقدامات مکمل جنگ کی واپسی کی علامت بالکل نہیں ہیں۔ انہوں نے کانگریس کی ایک اہم سماعت کے دوران اراکین کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا”یہ کارروائیاں خالصتاً ایرانی اقدامات کے جواب میں کی جا رہی ہیں۔ اگر ایرانی فورسز ہمارے تجارتی اور فوجی جہازوں پر فائرنگ نہیں کرتیں تو ہم بھی ان پر فائرنگ نہیں کرتے، لیکن اگر وہ حملہ کریں گے تو ہمیں اپنا دفاعی جواب دینا پڑتا ہے۔”
وال سٹریٹ جرنل کے مطابق، دونوں ممالک کی جانب سے بار بار ہونے والے ان حملوں اور جوابی کارروائیوں نے ٹرمپ انتظامیہ پر اندرونی دباؤ بڑھا دیا ہے اور یہ بڑا سوال پیدا کر دیا ہے کہ آیا یہ نازک جنگ بندی طویل عرصے تک برقرار رہ بھی سکے گی یا نہیں۔ تاہم، صدر ٹرمپ نے اب بھی متعدد بار اس امید کا اظہار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک جامع معاہدہ (Comprehensive Deal) بہت قریب ہے، جس کا حتمی مقصد خطے میں مستقل امن کا قیام، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا، ایران کے جوہری پروگرام اور افزودہ یورینیم کے ذخائر کے مسئلے کو مستقل حل کرنا ہے۔
پاکستان کا جنگ بندی پر مکمل عمل درآمد اور ثالثی کا مطالبہ دوسری جانب، برادر ملک پاکستان نے بھی مشرقِ وسطیٰ کی اس مخدوش صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ تمام فریقین جنگ بندی معاہدے پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنائیں گے اور اسے برقرار رکھیں گے۔
پاکستان کے دفترِ خارجہ (Foreign Office) کے ترجمان نے اپنے ایک باقاعدہ بیان میں کہا کہ جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیاں اور نئے فوجی تصادم اس دیرینہ تنازع کے پرامن حل کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ ترجمان کے مطابق، پاکستان اس خطے میں بطور سہولت کار (Facilitator) اور ثالث اپنی سفارتی کوششیں پوری دیانتداری سے جاری رکھے گا اور تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ قریبی رابطے برقرار رکھے گا تاکہ امن و امان کی کوششوں کو کامیابی سے آگے بڑھایا جا سکے۔
متعلقہ عنوانات
جی بی الیکشن کو پنجاب اور اسلام آباد سے مینج کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے حسن مرتضی
4 June 2026
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے قومی اقتصادی کونسل (NEC) کا اہم اجلاس 8 جون کو طلب
4 June 2026
ہر ہائی کورٹ آزاد ، سپریم کورٹ یا وفاقی آئینی عدالت کے ماتحت نہیں: جسٹس عامر فاروق
4 June 2026
شرجیل میمن کی محسن نقوی سے ملاقات، وفاق اور سندھ تعاون پر اتفاق
4 June 2026
پاکستان سندھ طاس معاہدے کے تحت دریائے چناب پر اپنے حقوق کی حفاظت کرے گا: دفتر خارجہ
4 June 2026
بجلی، گیس کی غیر علانیہ لوڈشیڈنگ پر درخواست جھوٹی قرار، جرمانہ عائد
4 June 2026
پنجاب: آئندہ مالی سال میں کاشتکاروں کو 20 ہزار گرین ٹریکٹر دینے کی ہدایت
4 June 2026
ٹرمپ نے نیتن یاہو کو مطالبات نہ ماننے پر جیل بھیجنے کی دھمکی دی: عرب میڈیا
4 June 2026