LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایرانی سپریم لیڈر کے ہر حکم پر عمل کریں گے؛ حوثی کمانڈر کا دوٹوک اعلان ناروے میں خوفناک آتشزدگی، 100 سے زائد گھر جل گئے ایرانی فوجی صلاحیتیں کمزور کرنے کا مشن، امریکا کے مسلسل ساتویں رات ایران پر حملے حکومت بلوچستان اور دھرنا کمیٹی کے مذاکرات کامیاب، تحریری معاہدہ طے پا گیا ایرانی وزارت توانائی کی شہریوں سے بجلی کا استعمال کم کرنے کی اپیل 27 جولائی کو جب کشمیر میں ڈبے کھلیں گے تو ہر طرف شیر ہی شیر ہوگا: مریم اورنگزیب خطے کے پانیوں میں امریکی فوج کی نقل و حرکت، انکے فوجی ساز و سامان پر نظر ہے: ایران فارما سیوٹیکل صنعت کو عالمی سطح پر نمایاں کرنے کا منصوبہ پیش کر دیا: مصطفیٰ کمال خلائی سائنسدانوں کے استعفوں کے بعد مودی سرکار پریشان، رضاکارانہ ریٹائرمنٹ اور استعفوں پر پابندی لگادی پٹرولیم قیمتوں کی ڈی ریگولیشن مسترد، پٹرول پمپ مالکان کی ہڑتال کی دھمکی پاسدارانِ انقلاب کا قطر میں امریکی العدید ایئر بیس کو نشانہ بنانے کا دعویٰ عوام پر مہنگائی کا ایک اور بم: پٹرول 5 روپے 44 پیسے اور ڈیزل ریکارڈ 31 روپے 5 پیسے مہنگا ایرانی حملے میں بجلی اور ڈی سیلینیشن پلانٹ کو نقصان پہنچا: کویت امریکا نے غیرملکی طلبہ اور صحافیوں کے ویزا قوانین سخت کر دیے، قیام کی مدت مقرر پیٹرولیم مصنوعات:حکومتی اقدام کو “لوٹ مار” اور “ڈاکہ” قرار,حافظ نعیم الرحمان

ٹرمپ ایران میں ایسا لیڈر چاہتے ہیں جو امریکا مخالف نعرے نہ لگائے، وائٹ ہاؤس

Web Desk

25 March 2026

واشنگٹن: وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران میں ایسا دوست لیڈر دیکھنا چاہتے ہیں جو امریکا کے خلاف نعرے بازی نہ کرے۔

پریس بریفنگ کے دوران انہوں نے بتایا کہ امریکا اس وقت ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر جنگی کارروائی میں مصروف ہے اور آپریشن کئی ہفتوں پر محیط ہوگا، جبکہ جنگ اپنے پچیسویں روز میں داخل ہو چکی ہے۔

ترجمان کے مطابق امریکا نے ہزاروں اہداف کو نشانہ بنایا ہے اور ایران کی بحری و دفاعی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے، جبکہ ایران کی جوہری صلاحیتیں بھی تقریباً ختم ہو چکی ہیں۔

کیرولین لیوٹ کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ مثبت اور نتیجہ خیز مذاکرات میں بھی مصروف ہیں، تاہم اگر ایران نے شرائط قبول نہ کیں تو مزید سخت کارروائی کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ جنگ سے قبل قانون سازوں کو اعتماد میں لیا گیا تھا اور اب بھی انہیں بریفنگ دی جا رہی ہے، جبکہ صدر ٹرمپ ملکی مفاد میں فیصلے کرنے کے لیے بااختیار ہیں۔