LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایرانی پرچم بردار بحری جہاز کے عملے کے 6 ارکان رہا صدر پیوٹن کی 9 مئی کو یوکرین کے ساتھ عارضی جنگ بندی کی پیشکش امریکی بحری بیڑا جیرالڈ فورڈ کی مرمت کے لیے مشرقِ وسطیٰ سے واپسی سندھ بھر میں دفعہ 144 کی مدت میں توسیع، جلسے جلوس اور احتجاج پر پابندی برقرار امریکی مرکزی بینک نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا،شرحِ سود برقرار ‘ایران جلد ہوش کے ناخن لے’، ٹرمپ نے بندوق تھامے ’اے آئی جنریٹڈ‘ فوٹو شیئر کردی پاکستان میں کرپشن بارے آئی ایم ایف رپورٹ معتصب، نامناسب ہے: چیئرمین نیب بلاول بھٹو زرداری سے ازبکستان کے نووئی ریجن کے گورنر کی ملاقات پاکستان کی کوششوں سے جنگ بندی ہوئی، توسیع بھی کی گئی جو تاحال برقرار ہے: وزیراعظم پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت، پاک فوج کا بھرپور جواب وزیراعظم سے کابینہ ارکان کی ملاقاتیں،وزارتوں سے متعلقہ اُمور پر تبادلہ خیال وفاقی کابینہ کا اجلاس، مشرقِ وسطیٰ تنازع میں پاکستان کی کوششوں کا جائزہ بانی پی ٹی آئی بلاوجہ جیل میں ہیں، نظریہ قید نہیں کیا جا سکتا: سہیل آفریدی قدرتی آفات کے تباہ کن اثرات کم کرنے کیلئے مضبوط انفراسٹرکچر ناگزیر ہے: وزیراعظم پاکستان سٹاک مارکیٹ میں 2 روز کی مندی کے بعد آج مثبت رجحان

امریکی صدر کا 2 ہفتے کیلئے ایران پر حملے روکنے اور جنگ بندی کا اعلان

Web Desk

7 April 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف کی درخواست منظور کرتے ہوئے ایران کے خلاف کارروائی دو ہفتوں کے لیے معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔ ان کے مطابق درخواست کی گئی تھی کہ ایران پر ممکنہ حملہ روکا جائے۔

انہوں نے کہا کہ اس شرط پر کارروائی معطل کی جا رہی ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کو فوری، مکمل اور محفوظ طریقے سے کھولنے پر آمادہ ہو جائے، جبکہ یہ اقدام دو طرفہ جنگ بندی کا حصہ ہوگا۔

صدر ٹرمپ کے مطابق امریکا اپنے فوجی اہداف حاصل کر چکا ہے اور ایران کے ساتھ طویل مدتی امن معاہدے کے قریب پہنچ چکا ہے، جو مشرق وسطیٰ میں استحکام کا باعث بن سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے دس نکات پر مشتمل ایک تجویز موصول ہوئی ہے، جسے مذاکرات کی بنیاد کے طور پر قابل عمل سمجھا جا رہا ہے، جبکہ زیادہ تر متنازع امور پر پہلے ہی اتفاق ہو چکا ہے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ دو ہفتوں کا یہ عرصہ معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے اہم ثابت ہوگا۔