LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پٹرولیم قیمتوں کی ڈی ریگولیشن مسترد، پٹرول پمپ مالکان کی ہڑتال کی دھمکی پاسدارانِ انقلاب کا قطر میں امریکی العدید ایئر بیس کو نشانہ بنانے کا دعویٰ عوام پر مہنگائی کا ایک اور بم: پٹرول 5 روپے 44 پیسے اور ڈیزل ریکارڈ 31 روپے 5 پیسے مہنگا ایرانی حملے میں بجلی اور ڈی سیلینیشن پلانٹ کو نقصان پہنچا: کویت امریکا نے غیرملکی طلبہ اور صحافیوں کے ویزا قوانین سخت کر دیے، قیام کی مدت مقرر پیٹرولیم مصنوعات:حکومتی اقدام کو “لوٹ مار” اور “ڈاکہ” قرار,حافظ نعیم الرحمان اوگرا روزانہ کی بنیاد پر پٹرولیم قیمتوں کا تعین کرے گی: وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری سے پورٹ قاسم کی ترقی کا نیا دور شروع ہوگا: معظم الیاس عام انتخابات 2026: آزاد کشمیر میں جدید رزلٹ مینجمنٹ سسٹم متعارف کرانے کی تیاری آزاد کشمیر عام انتخابات 27 جولائی کو، 45 حلقوں میں پولنگ ہوگی ان دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن آپریشن ناگزیر ہو چکا ہے: سردار تنویر الیاس کا شرپسندوں کے حملے کے بعد ویڈیو پیغام صدرآئی پی پی عبدالعلیم خان کی سردار تنویر الیاس کے انتخابی قافلے پر حملے کی سخت مذمت امریکہ نے 85 پاکستانی طلبہ و محققین کو فل برائٹ اسکالرشپس سے نواز دیا کشمیر کے مسائل حل کیلئے’ ٹروتھ اینڈ ری کنسلی ایشن‘ کمیشن قائم کیا جائے: بلاول بھٹو استنبول سے اسلام آباد آنیوالی پرواز میں خرابی، باکو میں ایمرجنسی لینڈنگ

ٹرمپ کی دنیا کے سب سے بڑے طیارہ بردار بحری جہاز پر ایرانی حملے کی تصدیق

Web Desk

28 March 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ ایران نے دنیا کے سب سے بڑے اور جدید ترین طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ (USS Gerald R. Ford) پر ایک انتہائی شدید اور منظم حملہ کیا ہے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق، ایرانی افواج نے اس جہاز کو 17 مختلف زاویوں سے نشانہ بنایا۔ انہوں نے حملے کی شدت بیان کرتے ہوئے کہا کہ رات ایک بجے کے قریب صورتحال اتنی سنگین تھی کہ جہاز پر موجود عملہ جان بچانے کے لیے بھاگ رہا تھا، جبکہ ہر 32 سیکنڈ بعد جنگی طیارے دفاعی اڑان بھر رہے تھے۔

رپورٹس کے مطابق، حملے کے نتیجے میں لگنے والی آگ اور ہونے والے نقصان کے بعد ‘جیرالڈ فورڈ’ فی الوقت یونان کے جزیرے کریٹ (Crete) میں مرمت کے لیے لنگرانداز ہے۔ اس صورتحال کے پیشِ نظر امریکہ نے اپنی عسکری قوت میں اضافے کے لیے ایک اور بحری بیڑا یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش (USS George H.W. Bush) نارفوک سے مشرقِ وسطیٰ کے لیے روانہ کر دیا ہے۔ یہ بیڑا خطے میں پہلے سے موجود یو ایس ایس ابراہم لنکن اور متاثرہ جیرالڈ فورڈ کے ساتھ شامل ہو جائے گا، جس سے خطے میں امریکی طیارہ بردار جہازوں کی تعداد تین ہو جائے گی۔

صدر ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اس تیسرے بیڑے کی آمد کا مقصد ایران کے خلاف جاری امریکی عسکری آپریشنز کو مزید تقویت دینا اور کسی بھی ممکنہ مہم جوئی کا منہ توڑ جواب دینا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کی یہ غیر معمولی بحری نقل و حرکت 2003 کی عراق جنگ کے بعد خطے میں سب سے بڑا عسکری اجتماع ہے، جو کسی بڑے تصادم کی جانب اشارہ کر رہا ہے۔