LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کے پاس ایسا کوئی نہیں ہے جس سے مذاکرات کیے جائیں: ٹرمپ امارات نے اسرائیل جانے والی پرواز کی ہنگامی لینڈنگ کو دہشتگردی قرار دیدیا برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کی نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار سے ملاقات، دوطرفہ تعلقات اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال سیاسی جماعتوں سےامید نہیں رہی، اصلاح نہ ہوئی تو کاکروچ باہر آئیں گے: سعد رفیق پاکستانی شہریوں کے قتل پر بھارتی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی، باضابطہ احتجاج ایف سی بلوچستان کے درجنوں میڈیکل کیمپس، ہزاروں مریضوں کا مفت علاج خیبرپختونخوا کے جنوبی اضلاع میں 4 ارب 29 کروڑ روپے کی گیس چوری دوا فروخت کرنے کیلئے ڈاکٹر بھی لائسنس کا پابند ہے، وفاقی آئینی عدالت خیبر پختونخوا حکومت نے لانگ مارچ کے ذریعے بدامنی کا منصوبہ بنا لیا: خواجہ آصف فرانس میں طلبہ کا احتجاج، پولیس سے جھڑپیں، 1,747 افراد گرفتار حکومت اور پی ٹی آئی میں مذاکرات کا اگلا دور آج ہوگا، حتمی فیصلے متوقع جموں و کشمیرنہ کبھی بھارت کا اٹوٹ انگ تھا، نہ ہے اورنہ ہوگا، پاکستان آن لائن گیمز کے منفی اثرات، برطانیہ پلٹ نوجوان نے لاہور میں بینک لوٹ لیا سعودی عرب کے شہر نجران میں حوثیوں کا داغا گیا میزائل سکول سے ٹکرا گیا آبنائے ہرمز سے باہر نکلنے کے راستے پر گامزن آئل ٹینکر پر میزائل حملہ

نکاح سے قبل مرد و خواتین کا تھیلسیمیا ٹیسٹ لازمی قرار دیا جائے، وفاقی وزیر مصطفی کمال

Web Desk

1 January 2026

وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے کہا ہے کہ تھیلسیمیا جیسے مرض کو بروقت ٹیسٹنگ اور احتیاطی اقدامات کے ذریعے روکا جا سکتا ہے، تاہم حکومتوں کی نااہلی کی وجہ سے یہ ممکن نہ ہو سکا۔
انہوں نے زور دیا کہ نکاح سے قبل مرد و خواتین کا تھیلسیمیا ٹیسٹ لازمی قرار دیا جائے تاکہ معاشرتی اور صحت کے چیلنجز کم کیے جا سکیں اور بچوں کو اس مرض کا شکار ہونے سے بچایا جا سکے۔

وزیر صحت نے کہا کہ اعضا پیوندکاری اداروں کی ریگولیشنز اس لیے کی گئی ہیں تاکہ اعضا کی فروخت کا کاروبار نہ بنے اور خون یا بون میرو کے ذریعے زندگی بچانے والے مریض محفوظ رہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ بون میرو ٹرانسپلانٹ کے لیے اب قانونی رکاوٹیں دور کر دی گئی ہیں اور اعضا پیوندکاری قانون میں ترمیم مکمل ہو چکی ہے۔

مصطفی کمال نے کہا کہ اگر کوئی تھیلسیمیا مائنر ٹیسٹ نہ کرائے تو وہ بچوں کی جان کے لیے خطرہ ہے، اور حکومت کو معاشرے میں شعور بیدار کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ احتیاط علاج سے بہتر ہے اور اسپتال بنانا یا مریضوں کا انتظار کرنا حل نہیں بلکہ مریض بننے سے بچانا اصل حل ہے۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ پاکستان میں ہر سال تقریباً 62 لاکھ بچے پیدا ہو رہے ہیں جو نیوزی لینڈ کی کل آبادی سے زیادہ ہے، اور اگر پیدائش میں وقفہ اور ویکسینیشن کے نظام پر توجہ نہ دی گئی تو 2030 تک ہم دنیا کے آبادی کے لحاظ سے چھٹے ملک بن جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ بلدیاتی اداروں کو مستحکم کر کے صفائی اور ویکسینیشن کے نظام کو فعال بنایا جائے تاکہ بچوں کو بیمار ہونے سے بچایا جا سکے۔

وزیر صحت نے کہا کہ موجودہ نظام میں ویکسین لگانے کی کوشش پر بھی لوگوں کی مزاحمت ایک بڑا چیلنج ہے، اور عوامی شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بچوں کو صحت مند بنایا جا سکے۔