LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
صدرِ مملکت آصف علی زرداری کا دورۂ جرمنی مکمل، وطن واپسی کے لیے روانہ سہیل آفریدی دہشت گردوں کی پشت پناہی کرتے رہے، شواہد موجود ہیں: عقیل ملک متحدہ عرب امارات نے اقوام متحدہ کی سربراہی کیلئے لانا نسیبہ کو نامزد کر دیا پب جی گیم سے متاثر ہو کر بینک ڈکیتی کے ملزم کی درخواست ضمانت خارج میر رضا کیس میں اہم پیش رفت، ڈی آئی جی ویسٹ جے آئی ٹی کے سربراہ مقرر اسحاق ڈار کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی کا اجلاس، گندم مہنگی کرنے کے رجحان پر اظہارِ تشویش ملتان میں مبینہ زیادتی و رابری کا ڈراپ سین، وقوعہ منصوبہ بندی کے تحت رچایا گیا کشمیر پاکستان کی شہ رگ، دونوں لازم و ملزوم ہیں: صدر آزاد کشمیر ساہیوال میں بھی ای چالان سسٹم کا آغاز، ٹریفک خلاف ورزیوں کی نگرانی شروع وزیراعلیٰ مریم نواز کا حنا جاوید قتل کیس پر اہم بیان سامنے آگیا لاہور میں شہری کے نام پر 2354 گاڑیاں رجسٹرڈ ہونے کا حیران کن انکشاف افغان طالبان ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور ان سے وابستہ گروہوں کی معاونت ختم کریں: پاکستان وزیراعظم سے لاہور چیمبر آف کامرس کے فاؤنڈرز گروپ کے وفد کی ملاقات جج پر مبینہ رشوت کا الزام: لاہور بار کا وزیراعلیٰ مریم نواز کے خلاف ’پیکا ایکٹ‘ تحت مقدمہ درج کرانے کا اعلان پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت پائیداری میں اہم پیش رفت کر رہی ہے: برطانوی ہائی کمشنر

نکاح سے قبل مرد و خواتین کا تھیلسیمیا ٹیسٹ لازمی قرار دیا جائے، وفاقی وزیر مصطفی کمال

Web Desk

1 January 2026

وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے کہا ہے کہ تھیلسیمیا جیسے مرض کو بروقت ٹیسٹنگ اور احتیاطی اقدامات کے ذریعے روکا جا سکتا ہے، تاہم حکومتوں کی نااہلی کی وجہ سے یہ ممکن نہ ہو سکا۔
انہوں نے زور دیا کہ نکاح سے قبل مرد و خواتین کا تھیلسیمیا ٹیسٹ لازمی قرار دیا جائے تاکہ معاشرتی اور صحت کے چیلنجز کم کیے جا سکیں اور بچوں کو اس مرض کا شکار ہونے سے بچایا جا سکے۔

وزیر صحت نے کہا کہ اعضا پیوندکاری اداروں کی ریگولیشنز اس لیے کی گئی ہیں تاکہ اعضا کی فروخت کا کاروبار نہ بنے اور خون یا بون میرو کے ذریعے زندگی بچانے والے مریض محفوظ رہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ بون میرو ٹرانسپلانٹ کے لیے اب قانونی رکاوٹیں دور کر دی گئی ہیں اور اعضا پیوندکاری قانون میں ترمیم مکمل ہو چکی ہے۔

مصطفی کمال نے کہا کہ اگر کوئی تھیلسیمیا مائنر ٹیسٹ نہ کرائے تو وہ بچوں کی جان کے لیے خطرہ ہے، اور حکومت کو معاشرے میں شعور بیدار کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ احتیاط علاج سے بہتر ہے اور اسپتال بنانا یا مریضوں کا انتظار کرنا حل نہیں بلکہ مریض بننے سے بچانا اصل حل ہے۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ پاکستان میں ہر سال تقریباً 62 لاکھ بچے پیدا ہو رہے ہیں جو نیوزی لینڈ کی کل آبادی سے زیادہ ہے، اور اگر پیدائش میں وقفہ اور ویکسینیشن کے نظام پر توجہ نہ دی گئی تو 2030 تک ہم دنیا کے آبادی کے لحاظ سے چھٹے ملک بن جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ بلدیاتی اداروں کو مستحکم کر کے صفائی اور ویکسینیشن کے نظام کو فعال بنایا جائے تاکہ بچوں کو بیمار ہونے سے بچایا جا سکے۔

وزیر صحت نے کہا کہ موجودہ نظام میں ویکسین لگانے کی کوشش پر بھی لوگوں کی مزاحمت ایک بڑا چیلنج ہے، اور عوامی شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بچوں کو صحت مند بنایا جا سکے۔