LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کی 40 روزہ جنگ کے دوران 3519 افراد جاں بحق ہونے کی تصدیق امریکا کے ساتھ عبوری معاہدے پر عملدرآمد تک مذاکرات نہیں ہوں گے: عراقچی ترکش پیٹرولیم پاکستان کے سمندروں میں آف شور ڈرلنگ کرنے جا رہی ہے: علی پرویز گڈز اور منی مزدا ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کا دوسرا روز، گاڑیوں کی روانگی معطل افغان حکومت اپنی سرزمین پاکستان میں دہشتگردی کیلئے استعمال نہ ہونے دے، حافظ نعیم پاکستان، سعودیہ اور ترکیہ کا مکہ باہمی دفاعی معاہدے کے بعد خصوصی نغمہ جاری مریم نواز سے ایم پی ایز کی ملاقات، سیاسی امور، عوامی فلاحی منصوبوں پر تبادلہ خیال کوسوو میں اپوزیشن رکن اسمبلی نے قائم مقام وزیراعظم پر انڈے پھینک دیے سعودی عرب اور یمن کی متحدہ عرب امارات کے آئل ٹینکر پر حملے کی مذمت آزاد جموں و کشمیر قانون اسمبلی کے انتخابات کا تیسرا مرحلہ کل ہوگا آئی ایس پی آر سمر انٹرن شپ پروگرام، ڈاکٹر معید یوسف کی طلبہ کیساتھ خصوصی نشست نائجیریا کی تاریخ کا سب سے بڑا ریسکیو آپریشن، 6ماہ سے جنگل میں قید 308 افراد بازیاب صدر کا قدیم مقامی باشندگان کے حقوق، ثقافت کے تحفظ کیلئے پاکستان کے عزم کا اعادہ محسن نقوی کا لاہور ایئرپورٹ کا دورہ، امیگریشن کے عمل کا جائزہ لیا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ خطے کے کسی ملک کیلئے خطرہ نہیں: سعودی عہدیدار

طالبان رجیم کا بدترین اقتدار، خواتین کے بعد اب نوجوانوں کا بھی مستقبل تاریک

Web Desk

15 July 2026

افغانستان میں خواتین پر تعلیم اور روزگار کے دروازے بند کرنے کے بعد اب طالبان حکومت نے نوجوانوں کو بھی ان کے بنیادی حقِ تعلیم سے محروم کرنا شروع کر دیا ہے۔ عالمی جریدے ’دی گارڈین‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق، اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے تعلیم، سائنس و ثقافت (یونیسکو) نے انکشاف کیا ہے کہ طالبان کے برسرِاقتدار آنے کے بعد ملک میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کی تعداد میں شدید ترین کمی واقع ہوئی ہے، جس نے افغان نوجوانوں کے مستقبل کو داؤ پر لگا دیا ہے۔

اقوامِ متحدہ میں انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے اس تشویشناک صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان رجیم نے لاکھوں افغان شہریوں کو بنیادی حقوق سے محروم کر کے انسانی حقوق کی سنگین ترین خلاف ورزی کی ہے۔ انہوں نے عالمی برادری کی خاموشی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جہاں خواتین کی تعلیم پر بات کی جاتی ہے، وہیں افغان طالبان کے زیرِ تسلط پڑھنے والے نوجوان طلبہ کی اس بدترین اور مظلومانہ حالت پر کسی بھی بڑے عالمی فورم پر مؤثر طریقے سے آواز نہیں اٹھائی جا رہی۔  مقامی افغان طلبہ کا کہنا ہے کہ یونیورسٹیوں میں طالبان کے سخت قوانین نافذ ہیں، جہاں داڑھی نہ رکھنے یا لباس کے ضوابط کی معمولی خلاف ورزی پر بھی طلبہ کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، تعلیمی شعبے کے انتہائی تجربہ کار اور قابل پروفیسرز کے ملک چھوڑ جانے سے افغانستان کی اعلیٰ جامعات کا تعلیمی معیار تباہ ہو کر رہ گیا ہے۔

ماہرینِ تعلیم اور تجزیہ کاروں کے مطابق، طالبان کا بنیادی مقصد تعلیمی اداروں کو مکمل طور پر مفلوج کر کے نئی نسل کو فکری اور تعلیمی طور پر تباہ کرنا ہے۔ اس سلسلے میں بھارتی صحافی دھرم جوت نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ روزگار اور تعلیم پر عائد کڑی پابندیاں افغان عوام کے بنیادی حقوق کا بدترین استحصال ہیں اور افغانستان پر مسلط موجودہ طالبان رجیم عالمی سطح پر انسانی حقوق پامال کرنے کی بدترین مثال بن چکی ہے