LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا کے ایرانی تنصیبات پر حملے، کویت اور بحرین میں جوابی میزائل داغ دیئے گئے ٹرمپ کی چیف آف سٹاف سوزی وائلز کا عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ ایرانی سپریم لیڈر نے 2 ہزار سے زائد قیدیوں کی سزا معاف کر دی امریکا نے کویت کو انسداد ڈرون، متعلقہ آلات کی ممکنہ فروخت کی منظوری دیدی بجٹ تاخیر اور معاشی بحران، حکومت پر دباؤ بڑھ گیا: اسد قیصر امریکی صدر ٹرمپ کی عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی کی پیشگوئی گلگت بلتستان میں انتخابی مہم کا وقت ختم، ووٹنگ 7 جون کو ہوگی امن و سلامتی کو نقصان پہچانے کا الزام، جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کالعدم قرار حکومت کا عوام کو جزوی ریلیف، پیٹرول کی قیمت میں کمی، ڈیزل برقرار نیویارک میں سینٹر 360 کا آغاز، شہریوں کے لیے شہر کے دلکش مناظر مفت دستیاب اسلام آباد کیلئے علیحدہ اسمبلی کے قیام کی سفارش، براہ راست انتخابات اور نیا انتظامی نظام تجویز پاکستان ٹرمپ انتظامیہ کا اہم شراکت دار، علاقائی عدم استحکام چیلنج ہے: امریکی میڈیا پُرامن دنیا کی جانب بڑھنے کے لیے سرحدوں کی حفاظت ضروری ہے: محسن نقوی وزیر اعظم نے کمرشل کورٹس کے قیام کیلئے 8 رکنی کمیٹی تشکیل دیدی فرینکفرٹ ایئرپورٹ پر بڑا حادثہ؛ مسافروں کی بورڈنگ کے دوران برانڈ نیو بوئنگ طیارے کا نوز گیئر گر گیا

ٹرمپ کی چیف آف سٹاف سوزی وائلز کا عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ

Web Desk

6 June 2026

امریکی صدارتی محل ‘وائٹ ہاؤس’ سے اس وقت کی ایک بہت بڑی سیاسی خبر سامنے آئی ہے، جہاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتہائی قابلِ اعتماد اور چیف آف سٹاف سوزی وائلز (Suzie Wiles) نے بھی اپنے اہم ترین عہدے سے علیحدگی اختیار کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

برطانوی اخبار کی جانب سے جاری کردہ ایک تہلکہ خیز رپورٹ کے مطابق، 69 سالہ سوزی وائلز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کابینہ میں جاری اندرونی انتشار، بدنظمی اور خود صدر ٹرمپ کی جانب سے مبینہ طور پر کی جانے والی توہین آمیز رویوں سے شدید تنگ آ چکی ہیں، جس کے باعث انہوں نے یہ انتہائی قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

سوزی وائلز کی رخصتی کو ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے، جس کی وجوہات درج ذیل ہیں سوزی وائلز کوئی عام عہدیدار نہیں ہیں، بلکہ وہ سال 2015ء میں ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی انتخابی مہم کے آغاز سے ہی ان کے ساتھ مسلسل کھڑی رہی ہیں۔وہ وائٹ ہاؤس کے سب سے طاقتور اور اہم ترین مینوئل پوزیشن یعنی ‘چیف آف سٹاف’ کے عہدے پر تعینات ہیں، جہاں سے پورے وائٹ ہاؤس کا نظام چلایا جاتا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق، وائٹ ہاؤس کے مینوئل گائیڈ اور انتظامی امور پر سخت گرفت رکھنے والی سوزی وائلز کا اس طرح دلبرداشتہ ہو کر الگ ہونا یہ واضع کرتا ہے کہ ٹرمپ الیون کے اندرونی حالات سازگار نہیں ہیں۔

برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ کابینہ کے اراکین کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات، پالیسیوں میں تسلسل کا فقدان اور صدر ٹرمپ کا اپنے قریبی ساتھیوں کے ساتھ سخت اور ہتک آمیز رویہ اس مروجہ استعفے کی اصل وجہ بنا ہے۔ اس اہم ترین مینوئل پوزیشن کے خالی ہونے کے بعد اب وائٹ ہاؤس کے اگلے چیف آف سٹاف کے لیے نئے ناموں پر غور شروع کر دیا گیا ہے۔