LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا کو جواب دینا ہوگا، مذاکرات چاہتا ہے یا خلل ڈالنا؟ ایرانی صدر حکمرانوں کے ناجائز معاہدوں نے ملکی معیشت کو تباہ کیا: حافظ نعیم الرحمان پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان باقاعدہ مذاکرات کل سے شروع ہوں گے، معاشی کارکردگی اور اصلاحات پر تفصیلی بریفنگ دی جائے گی امریکی فضائی اڈے کے قریب ہنگامی صورتحال، متعدد افراد گرفتار نورستان جھڑپ، پاکستان نے افغان طالبان کے الزامات مسترد کر دیے: وزراتِ اطلاعات بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 96 گھنٹوں میں 71 سے زائد دہشتگرد ہلاک پاک بحریہ کی آبدوز ہنگور کا لائیو ویپن فائرنگ کا شاندار مظاہرہ امریکی ایف بی آئی کی مطلوبہ فہرست میں شامل مفرور پاکستانی نژاد ڈاکٹر زاہد الاسلام سے متعلق نیا بیان جاری اقوام متحدہ میں شہباز شریف کا خطاب فلسطینی مشن نے سوشل میڈیا پر نمایاں کر دیا وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی کی علی امین گنڈاپور کے گھر آمد جنوبی افریقہ میں فائرنگ کے دو واقعات میں 27 افراد ہلاک، متعدد زخمی حکومت ملک بھر میں سیاحت کے فروغ کیلئے فعال اقدامات کر رہی ہے: وزیراعظم رمضان قادروف 99.85 فیصد ووٹ لیکر پانچویں مرتبہ چیچنیا کے سربراہ منتخب امریکا اور چین کا 30 ارب ڈالر کی اشیاء پر ٹیرف کم کرنے کا فیصلہ دشمن کیلئے ’سرپرائز‘ تیار، حملوں پر نئی فوجی ٹیکنالوجی سے جواب دیا جائے گا: ایران

ماڈل ارشد چائے والا کا پاسپورٹ ایک سال بعد بھی تجدید نہ ہوا، عدالت نے جواب طلب کرلیا

Web Desk

15 August 2026

اسلام آباد ہائیکورٹ نے معروف ماڈل ارشد خان (عرف ارشد چائے والا) کا قومی شناختی کارڈ بحال ہونے کے باوجود ایک سال سے پاسپورٹ کی تجدید نہ ہونے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف پاسپورٹ اینڈ امیگریشن سے جواب طلب کر لیا ہے۔ کیس کی سماعت کرتے ہوئے جسٹس عمیر مجید ملک نے دو صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامہ جاری کیا، جس میں انہوں نے استفسار کیا کہ تمام قانونی مراحل مکمل ہونے اور ایک سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود درخواست گزار کو پاسپورٹ کیوں جاری نہیں کیا گیا۔

عدالت میں ارشد چائے والا کی جانب سے بیرسٹر عمر اعجاز گیلانی نے موقف اختیار کیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابقہ احکامات کی روشنی میں نادرا نے ان کے موکل کا شناختی کارڈ بلاک لسٹ سے نکال کر بحال کر دیا تھا، جس کے بعد انہوں نے 20 اگست 2025 کو پاسپورٹ کی تجدید کی درخواست جمع کرائی۔ انہوں نے بتایا کہ پاسپورٹ اتھارٹی کی جانب سے ڈیلیوری کے لیے 28 اگست 2025 کی تاریخ دی گئی تھی، تاہم مقررہ وقت گزر جانے کے باوجود نہ تو پاسپورٹ جاری کیا گیا اور نہ ہی تاخیر کی کوئی وجہ بتائی گئی۔ وکیل صفائی نے نقطہ اٹھایا کہ پاسپورٹ کی عدم فراہمی آئینِ پاکستان کے تحت ملنے والے بنیادی حقوق کی شدید خلاف ورزی ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاسپورٹ حکام کو تحریری جواب جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی مزید سماعت عدالت عالیہ کی تعطیلات کے بعد تک کے لیے ملتوی کر دی۔