LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعظم کا ملائیشین ہم منصب سے رابطہ،تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق فیلڈ مارشل سے جمہوریہ کانگو کے دفاعی وفد کی ملاقات، سکیورٹی تعاون بڑھانے پر اتفاق پاکستان سمیت 12 ممالک کی شمال مغربی شام میں اسرائیلی فضائی حملے کی شدید مذمت اپوزیشن کا 27 ستمبر کا احتجاج اور لانگ مارچ برقرار رکھنے کا فیصلہ حکومت کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کرنے جا رہے ہیں: سہیل آفریدی بلوچستان کے مسائل ڈائیلاگ سے حل ہونے چاہئیں، وسائل پر پہلا حق عوام کا ہے: وزیراعظم بلوچستان میں 10 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران 37 دہشتگرد ہلاک اپوزیشن جماعتوں کے نئے الائنس کا معاملہ، اہم مشاورتی اجلاس آج ہوگا پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کے اجلاس، اپوزیشن کا احتجاج ملائیشین وزیر داخلہ کا نادرا ہیڈکوارٹرز کا دورہ، ڈیجیٹل نظام کو سراہا امریکی پابندیاں اور معاشی دباؤ مشرقِ وسطیٰ کے مسئلے کا حل نہیں: چین عمران خان کی صحت بالکل ٹھیک ہے، سیاست کا معیار گٹر میں ڈال دیا گیا ہے، خواجہ آصف عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے خلاف دوبارہ نظرثانی درخواست دائر پنجاب میں بلدیاتی انتخابات، الیکشن میٹریل کی خریداری کے اقدامات شروع وزیراعلیٰ مریم نواز نے جناح انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا افتتاح کر دیا

طیاروں کی ہوا میں موجود بیکٹیریا سے متعلق حیران کن انکشاف!

Web Desk

6 December 2025

جرنل مائیکرو بائیوم میں شائع ہونے والی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ہوائی جہازوں اور اسپتالوں کی ہوا میں زیادہ تر بے ضرر مائیکروبز پائے جاتے ہیں جو عام طور پر انسانی جلد سے تعلق رکھتے ہیں۔

محققین کے مطابق اس جدید تحقیق میں ہوائی سفر کرنے والوں اور صحت کی دیکھ بھال کرنے والے عملے کے پہنے گئے ماسک کی بیرونی سطح پر موجود جراثیم کے نمونوں کا تجزیہ کیا گیا۔امریکی ریاست الِینوائے کے شہر ایونسٹن کی نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کی ایسوسی ایٹ پروفیسر اور سینیئر محقق ایریکا ہارٹمن کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ احساس ہوا کہ ہم چہرے کے ماسک کو ذاتی اور عوامی سطح پر ایک سستا اور آسان ایئر سیمپلنگ کی ڈیوائس کے طور پراستعمال کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ محققین نے ان ماسک سے ڈی این اے نکالا اور وہاں پائے جانے والے بیکٹیریا کی اقسام کا جائزہ لیا۔مجموعی طور پر ٹیم نے 10 ہوائی سفر کرنے والوں اور 12 صحت کے کارکنوں کے ماسک سے جراثیم کا تجزیہ کیا۔ مسافر اپنی پرواز کے بعد اور اسپتال کے کارکن اپنی شفٹ کے بعد اپنے ماسک فراہم کرتے تھے۔محققین نے ایک ایئرکرافٹ کیبن فلٹر سے بھی جراثیم کا تجزیہ کیا، جس کو آٹھ ہزار گھنٹوں سے زیادہ وقت تک استعمال کیا گیا تھامجموعی طور پر، ٹیم نے 407 مختلف مائیکروب کی انواع کا پتہ لگایا۔ایریکا ہارٹمن نے بتایا کہ کچھ حد تک غیر متوقع طور پر یہ بیکٹیریا وہ اقسام تھیں جو ہم عام طور پر اندرونی ہوا سے منسلک کرتے ہیں اور اندرونی ہوا ویسی ہی ہوتی ہے جیسی انسانی جلد