LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعظم بجلی کی لوڈشیڈنگ پر برہم، 2 گھنٹے سے زائد نہ کرنے کا حکم ایرانی نائب صدر کا یمن میں حوثیوں کی کارروائیوں پر اظہارِ مسرت سندھ اسمبلی نے رینجرز کی تعیناتی میں مزید ایک سال کی توسیع کر دی ایران کی آئی اے ای اے پر کڑی تنقید، جنگ کا جواز فراہم کرنے کا الزام مولانا سے ملاقات میں سینیٹ اور قومی اسمبلی میں مشترکہ اپوزیشن پر اتفاق ہوا: بیرسٹر گوہر موخا ایئرپورٹ پر سعودی عرب کے 2 فضائی حملے، حوثی باب المندب کے قریب پہنچ گئے پوزیشن کا اہم اجلاس: 27 ستمبر احتجاج کی تیاریوں کی ہدایت، ملک گیر آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا فیصلہ محسن نقوی سے رابطہ رہتا ہے، تفصیلات نہیں بتائیں گے، بیرسٹر گوہر چیف الیکشن کمشنر کی تقرری، حکومت اور حزب اختلاف میں مشاورت کا آغاز 27 پی ٹی آئی کی پولیس چھاپوں اور گرفتاریوں کے خلاف لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بنچ میں درخواست دائر لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو بے دخل کرنے سے روک دیا ٹرمپ نے حوثیوں کے خلاف کارروائی کی سعودی درخواست مسترد کر دی: امریکی میڈیا ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کے فیصلے پر کوئی پچھتاوا نہیں: ٹرمپ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں شدید مندی، 2500 سے زائد پوائنٹس کی کمی امریکہ: میڈیکیڈ میں 6 کروڑ 40 لاکھ ڈالر فراڈ پر ذکیہ خان کو 76 ماہ قید اور بھاری جرمانے کی سزا

طیاروں کی ہوا میں موجود بیکٹیریا سے متعلق حیران کن انکشاف!

Web Desk

6 December 2025

جرنل مائیکرو بائیوم میں شائع ہونے والی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ہوائی جہازوں اور اسپتالوں کی ہوا میں زیادہ تر بے ضرر مائیکروبز پائے جاتے ہیں جو عام طور پر انسانی جلد سے تعلق رکھتے ہیں۔

محققین کے مطابق اس جدید تحقیق میں ہوائی سفر کرنے والوں اور صحت کی دیکھ بھال کرنے والے عملے کے پہنے گئے ماسک کی بیرونی سطح پر موجود جراثیم کے نمونوں کا تجزیہ کیا گیا۔امریکی ریاست الِینوائے کے شہر ایونسٹن کی نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کی ایسوسی ایٹ پروفیسر اور سینیئر محقق ایریکا ہارٹمن کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ احساس ہوا کہ ہم چہرے کے ماسک کو ذاتی اور عوامی سطح پر ایک سستا اور آسان ایئر سیمپلنگ کی ڈیوائس کے طور پراستعمال کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ محققین نے ان ماسک سے ڈی این اے نکالا اور وہاں پائے جانے والے بیکٹیریا کی اقسام کا جائزہ لیا۔مجموعی طور پر ٹیم نے 10 ہوائی سفر کرنے والوں اور 12 صحت کے کارکنوں کے ماسک سے جراثیم کا تجزیہ کیا۔ مسافر اپنی پرواز کے بعد اور اسپتال کے کارکن اپنی شفٹ کے بعد اپنے ماسک فراہم کرتے تھے۔محققین نے ایک ایئرکرافٹ کیبن فلٹر سے بھی جراثیم کا تجزیہ کیا، جس کو آٹھ ہزار گھنٹوں سے زیادہ وقت تک استعمال کیا گیا تھامجموعی طور پر، ٹیم نے 407 مختلف مائیکروب کی انواع کا پتہ لگایا۔ایریکا ہارٹمن نے بتایا کہ کچھ حد تک غیر متوقع طور پر یہ بیکٹیریا وہ اقسام تھیں جو ہم عام طور پر اندرونی ہوا سے منسلک کرتے ہیں اور اندرونی ہوا ویسی ہی ہوتی ہے جیسی انسانی جلد