LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
مریم اورنگزیب سے چینی ڈپٹی ہیڈ آف مشن کی ملاقات، مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق فورسز کے ساتھ کھڑی نہ ہونے والی سیاسی جماعت مائنس ہو جائے گی: رانا ثنا اللہ نیوزی لینڈ کی فوج کے سربراہ نامناسب تعلق کا انکشاف ہونے پر مستعفی باغوں کا شہر کنکریٹ کا جنگل بن گیا، لاہور کا گرین ایریا خطرناک حد تک سکڑ گیا سکوٹی پر سفر کرتی لڑکی سے غنڈہ گردی اور تشدد کرنے والا ملزم گرفتار استنبول میں پاکستان سمیت 7 ملکی اجلاس، خطے کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا محکمہ تعلیم خیبرپختونخوا میں کروڑوں کی مالی بے ضابطگیاں سامنے آگئیں اسحاق ڈار کی آر فور ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، علاقائی امن پر زور ٹرمپ کا ایران جنگ جلد ختم کرنے کا دعویٰ، یوکرین میں سٹارلنک کا مسئلہ حل کرانے کی یقین دہانی اسحاق ڈار کی مصری وزیر خارجہ سے ملاقات، تجارتی، دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق شہباز شریف کی صدر آزاد کشمیر سے ملاقات، کشمیریوں کی حمایت جاری رکھنے کا عزم کراچی: پورٹ قاسم پر ایل پی جی کے 2 بحری جہاز پہنچ گئے، 7 ہزار 600 میٹرک ٹن سے زائد گیس درآمد پاکستان اور دنیا بھر میں پاکستانی سفارتی مشنز پر ای پاسپورٹ کا اجرا شروع تائیوان میں سمندری طوفان چمپی کی تباہ کاریاں، ایک شخص ہلاک، 171 زخمی امریکی سفارتخانے کے زیرِ اہتمام پہلی ’شاہکار فنکار‘ ایلومنائی آرٹسٹ نمائش کا افتتاح، مینا ہارون کے فن پارے پیش

طیاروں کی ہوا میں موجود بیکٹیریا سے متعلق حیران کن انکشاف!

Web Desk

6 December 2025

جرنل مائیکرو بائیوم میں شائع ہونے والی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ہوائی جہازوں اور اسپتالوں کی ہوا میں زیادہ تر بے ضرر مائیکروبز پائے جاتے ہیں جو عام طور پر انسانی جلد سے تعلق رکھتے ہیں۔

محققین کے مطابق اس جدید تحقیق میں ہوائی سفر کرنے والوں اور صحت کی دیکھ بھال کرنے والے عملے کے پہنے گئے ماسک کی بیرونی سطح پر موجود جراثیم کے نمونوں کا تجزیہ کیا گیا۔امریکی ریاست الِینوائے کے شہر ایونسٹن کی نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کی ایسوسی ایٹ پروفیسر اور سینیئر محقق ایریکا ہارٹمن کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ احساس ہوا کہ ہم چہرے کے ماسک کو ذاتی اور عوامی سطح پر ایک سستا اور آسان ایئر سیمپلنگ کی ڈیوائس کے طور پراستعمال کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ محققین نے ان ماسک سے ڈی این اے نکالا اور وہاں پائے جانے والے بیکٹیریا کی اقسام کا جائزہ لیا۔مجموعی طور پر ٹیم نے 10 ہوائی سفر کرنے والوں اور 12 صحت کے کارکنوں کے ماسک سے جراثیم کا تجزیہ کیا۔ مسافر اپنی پرواز کے بعد اور اسپتال کے کارکن اپنی شفٹ کے بعد اپنے ماسک فراہم کرتے تھے۔محققین نے ایک ایئرکرافٹ کیبن فلٹر سے بھی جراثیم کا تجزیہ کیا، جس کو آٹھ ہزار گھنٹوں سے زیادہ وقت تک استعمال کیا گیا تھامجموعی طور پر، ٹیم نے 407 مختلف مائیکروب کی انواع کا پتہ لگایا۔ایریکا ہارٹمن نے بتایا کہ کچھ حد تک غیر متوقع طور پر یہ بیکٹیریا وہ اقسام تھیں جو ہم عام طور پر اندرونی ہوا سے منسلک کرتے ہیں اور اندرونی ہوا ویسی ہی ہوتی ہے جیسی انسانی جلد