LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا بار بار وعدہ خلافی کرتا، سفارتکاری بارے واشنگٹن کا رویہ نامناسب ہے: ایران جسٹس منیب اختر نے قائم مقام چیف جسٹس سپریم کورٹ کا حلف اٹھا لیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران پر حملے کا دفاع، دوبارہ بھی حملوں کا اعلان سعودی عرب نے طائف کی جانب داغا گیا بیلسٹک میزائل فضا میں تباہ کر دیا ایران کیخلاف جنگ میں امریکا کے اخراجات 47 ارب ڈالر سے متجاوز ایران کے 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم کا سراغ تاحال نہیں مل سکا، رافیل گروسی برطانیہ میں آر اے ایف فیئر فورڈ ایئربیس واقعے میں ملوث 2 افراد پر فرد جرم عائد فرانس نے سمندری نگرانی کرنے والا طیارہ عارضی طور پر رومانیہ منتقل کر دیا اسرائیل الیکشن، ایگزٹ پولز میں نیتن یاہو کے اتحاد کو معمولی برتری حاصل کولمبیا کے جنوب مغربی علاقے میں حملہ، 6 افراد ہلاک برازیل نے صدارتی انتخابات میں دھاندلی کے امریکی الزام کو مسترد کر دیا برطانیہ نے یورپی یونین میں دوبارہ شمولیت کا امکان مسترد کر دیا سعودی ولی عہد کو قازقستان کے صدر کا تحریری مکتوب موصول اردن کا چرچ حملے کے بعد جنوبی شام پر فضائی حملہ، متعدد ہلاکتوں کا دعویٰ اردن کے فضائی حملے، شام نے سرحدی گزرگاہ بند کر دی

پیٹرول سبسڈی اور گیس کمپنیوں کے واجبات پر حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان ڈیڈلاک برقرار

Web Desk

2 October 2026

اسلام آباد میں پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی اور گیس سیکٹر کے مالیاتی امور پر حکومت اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان مذاکرات میں اہم امور پر اتفاق نہیں ہو سکا۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے ایندھن پر سبسڈی مکمل طور پر ختم کرکے صرف ہدفی ریلیف دینے پر اصرار کیا ہے، جبکہ حکومت نے موٹر سائیکل اور چھوٹی گاڑیوں کے لیے فیول ریلیف اسکیم فوری ختم نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تین ماہ کی اس فیول سبسڈی کی لاگت 75 ارب روپے سے تجاوز کر سکتی ہے۔ پاکستان کی جانب سے بریفنگ میں بتایا گیا کہ درآمدی پیٹرول کی قیمت تقریباً 250 روپے ہے جو صارفین کو 390 روپے فی لیٹر میں فروخت ہو رہا ہے، جس میں تقریباً 110 روپے فی لیٹر ٹیکس اور 27 روپے مختلف مارجنز شامل ہیں۔ دوسری جانب گیس کمپنیوں کے 1.4 ٹریلین روپے کے قابل وصول واجبات معاف کرنے کے معاملے پر بھی اختلاف پایا جاتا ہے جبکہ گیس سیکٹر کے گردشی قرضے کا حجم 3.6 ٹریلین روپے تک پہنچ چکا ہے۔ حکومت نے او جی ڈی سی، پی پی ایل اور جی ایچ پی ایل کے 850 ارب روپے کے اضافی منافع اور ٹیرف ڈیفرنس کلیمز کے ذریعے قرضہ نمٹانے کی تجویز پیش کی ہے، تاہم آئی ایم ایف نے اسے مالی طور پر غیر جانبدار نہ قرار دیتے ہوئے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اس کے باوجود آئی ایم ایف نے گیس سیکٹر میں اصلاحات اور گیس چوری میں کمی کی کوششوں کو سراہا ہے جبکہ گیس سیکٹر کے گردشی قرضے کے انتظامی منصوبے پر تفصیلی اجلاس آئندہ ہفتے متوقع ہے۔