LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی فوج نے آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں صاف کر دیں: صدر ٹرمپ کا دعویٰ امریکی فوجی اڈوں کی منتقلی کیلئے بغداد اور واشنگٹن میں رابطے جاری میر رضا قتل کیس: مقتول کے معدے سے تیزاب کی موجودگی کے شواہد مل گئے امریکا سفارت کاری میں ناکامی کے بعد پابندیوں کا سہارا لیتا ہے: اسماعیل بقائی عمان میں پھنسے آئل ٹینکر سے خام تیل کا اخراج بدستور جاری امریکا سمجھ چکا آبنائے ہرمز فوجی طاقت سے نہیں کھلے گا: ایران کولمبیا میں شدید زلزلے کے بعد آفٹر شاکس کا سلسلہ جاری،77 افراد ہلاک، درجنوں عمارتیں منہدم حکومت کا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا اعلان روس جیسے وسیع ملک میں علاقوں کا آبادی سے خالی ہونا ناقابل قبول ہے: صدر پوتن حکومت بانی پی ٹی آئی کی صحت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی: احسن اقبال شمالی وزیرستان میں رات کے اوقات میں عوامی نقل و حرکت پر پابندی عائد ٹرمپ کا ایران سے جنگی نقصانات کا معاوضہ مانگنے کا اعلان محمد علی ملک سٹیٹ بینک کے ڈپٹی گورنر مقرر، وزارت خزانہ کا نوٹیفکیشن جاری آزاد کشمیر انتخابات: ایل اے 14 غربی باغ میں بڑا اپ سیٹ، ساجد اقبال کی سردار عتیق کو شکست سپریم لیڈر نے ایران کی مسلح افواج میں اعلیٰ فوجی کمانڈروں کی تقرریاں کردیں

سٹیٹ بینک کی ششماہی زری پالیسی رپورٹ جاری، معاشی نمو 4.5 فیصد تک رہنے کی پیشگوئی

Web Desk

10 August 2026

سٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) نے اگست 2026ء کی ششماہی زری پالیسی رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں مالی سال 2027ء کے دوران ملک کی اقتصادی نمو (GDP Growth) 3.5 سے 4.5 فیصد کی حد میں رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

مرکزی بینک کے مطابق، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور تنازعات کے باعث عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں، باربرداری (شپنگ) اور انشورنس کے اخراجات میں تیزی سے اضافہ ریکارڈ کیا گیا، تاہم اس عالمی معاشی دھچکے کے باوجود پاکستان کے مالی سال 2026ء کے اقتصادی نتائج مجموعی طور پر توقعات کے مطابق رہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ سٹیٹ بینک کی محتاط زری پالیسی کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے ثانوی اثرات کو روکنے میں مدد ملی اور مہنگائی کے حوالے سے مارکیٹ اور اسٹیک ہولڈرز کی توقعات بھی قابو میں رہیں۔

سٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق، حکومت نے بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمتوں کے اضافے کو بروقت ملکی سطح پر منتقل کیا، جبکہ حکومتی سطح پر کفایت شعاری اور ہدف پر مبنی سبسڈی کی پالیسی نے مجموعی معاشی طلب کو متوازن رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ رپورٹ میں توقع ظاہر کی گئی ہے کہ مالی سال 2027ء کے اختتام تک افراطِ زر (مہنگائی) اسٹیٹ بینک کے مقررہ ہدف کی بالائی حد کے قریب پہنچ کر مستحکم ہو جائے گی، جبکہ اس دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے صفر سے 1 فیصد کے درمیان رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

ذخائر کے حوالے سے مرکزی بینک نے اعلان کیا ہے کہ دسمبر 2026ء تک ملک کے مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر 20.20 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے اور مالی سال 2027ء کے اختتام تک اس میں مزید بہتری اور اضافے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

تاہم، سٹیٹ بینک نے رپورٹ میں مشرقِ وسطیٰ کی جغرافیائی و سیاسی (جیو پولیٹیکل) صورتحال کو پاکستان کے معاشی منظر نامے کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔ مرکزی بینک کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں توانائی اور بنیادی اجناس کی قیمتیں توقعات سے زیادہ بڑھتی ہیں تو اس سے ملک کا معاشی استوار متاثر ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ سیلاب سمیت دیگر ماحولیاتی خطرات کو بھی معیشت کے لیے نقصان دہ قرار دیا گیا ہے۔ سٹیٹ بینک نے تنبیہ کی ہے کہ اگر ملکی سطح پر ساختی اصلاحات کی منتقلی میں تاخیر کی گئی تو اس سے قومی برآمدات اور ملکی پیداواری صلاحیت پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں