LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
لطف آباد میں گھر کی دوسری منزل پر پراسرار آتشزدگی، بیوہ ماں اور دو کمسن بیٹیاں جاں بحق، قتل کا شبہ اسرائیلی انتخابات: ابتدائی نتائج میں نیتن یاہو اتحاد کی برتری، اکثریت سے دور شہباز شریف نے مسلم لیگ ن خیبرپختونخوا کا اہم اجلاس کل طلب کر لیا حکومت اور پیپلز پارٹی مذاکرات کا دوسرا دور ختم، بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق سعودی سفیر کی خواجہ آصف سے ملاقات، دفاعی تعاون مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ سہیل آفریدی سمیت دیگر ملزمان کے وارنٹ گرفتاری کا حکم نامہ جاری برآمدات میں اضافے کیلئے جی ایس پی پلس فریم ورک سے بھرپور استفادہ کیا جائے: اسحاق ڈار بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے 6 رفقاء کی فہرست جیل حکام کو جمع روہڑی کے قریب ایل پی جی باؤزر دھماکے میں 2 افراد جاں بحق، 4 زخمی مصنوعی ذہانت سے سرکاری اخراجات کم کرنے کا منصوبہ، ہزاروں نوکریاں ختم ہوں گی حوثی ملیشیا کا عدن ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملہ روس اور ایران کے درمیان 8 جوہری پاور یونٹس کی تعمیر کے معاہدوں پر دستخط گھریلو تنازع پر بھائی نے فائرنگ کرکے دو بہنوں کو قتل کردیا ایران کا مستقبل سپریم لیڈر کی ہدایات کے مطابق ہوگا، صدر مسعود پزشکیان انٹربینک میں روپے کی قدر میں بہتری، ڈالر مزید سستا ہوگیا

سٹیٹ بینک کی ششماہی زری پالیسی رپورٹ جاری، معاشی نمو 4.5 فیصد تک رہنے کی پیشگوئی

Web Desk

10 August 2026

سٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) نے اگست 2026ء کی ششماہی زری پالیسی رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں مالی سال 2027ء کے دوران ملک کی اقتصادی نمو (GDP Growth) 3.5 سے 4.5 فیصد کی حد میں رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

مرکزی بینک کے مطابق، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور تنازعات کے باعث عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں، باربرداری (شپنگ) اور انشورنس کے اخراجات میں تیزی سے اضافہ ریکارڈ کیا گیا، تاہم اس عالمی معاشی دھچکے کے باوجود پاکستان کے مالی سال 2026ء کے اقتصادی نتائج مجموعی طور پر توقعات کے مطابق رہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ سٹیٹ بینک کی محتاط زری پالیسی کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے ثانوی اثرات کو روکنے میں مدد ملی اور مہنگائی کے حوالے سے مارکیٹ اور اسٹیک ہولڈرز کی توقعات بھی قابو میں رہیں۔

سٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق، حکومت نے بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمتوں کے اضافے کو بروقت ملکی سطح پر منتقل کیا، جبکہ حکومتی سطح پر کفایت شعاری اور ہدف پر مبنی سبسڈی کی پالیسی نے مجموعی معاشی طلب کو متوازن رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ رپورٹ میں توقع ظاہر کی گئی ہے کہ مالی سال 2027ء کے اختتام تک افراطِ زر (مہنگائی) اسٹیٹ بینک کے مقررہ ہدف کی بالائی حد کے قریب پہنچ کر مستحکم ہو جائے گی، جبکہ اس دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے صفر سے 1 فیصد کے درمیان رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

ذخائر کے حوالے سے مرکزی بینک نے اعلان کیا ہے کہ دسمبر 2026ء تک ملک کے مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر 20.20 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے اور مالی سال 2027ء کے اختتام تک اس میں مزید بہتری اور اضافے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

تاہم، سٹیٹ بینک نے رپورٹ میں مشرقِ وسطیٰ کی جغرافیائی و سیاسی (جیو پولیٹیکل) صورتحال کو پاکستان کے معاشی منظر نامے کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔ مرکزی بینک کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں توانائی اور بنیادی اجناس کی قیمتیں توقعات سے زیادہ بڑھتی ہیں تو اس سے ملک کا معاشی استوار متاثر ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ سیلاب سمیت دیگر ماحولیاتی خطرات کو بھی معیشت کے لیے نقصان دہ قرار دیا گیا ہے۔ سٹیٹ بینک نے تنبیہ کی ہے کہ اگر ملکی سطح پر ساختی اصلاحات کی منتقلی میں تاخیر کی گئی تو اس سے قومی برآمدات اور ملکی پیداواری صلاحیت پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں