LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
جوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس: عدالت کا بانی پی ٹی آئی کو آئندہ سماعت پر پیش کرنے کا حکم، فرخ حبیب و دیگر اشتہاری قرار گورنر راج اچھا فیصلہ نہیں، آخری حد پر نہیں جانا چاہتے: امیر مقام ریاست مخالف پروپیگنڈے کے خلاف این سی سی آئی اے کے خصوصی یونٹس قائم پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا منفی زون میں آغاز صدر اور وزیراعظم کا قوم کی تعمیر میں اساتذہ کے کردار کو خراج تحسین سری لنکن کرکٹ ٹیم کی پاکستان کیخلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز کیلئے پاکستان آمد اچھا استاد معاشرے میں مثبت تبدیلیوں کی بنیاد رکھ سکتا ہے: مریم نواز یمنی وزیر خارجہ کی حوثی ملیشیا کے خلاف فوجی کارروائی کیلئے عالمی حمایت کی اپیل ماہ ستمبر میں جنوبی بلوچستان سے 435 غیر قانونی افغان باشندے گرفتار اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا دورۂ پاکستان، صدر، وزیراعظم اور نائب وزیراعظم سے ملاقاتیں متوقع مکہ دفاعی اتحاد کی سٹریٹجک کمیٹی کا ہنگامی اجلاس آج، علاقائی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا امریکا نے برطانوی فوجی اڈے سے اپنے تمام بمبار طیارے ہٹا لیے سرکاری حج سکیم کے تحت دوسری قسط کی وصولی کا آغاز 7 اکتوبر کے حملے ہماری ناکامی تھے، سبق سیکھنا ہوگا: سربراہ اسرائیلی فوج دبئی میں بزرگ شہریوں کیلئے نئے ہیریٹیج ولیج منصوبے کا باقاعدہ آغاز

شرح سود برقرار: گورنرسٹیٹ بینک کا مانیٹری پالیسی کا اعلان

Web Desk

26 January 2026

گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان محمد جمیل احمد نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے شرح سود کو آئندہ دو ماہ کے لیے برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت میں بتدریج استحکام آ رہا ہے تاہم عالمی اور مقامی عوامل کے باعث محتاط پالیسی اپنائی گئی ہے۔

گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق رواں سال برآمدات میں 6 فیصد تک کمی کا امکان ہے جبکہ مہنگائی کی شرح 7.4 فیصد پر برقرار رہنے کی توقع ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سال 2026 میں افراطِ زر 5 سے 7 فیصد کے درمیان رہ سکتی ہے، اگرچہ بعض مہینوں میں یہ 7 فیصد سے تجاوز بھی کر سکتی ہے۔

محمد جمیل احمد نے بتایا کہ زرعی شعبے کی کارکردگی رواں سال بہتر رہے گی اور فصلوں کی بہتر پیداوار کے باعث زرعی نمو میں اضافہ متوقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑی صنعتوں کی ترقی گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران بہتر ہو کر 10 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ ملکی جی ڈی پی گروتھ 3.75 سے 4.75 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔

گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ ملکی درآمدات میں اضافے سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ صفر سے ایک فیصد کے درمیان رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ترسیلات زر میں بہتری آئی ہے جبکہ درآمدات رواں سال 8 فیصد بڑھ سکتی ہیں۔