LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
آبنائے ہرمز نہ کھلی تو ایران کو سخت فوجی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا: ڈونلڈ ٹرمپ دبئی کے مشہور ہیومنائڈ روبوٹ ’بو سنیدہ‘ نے’موزہ‘ نامی روبوٹ سے شادی کر لی ایران اور امریکا 60 روزہ عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے: امریکی نشریاتی ادارے کا دعویٰ تین شہروں میں غیر ملکی صحافیوں کو آؤٹ ڈور کوریج کے لیے این او سی لازمی قرار امریکی محکمہ دادگستری کی تاریخ کی سب سے بڑی مہم, 10افراد کی شہریت منسوخ کرنے کا اقدام ایرانی دھمکیوں کے باوجود آبنائے ہرمز کا جنوبی بحری راستہ بدستور کھلا ہے، سینٹ کام صدر ٹرمپ کی فنڈ ریزنگ تقریب سے چند گھنٹے قبل گالف کلب سے مسلح شخص گرفتار روس نے کیف کے متعدد علاقوں پر بیلسٹک میزائل داغ دیئے، ہنگامی صورتحال پیدا امریکا ایران جنگ کے خاتمے کی کوششوں میں ثالثی سے نمایاں پیشرفت ہوئی: قطر جنوبی کوریا میں شدید گرمی کی لہر، 16 افراد جان کی بازی ہار گئے ایتھوپیا کے شمالی علاقے امہارا میں شدید بارشیں، لینڈ سلائیڈنگ، 14 افراد ہلاک بھارت کے 5 اگست کے اقدامات عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہیں: عطا تارڑ یمن کے قریب بحیرۂ احمر میں بھارتی کارگو جہاز پروجیکٹائل حملے کے بعد ڈوب گیا سانحہ گل پلازہ: تفتیشی افسر کو تحقیقات مکمل کرنے کیلئے 9 اگست تک مہلت مل گئی ٹرمپ کا امیرِ قطر سے ٹیلیفونک رابطہ، خلیج میں استحکام کیلئے مذاکرات کی اہمیت پر زور

سپیس ایکس کے فالکن 9 راکٹ کا 4 ٹن وزنی دوسرا حصہ چاند سے ٹکرانے کیلئے تیار

Web Desk

5 August 2026

امریکی خلائی کمپنی اسپیس ایکس کے فالکن 9 راکٹ کا تقریباً 4 ٹن وزنی دوسرا حصہ چاند کی سطح سے ٹکرانے جا رہا ہے। یہ حصہ جنوری 2025 میں فائر فلائی ایرو اسپیس کے قمری لینڈر کو خلا میں روانہ کرنے کے بعد وہاں چھوڑ دیا گیا تھا। ماہرین کے مطابق یہ راکٹ تقریباً 8,690 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چاند کے آئن اسٹائن کریٹر (Einstein Crater) سے ٹکرائے گا، جس سے چاند پر گرد و غبار کے بڑے بادل اٹھنے کا امکان ہے، تاہم اس منظر کو زمین سے عام آنکھ سے نہیں دیکھا جا سکے گا۔ اسپیس ایکس نے وضاحت کی ہے کہ یہ حادثہ غیر ارادی ہے؛ چونکہ قمری مشن کے لیے راکٹ کو زیادہ طاقت کی ضرورت تھی، اس لیے اس کا دوسرا مرحلہ زمین پر واپس انے کے بجائے خلا میں ہی رہ گیا اور شمسی سرگرمیوں و کشش ثقل کے باعث اس کا مدار چاند کی طرف مڑ گیا۔ اگرچہ اس تصادم سے زمین یا انسانوں کو کوئی خطرہ نہیں ہے، لیکن اس سے حاصل ہونے والی سائنسی معلومات قمری تحقیق میں مددگار ثابت ہوں گی اور یہ واقعہ خلا میں متروک ملبے کو محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگانے کی اشد ضرورت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔