LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعظم شہباز شریف کی کویتی ولی عہد سے ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق اسرائیلی حکومت ٹرمپ کے غزہ منصوبے میں رکاوٹیں ڈال رہی ہے: اردوان ایم ون اور ایم 14 سمیت اہم شاہراہیں کل شام سے بند کرنے کا اعلان ایران کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، اب مشرق وسطیٰ میں غنڈہ گردی نہیں کر سکتا: ٹرمپ 8 اسلامی ممالک کا غزہ میں فوری امداد اور اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا کا مطالبہ عالمی تقسیم تشویشناک، گوتریس کا جنگیں طاقت سے نہیں مذاکرات سے ختم کرنے پر زور امریکا کے پاس گولہ بارود کی کمی نہیں، ذخائر میں ریکارڈ اضافہ ہو رہا ہے: ٹرمپ فیلڈ مارشل عاصم منیر سے فرانسیسی سیکرٹری جنرل برائے دفاع و قومی سلامتی کی ملاقات سعودی عرب نے ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن دوبارہ فعال کردی ایران نے امریکا کو سات روز میں آبنائے ہرمز کھولنے کی پیشکش کردی این ایف سی میں خیبرپختونخوا کو انسداد دہشتگردی کیلئے ڈیڑھ سوارب سے زائد ملے: عطا تارڑ بیرسٹر گوہر کی راجہ ناصر عباس سے ملاقات: 27 ستمبر لانگ مارچ اور گرفتاریوں کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل پر تبادلہ خیال عالمی و مقامی مارکیٹوں میں سونا مزید سستا ہوگیا اسلام آباد: مفاہمت کا راستہ کبھی بند نہیں کیا، 27 ستمبر کا لانگ مارچ ہر صورت ہوگا: بیرسٹر گوہر جماعت اسلامی کا لانگ مارچ اکتوبر کے پہلے ہفتے تک موخر کرنے کا اعلان

سپیس ایکس کے فالکن 9 راکٹ کا 4 ٹن وزنی دوسرا حصہ چاند سے ٹکرانے کیلئے تیار

Web Desk

5 August 2026

امریکی خلائی کمپنی اسپیس ایکس کے فالکن 9 راکٹ کا تقریباً 4 ٹن وزنی دوسرا حصہ چاند کی سطح سے ٹکرانے جا رہا ہے। یہ حصہ جنوری 2025 میں فائر فلائی ایرو اسپیس کے قمری لینڈر کو خلا میں روانہ کرنے کے بعد وہاں چھوڑ دیا گیا تھا। ماہرین کے مطابق یہ راکٹ تقریباً 8,690 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چاند کے آئن اسٹائن کریٹر (Einstein Crater) سے ٹکرائے گا، جس سے چاند پر گرد و غبار کے بڑے بادل اٹھنے کا امکان ہے، تاہم اس منظر کو زمین سے عام آنکھ سے نہیں دیکھا جا سکے گا۔ اسپیس ایکس نے وضاحت کی ہے کہ یہ حادثہ غیر ارادی ہے؛ چونکہ قمری مشن کے لیے راکٹ کو زیادہ طاقت کی ضرورت تھی، اس لیے اس کا دوسرا مرحلہ زمین پر واپس انے کے بجائے خلا میں ہی رہ گیا اور شمسی سرگرمیوں و کشش ثقل کے باعث اس کا مدار چاند کی طرف مڑ گیا۔ اگرچہ اس تصادم سے زمین یا انسانوں کو کوئی خطرہ نہیں ہے، لیکن اس سے حاصل ہونے والی سائنسی معلومات قمری تحقیق میں مددگار ثابت ہوں گی اور یہ واقعہ خلا میں متروک ملبے کو محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگانے کی اشد ضرورت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔