LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
محمود اچکزئی کی وزیراعظم سے ملاقات کیلئے تیسری جگہ مقرر کرنے کی شرط مسترد لاہور میں بسنت 2027 کی تاریخیں تبدیل، نوٹیفکیشن جاری ملک بھر میں کھیلوں کے فروغ کیلئے ٹیلنٹ کو بلاامتیاز مواقع دیں گے: وزیراعظم او آئی سی اجلاس شروع، عراقی وزیراعظم کی ثالثی کیلئے پاکستان کی ستائش خطے میں کسی بھی محاذ پر لڑائی کا مطلب جنگ جاری رہنا ہے: ایران کے پی حکومت مولانا کے بغیر چلے گی اور ترقی بھی کرے گی: گورنر فیصل کنڈی او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کا اجلاس آج بغداد میں ہوگا، اسحاق ڈار شرکت نہیں کریں گے خیبرپختونخوا میں معدنیات کے لائسنس پی ٹی آئی ادوار میں زیادہ دیئے گئے: خواجہ آصف خلیج میں توانائی تنصیبات پر حملے پاکستانی معیشت کیلئے تشویش کا باعث ہیں: وزیر خزانہ خیبر پختونخوا میں ایکشن پلان تیار، 27 محکموں کیلئے بڑے اقدامات تجویز سرکاری عہدہ ملازمت نہیں، عوامی خدمت کا ذریعہ ہے: مریم نواز فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ: بجلی 2 روپے 56 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی تیاری مشین ریڈایبل پاسپورٹ بند، اب صرف ای پاسپورٹ جاری ہوں گے سانحہ پشاور: سکول کی عمارت ناقص تعمیر کے باعث منہدم ہوئی، رپورٹ پولیس چیف کو ارسال پاکستان نے علاقائی استحکام کے فروغ کیلئے مؤثر کردار ادا کیا: رضوان سعید

8 اسلامی ممالک کا غزہ میں فوری امداد اور اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا کا مطالبہ

Web Desk

22 September 2026

پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے ایک اہم مشترکہ بیان میں غزہ میں مسلسل بڑھتے ہوئے انسانی مصائب پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیل سے اپنے وعدے فوری طور پر پورے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا اور قطر کے وزرائے خارجہ کے اس مشترکہ اعلامیے میں تاکید کی گئی ہے کہ غزہ میں فوری، محفوظ اور بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی کو یقینی بنانا نہایت ضروری ہے۔ وزرائے خارجہ نے جنگ بندی کے تحفظ، تمام تر خلاف ورزیوں کے خاتمے، اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا اور وہاں بین الاقوامی استحکام فورس کی فوری تعیناتی کا زوردار مطالبہ کیا، جبکہ پورے غزہ میں ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے ‘قومی کمیٹی برائے انتظامِ غزہ’ کے آغاز پر بھی اتفاق کیا۔

مشترکہ بیان میں فلسطینیوں کی کسی بھی قسم کی زبردستی بے دخلی یا علاقائی و آبادیاتی تبدیلی کی کوششوں کو قطعی طور پر مسترد کیا گیا، جبکہ اسرائیلی بستیوں کی توسیع، فلسطینی زمینوں پر قبضہ، گھروں کی مسماری اور آباد کاروں کے تشدد کی سخت مذمت کی گئی۔ 8 اسلامی ممالک نے یروشلم (القدس) کے مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو متاثر کرنے کی کوششوں پر شدید تشویش ظاہر کی، تاہم برطانیہ اور یورپی ممالک کی جانب سے غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے تجارت روکنے کے اقدامات کو خوش آئند قرار دیا۔ وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ غزہ فلسطینی ریاست کا غیر منفک حصہ ہے اور اسے مشرقی یروشلم سمیت مغربی کنارے سے یکجا رکھنا لازمی ہے۔ انہوں نے دو ریاستی حل اور مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بنانے والی آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کو ناگزیر قرار دیا، جبکہ تنازع کے حل میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت کو سراہتے ہوئے امریکہ، بورڈ آف پیس اور فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ مل کر کام جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔