LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت گندم درآمد سے متعلق اجلاس، ملکی ذخائر اور طلب و رسد کا جائزہ نیتن یاہو نے ایران پر بڑے حملے کی ہدایت دی، امریکی مخالفت پر منصوبہ رک گیا: برطانوی اخبار روس یوکرین کے ساتھ سہ فریقی امن مذاکرات نومبر کے وسط میں بحال کرنے پر آمادہ فرانسیسی صدر میکرون کا سعودی عرب کا غیر اعلانیہ دورہ، ولی عہد سے ملاقات متوقع امریکی شہر ٹولیڈو میں زہریلے کیمیکل کا ٹینک دھماکے سے پھٹ گیا ترکیہ کا سعودی عرب میں فوجی اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ ترکیہ، قطر، پاکستان اور انڈونیشیا کے دفاعی تعاون بڑھانے کے معاہدے پر دستخط نئے صوبوں کے قیام پر قومی مباحثہ، سیاسی رہنماؤں کا انتظامی یونٹس بڑھانے پر زور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی مبینہ حراست: پشاور ہائیکورٹ کا تحریری حکم نامہ جاری، آئی جی اور چیف سیکرٹری سے رپورٹ طلب الیکشن کمیشن نے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا شیڈول جاری کر دیا، پولنگ 20 دسمبر کو ہوگی پاکستان اورمالدیپ کا دوطرفہ تجارتی حجم 20 کروڑ ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق سرکاری حج سکیم: دوسری قسط جمع کروانے کی تاریخ میں ایک روز کی توسیع نئی آٹو پالیسی پر آئی ایم ایف سے ورچوئل مذاکرات کا فیصلہ، اضافی ٹیکس کی تجویز اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات 2015 کے قانون کے تحت کرانے کا حکم اسحاق ڈار سے صدر مالدیپ کی ملاقات، مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق

اسرائیلی حکومت ٹرمپ کے غزہ منصوبے میں رکاوٹیں ڈال رہی ہے: اردوان

Web Desk

22 September 2026

ترک صدر رجب طیب اردوان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی حکومت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ غزہ منصوبے کی راہ میں مسلسل رکاوٹیں ڈال رہی ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عالمی ادارہ دنیا میں امن قائم رکھنے کی اپنی بنیادی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہا ہے، اس لیے خطے کے مسائل کے حل کے لیے علاقائی سطح پر عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں ترک صدر نے اعلان کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ دفاعی اتحاد ‘علاقائی ملکیت’ کے اصول پر قائم کیا گیا ہے، جس کا مقصد ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے مابین سیکیورٹی و یکجہتی کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

ترک صدر نے اپنے خطاب میں آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی آزادی برقرار رکھنے اور خطے میں سیکیورٹی کے لیے سفارکاری جاری رکھنے پر زور دیا۔ انہوں نے 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر اور مشرقی یروشلم (القدس) کو دارالحکومت بناتے ہوئے ایک آزاد فلسطینی ریاست کے فوری قیام کا مطالبہ کیا، جبکہ غزہ کی جلد از جلد تعمیرِ نو کے لیے اسرائیل پر عالمی دباؤ بڑھانے اور ایک سال قبل شرم الشیخ معاہدے پر عملدرآمد کی اپیل کی۔ اردوان نے واضح کیا کہ فلسطینی ریاست کی آزادی اور خودمختاری کو دبانے کی تمام کوششیں ناکام ہوں گی۔ ترکیہ کے صدر طیب اردوان کے اس دوٹوک خطاب کے دوران اسرائیلی وفد جنرل اسمبلی ہال سے واک آؤٹ کر گیا۔