LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
انتظامی یونٹس میں اضافہ پاکستان کے استحکام کے لیے ضروری ہے: خالد مقبول صدیقی امریکا شرائط مانے تو چھٹے روز آبنائے ہرمز کھلے گا، ساتویں روز مذاکرات ہونگے: ایران خیبر پختونخوا کی معدنیات عوام کی ہیں اور رہیں گی: طارق فضل چودھری اسحاق ڈار کا ایرانی اور مصری وزرائے خارجہ سے رابطہ، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال خیبرپختونخوا کے عوام نے انتشاری ٹولے کو مسترد کردیا: امیر مقام مہر داد اخلاقی ایران کے نئے وزیر دفاع منتخب خواجہ آصف نے یوروکریٹس کی بیرونِ ملک ہجرت بارے سوالات اٹھا دیے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو متنازع نہ بنایا جائے: بلاول بھٹو مالدیپ کے صدر 20 اکتوبر کو پاکستان آئیں گے، کئی معاہدے و مفاہمتی یادداشتیں متوقع امریکا کا ایران سے جوہری پروگرام دوبارہ شروع نہ کرنے کی قابلِ تصدیق ضمانت کا مطالبہ پنجاب میں لیب ٹاپ اور اسکالرشپ سکیم فیز ٹو کا آغاز کر دیا: عظمیٰ بخاری دانش سکول امیر اور غریب کے درمیان فرق ختم کرنے کی کوشش ہے: شہباز شریف وزیراعظم نے اسلام آباد میں دانش سکول کاافتتاح کردیا نجران میں ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، سعودی اتحادی فوج کے 2 ارکان جاں بحق مغربی کنارے میں اسرائیلی قبضہ گیروں کا یورپی سفارت کاروں پر حملہ

امریکا کی ایران جنگ سے متاثرہ خلیجی ممالک کو 5 ارب ڈالر کے فنڈز کی پیشکش

Web Desk

22 September 2026

امریکی حکومت نے ایران جنگ سے متاثرہ خلیجی ممالک کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) کی بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے 5 ارب ڈالر کے نئے ہنگامی فنڈ کی تجویز دی ہے۔ امریکی اخبار ‘وال اسٹریٹ جرنل’ کی رپورٹ کے مطابق یہ جامع منصوبہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات (UAE) اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ اعلیٰ سطح پر زیرِ بحث ہے۔ اس مجوزہ امریکی فنڈ کا بنیادی مقصد جنگ کے دوران ڈرون اور میزائل حملوں سے تباہ ہونے والی تیل و گیس کی پائپ لائنوں، ریفائنریوں اور پروسیسنگ پلانٹس کی فوری تعمیرِ نو کرنا ہے۔

علاوہ ازیں، اس منصوبے کے ذریعے خلیجی ممالک کو تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے متبادل بری اور بحری راستے فراہم کرنا ہے تاکہ آبنائے ہرمز پر ان کا انحصار نمایاں طور پر کم کیا جا سکے۔ امریکی اور مشرقِ وسطیٰ کے حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ سات ماہ سے جاری اس شدید جنگی تنازع نے نہ صرف عالمی توانائی کی منڈیوں کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے بلکہ خطے کے اہم ترین انرجی انفراسٹرکچر کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے، جس کی مکمل بحالی پر عرب ممالک کے لیے اربوں ڈالر کے بھاری اخراجات متوقع ہیں۔