LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
جو پارلیمنٹ کو مضبوط کرے اس کے ہاتھ چومنے کو تیار ہوں: محمود خان اچکزئی چند وفاقی وزراء وزیراعظم کیلئے مشکلات پیدا کر رہے ہیں: بلاول بھٹو زرداری قومی اسمبلی میں وزیر اعظم اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان دلچسپ جملوں کا تبادلہ آزاد کشمیر کی ترقی اور عوامی فلاح وبہبود سے متعلق مطالبات مان لئے: رانا ثناء اللہ پی ٹی آئی نے سیاسی رواداری کے کلچر کو برباد کر دیا: خواجہ آصف مستقبل کی جنگیں نئی حکمت عملیوں کی متقاضی ہیں: نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف پاکستان خطے کے امن کیلئے تعمیری کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہے: ترجمان دفتر خارجہ میاں بیوی ساتھ نہ رہنے کے باوجود بھی خاتون حق مہر کی حقدار، لاہور ہائیکورٹ ہنر مند نوجوان ملک و قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں: مریم نواز نادرا کی اپیل منظور،ماتحت عدالتوں کے شناختی کارڈ بحال کرنے کے فیصلے کالعدم قرار امریکی صدر قرارداد کی منظوری پر برہم، سینیٹ نے مجھے روک کر دشمن کی مدد کی: ٹرمپ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں ٹریڈنگ کا مثبت زون میں آغاز محسن نقوی کی ایرانی ہم منصب سے ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق ٹرمپ کے قریبی اتحادیوں کی اسرائیل کو اعتماد میں لینے کی کوشش امریکی عوام کی اکثریت کو جنگ بندی زیادہ عرصہ برقرار نہ رہنے کا خدشہ

صرف ایک ہفتہ سوشل میڈیا چھوڑنے سے ذہنی صحت بہتر، تحقیق

Web Desk

29 November 2025

ایک حالیہ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ صرف ایک ہفتے تک سوشل میڈیا کے استعمال میں نمایاں کمی نوجوانوں کی ذہنی صحت پر مثبت اثر ڈالتی ہے۔ محققین کے مطابق مختصر دورانیے کی یہ پابندی بے چینی، ڈپریشن اور نیند کے مسائل میں واضح کمی لانے کا سبب بنتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق 14 سے 24 سال کے 295 نوجوانوں کا مشاہدہ کیا گیا، جنہوں نے اپنی روزانہ کی اسکرین ٹائم کو دو گھنٹے سے کم کرکے محض 30 منٹ کیا۔ ایک ہفتہ مکمل ہونے پر سروے سے معلوم ہوا کہ بے چینی کی علامات میں 16 فیصد، ڈپریشن میں تقریباً 25 فیصد اور بے خوابی میں ساڑھے 14 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ یہ بہتری خاص طور پر اُن نوجوانوں میں نمایاں رہی جن میں ڈپریشن کی سطح پہلے سے زیادہ تھی۔

اس کے باوجود تحقیق نے یہ بھی واضح کیا کہ تنہائی کا احساس سوشل میڈیا کے کم استعمال کے باوجود برقرار رہا۔ ماہرین کے مطابق سوشل میڈیا کا استعمال کم کرنا مفید ضرور ہے، مگر اسے ذہنی صحت کا بنیادی علاج نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

یہ تحقیق ہارورڈ میڈیکل اسکول کے نفسیات کے ایسوسی ایٹ پروفیسر، ڈاکٹر جان ٹوریٹس کی شراکت سے شائع ہوئی ہے۔