LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
روس میں پارلیمانی انتخابات کے آخری روز ماسکو پر بڑا ڈرون حملہ کوئی ریاست دوسری ریاست کیلئے خطرہ نہیں بن سکتی: قطری وزیراعظم شمالی کوریا کا تین گھنٹوں میں 2 بیلسٹک میزائلوں کا تجربہ نئے صوبوں، صدارتی اور بلدیاتی نظام میں زیادہ دیر نہیں: چودھری جعفر اقبال اٹھارہویں ترمیم کے بعد چاروں صوبے 4 آزاد ریاستیں بن گئیں: مصطفیٰ کمال الخلیل میں اسرائیلی آباد کاروں کا فلسطینیوں پر حملہ، گاڑی نذر آتش جاسم البدیوی کی یو این سیکرٹری جنرل سے ملاقات، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ کی جماعت اسلامی کے مارچ کی حمایت زیلنسکی اور ٹرمپ کا ٹیلی فونک رابطہ، نیویارک میں ملاقات پر اتفاق آبنائے ہرمز، باب المندب بند ہونے سے تیل مہنگا ہوا، مہنگائی سے پوری دنیا پریشان ہے: رانا ثناء اللہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں بڑھیں، عوام کی تکلیف کا احساس ہے: علی پرویز ملک 18ویں ترمیم کے اختیارات نچلی سطح پر منتقل کیے جائیں :خالد مقبول صدیقی سکیورٹی پہلے، ملک محفوظ ہوگا تو ترقی بھی ہو گی: سپیکر پنجاب اسمبلی اسلام آباد پہنچنے سے پہلے جماعت اسلامی کے لانگ مارچ میں بریک تھرو کا امکان پی ٹی آئی ایم پی اے کی فائرنگ سے 2 لیویز اہلکار زخمی، مقدمہ درج: ذرائع

صرف ایک ہفتہ سوشل میڈیا چھوڑنے سے ذہنی صحت بہتر، تحقیق

Web Desk

29 November 2025

ایک حالیہ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ صرف ایک ہفتے تک سوشل میڈیا کے استعمال میں نمایاں کمی نوجوانوں کی ذہنی صحت پر مثبت اثر ڈالتی ہے۔ محققین کے مطابق مختصر دورانیے کی یہ پابندی بے چینی، ڈپریشن اور نیند کے مسائل میں واضح کمی لانے کا سبب بنتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق 14 سے 24 سال کے 295 نوجوانوں کا مشاہدہ کیا گیا، جنہوں نے اپنی روزانہ کی اسکرین ٹائم کو دو گھنٹے سے کم کرکے محض 30 منٹ کیا۔ ایک ہفتہ مکمل ہونے پر سروے سے معلوم ہوا کہ بے چینی کی علامات میں 16 فیصد، ڈپریشن میں تقریباً 25 فیصد اور بے خوابی میں ساڑھے 14 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ یہ بہتری خاص طور پر اُن نوجوانوں میں نمایاں رہی جن میں ڈپریشن کی سطح پہلے سے زیادہ تھی۔

اس کے باوجود تحقیق نے یہ بھی واضح کیا کہ تنہائی کا احساس سوشل میڈیا کے کم استعمال کے باوجود برقرار رہا۔ ماہرین کے مطابق سوشل میڈیا کا استعمال کم کرنا مفید ضرور ہے، مگر اسے ذہنی صحت کا بنیادی علاج نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

یہ تحقیق ہارورڈ میڈیکل اسکول کے نفسیات کے ایسوسی ایٹ پروفیسر، ڈاکٹر جان ٹوریٹس کی شراکت سے شائع ہوئی ہے۔