LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
بنگلہ دیش نے پاکستان، ترکیہ اور سعودیہ کے دفاعی معاہدے میں شمولیت کا اشارہ دیدیا پاکستان ریلوے کا ریونیو 115 ارب روپے سے تجاوز، روہڑی کراچی ٹریک کے لیے $2.5B کا معاہدہ طے سندھ میں 80 فیصد آبادی آلودہ پانی پینے پر مجبور ہے: مصطفیٰ کمال وفاقی حکومت نے راولپنڈی میں پاک فوج تعینات کرنے کی منظوری دے دی بانی کی ہسپتال منتقلی کا معاملہ، سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست دائر محسن نقوی سے ملائیشین ہم منصب کی ملاقات، انسدادِ دہشت گردی کے خلاف تعاون بڑھانے پر اتفاق طالبان رجیم کیخلاف مسلح مزاحمت میں مزید شدت آگئی صدر زرداری سے ملائیشین وزیرِ داخلہ کی ملاقات، سکیورٹی و تجارتی تعاون بڑھانے پر اتفاق امریکی پابندیاں دنیا کو دوبارہ نوآبادیاتی دور میں دھکیل سکتی ہیں: اسماعیل بقائی نیٹو رکن ممالک میں آبنائے ہرمز میں آزادانہ آمدورفت کے تحفظ کے لیے تعاون پر غور دہشتگردی کے متاثرین کی بلا امتیاز حمایت ضروری ہے، پاکستانی مندوب آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت صرف 4 فیصد رہ گئی ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے لیکن درست ڈیل کیلئے تیار نہیں، امریکی صدر امریکی پابندیاں، دباؤ پہلے بھی ناکام، آئندہ بھی ناکامی ان کا مقدر بنے گی: ایران کا ٹرمپ پر طنز روس کا یوکرین میں ڈرون حملہ، 15 افراد ہلاک، 130 سے زائد زخمی

چند وفاقی وزراء وزیراعظم کیلئے مشکلات پیدا کر رہے ہیں: بلاول بھٹو زرداری

Web Desk

24 June 2026

اسلام آباد: چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ چند وفاقی وزراء خود وزیراعظم شہباز شریف کے لیے مسلسل مشکلات پیدا کر رہے ہیں اور شاید ان وزراء کا طرزِ سیاست ہی ایسا ہے۔ قومی اسمبلی کے اہم اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے موجودہ ملکی چیلنجز پر بات کی اور تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ موجودہ نازک صورتحال میں ذاتی اختلافات بھول کر اکٹھی ہوں اور مسائل کا مقابلہ کریں۔

انہوں نے چند وفاقی وزراء کے غیر ذمہ دارانہ بیانات کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد میری سمجھ سے بالکل بالاتر ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کابینہ میں ایسے وزیر کیوں موجود ہیں جو یہ متنازع دعویٰ کرتے ہیں کہ راولاکوٹ والے کشمیری نہیں ہیں؟ بلاول بھٹو نے واضح کیا کہ حکومت اور تمام سیاسی جماعتوں نے آزاد کشمیر کے معاملے کا ہمیشہ سیاسی حل نکالنے کی مخلصانہ کوشش کی ہے، اور بلاشبہ وزیراعظم شہباز شریف ملک کو مسائل کی دلدل سے نکالنے کا مضبوط عزم رکھتے ہیں، کیونکہ تمام تر تضادات کا حل صرف اور صرف مذاکرات اور باہمی بات چیت سے ہی ممکن ہے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے وفاقی دارالحکومت سمیت ملک بھر میں فوری بلدیاتی انتخابات کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے درج ذیل اہم نکات پیش کیے: وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں فوری بلدیاتی الیکشن کروا کر ایک ماڈل نظام لایا جائے۔ انہوں نے ن لیگ کو چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ جیسا بااختیار بلدیاتی نظام ہم کراچی میں لائے ہیں، ویسا ہی نظام آپ لاہور میں لا کر دکھائیں۔موجودہ بلدیاتی نظام کا بہانہ صرف سیاسی جماعتوں کو آپس میں لڑوانا ہے۔گلگت بلتستان میں ہماری حکومت بننے جا رہی ہے، اور ہم وہاں حکومت سنبھالنے کے محض 90 روز کے اندر بلدیاتی الیکشن کرانے کی بھرپور کوشش کریں گے۔

بلاول بھٹو زرداری نے ایوان میں آئینی ترامیم کے حوالے سے جاری بحث پر بھی اپنا سخت موقف اپنایا اور کہا کہ جو لوگ بڑی باتیں کر رہے ہیں کہ آئین میں ترمیم ہونی چاہیے، وہ زبانی دعووں کے بجائے باقاعدہ طور پر ایوان کے سامنے اپنی قرارداد پیش کریں۔