LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ٹرمپ کا ایران پر مزید دباؤ بڑھانے کا اعلان، نئی پابندیوں کا عندیہ اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی ملاقات بلاول بھٹو 3 روزہ دورے پر مظفرآباد پہنچ گئے، پُرتپاک استقبال اردن کے عوام اپنی سرزمین سے امریکی اڈوں کے خاتمے کا مطالبہ کریں: پاسداران انقلاب شہباز شریف سے یو این سیکرٹری جنرل کی امیدوار مشیل باشلیٹ کی ملاقات شہداء کی قربانیوں کا نعم البدل دنیا کے خزانے بھی نہیں: بیرسٹر گوہر فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورۂ ترکیہ، صدر اردوان سے ملاقات، دوطرفہ تعلقات، دفاعی تعاون پر گفتگو روم میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان امریکی ثالثی میں مذاکرات کا آغاز یورپی ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی کا خلیجی فضائی حدود میں پروازوں کے خطرات سے انتباہ دہشت گردی کے خلاف بحیثیت قوم نبرد آزما ہونا ہوگا: بیرسٹر سلمان اکرم راجہ پی ٹی آئی کا قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں کے بائیکاٹ کا فیصلہ برقرار دہشت گردی ایک ناسور، ہمارے شہداء قوم کے ہیرو ہیں: بیرسٹر گوہر خان کی میڈیا سے گفتگو سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر حملے ناقابلِ قبول ہیں: وزیراعظم آبنائے ہرمز کے قریب بندر عباس میں پانچ دھماکوں کی آوازیں، ایرانی سرکاری ٹی وی کیش لیس معیشت سے شفافیت اور پائیدار معاشی ترقی کو فروغ ملے گا، وزیراعظم

سندھ ہائیکورٹ کی یونیورسٹی روڈ پر ٹریفک بحال کرنے کیلئے 2 ماہ کی مہلت

Web Desk

7 May 2026

کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے سندھ حکومت کو حکم دیا ہے کہ کراچی کی اہم شاہراہ یونیورسٹی روڈ کو دو ماہ کے اندر مکمل طور پر فعال بنایا جائے تاکہ شہریوں کو درپیش ٹریفک مسائل کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔

سندھ ہائیکورٹ میں بس تیز رفتار منصوبے کی سرخ لائن کے دوسرے حصے سے متعلق ٹھیکیدار کے دفتر اور مشینری سیل کرنے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔ عدالت نے دلائل سننے کے بعد مشینری سیل کرنے کی کارروائی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے فیصلہ جاری کر دیا۔

عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ بس تیز رفتار منصوبہ اکتوبر 2027 تک مکمل ہونے کی توقع ہے، لیکن تعمیراتی کام کے باعث یونیورسٹی روڈ پر ٹریفک کی روانی متاثر نہیں ہونی چاہیے۔

عدالت کے مطابق یونیورسٹی روڈ کی خستہ حالی کے باعث کراچی کے عوام شدید اذیت کا شکار ہیں، اس لیے حکومت فوری اقدامات یقینی بنائے اور دو ماہ کے اندر سڑک کو مکمل طور پر قابلِ استعمال بنائے۔ عدالت نے واضح کیا کہ عوامی اور نجی ٹرانسپورٹ کی آمدورفت میں کسی قسم کی رکاوٹ قابل قبول نہیں ہوگی۔

فیصلے میں کہا گیا کہ سندھ حکومت ضرورت کے مطابق اضافی فنڈز مختص کر سکتی ہے۔ عدالت نے مزید کہا کہ اگر ٹرانس کراچی معاہدے کی مخصوص شقوں کے تحت مشینری اپنے پاس رکھنا چاہے تو وہ تنازع حل کرنے والے بورڈ سے رجوع کرے۔

عدالت نے حکم دیا کہ اگر تیس دن کے اندر بورڈ کوئی فیصلہ نہ دے تو عدالت کے مقرر کردہ کمشنر کی نگرانی میں مشینری درخواست گزار کے حوالے کی جائے گی۔ عدالت نے درخواست گزار کو قانونی کارروائی کا اختیار بھی برقرار رکھا۔

عدالت نے فیصلے کی نقول چیف سیکریٹری سندھ اور سیکریٹری بلدیات سندھ کو بھیجنے کی ہدایت دیتے ہوئے درخواست نمٹا دی۔