LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعظم نے ٹریڈ فیسلیٹیشن بورڈ کے قیام کی منظوری دے دی عمران سرور نیشنل بینک آف پاکستان کے نئے صدر مقرر افغانستان سے بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردوں کی دراندازی ناکام، 15 ہلاک یسین ملک کا بھارتی عدلیہ پر اظہارِ عدم اعتماد، مقدمہ مزید لڑنے سے انکار انڈونیشیا میں حکومت کا مفت کھانا، تقریباً 800 افراد فوڈ پوائزننگ کا شکار پاکستان سٹاک ایکسچینج میں ٹریڈنگ کا مثبت زون میں آغاز پاکستان نے یورو بانڈ کے ذریعے 3 ارب ڈالر حاصل کر لیے: وزیر خزانہ جماعت اسلامی کی پٹرولیم لیوی اور مہنگائی کے خلاف آج ملک گیر ہڑتال مومنہ اقبال ہراسگی کیس: تفتیش میں ثاقب چڈھر اور اہلیہ سمیرا بے قصور قرار 100 سال میں امریکی کرنسی پر نمودار ہونے والے پہلے زندہ صدر نیویارک سٹی میں پرائمری اور مڈل اسکول کے طلبہ کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال پر پابندی کا فیصلہ سیکورٹی خدشات کے باعث ضلع ٹانک میں کرفیو نافذ امریکی ریاست منی سوٹا میں فائرنگ، 2 افراد ہلاک، حملہ آور بھی ہلاک برنی سینڈرز کی ٹرمپ پر کڑی تنقید، ایران جنگ ختم کرنے کا مطالبہ سعودی عرب کی آبنائے ہرمز میں سعودی آئل ٹینکر پر ایرانی حملے کی مذمت

میرے بچے عید کی طرح دیوالی اور کرسمس بھی منائیں گے، سیف علی خان

Web Desk

30 June 2026

بالی ووڈ کے نامور اداکار سیف علی خان نے کہا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے بچوں کی پرورش ایک ایسے لبرل اور کھلے ماحول میں ہو جہاں تمام مذاہب اور ثقافتوں کا احترام سکھایا جائے، اسی لیے ان کے بچے عید کے ساتھ ساتھ دیوالی اور کرسمس کی خوشیاں بھی بھرپور انداز میں منائیں گے۔

لندن میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران گفتگو کرتے ہوئے چھوٹے نواب سیف علی خان نے واضح کیا کہ ان کے نزدیک مذہبی اور ثقافتی ہم آہنگی کی اہمیت سب سے بڑھ کر ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کو مختلف مذاہب کے روایتی تہواروں سے روشناس کرانے کا بنیادی مقصد انہیں معاشرے میں محبت، برداشت، رواداری اور ایک دوسرے کے عقائد کا دل سے احترام کرنے کا درس دینا ہے۔ اداکار کا کہنا تھا کہ ان کے گھر میں عید، دیوالی اور کرسمس سمیت تمام مذاہب کے بڑے تہوار روایتی جوش و خروش سے منائے جاتے ہیں، کیونکہ ان کا پختہ ماننا ہے کہ تہوار بنیادی طور پر خوشیاں بانٹنے اور خاندان کے افراد کو ایک دوسرے کے قریب لانے کا بہترین ذریعہ ہوتے ہیں۔

اپنے ماضی کی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے سیف علی خان نے بتایا کہ انہوں نے خود بھی ایسے تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کی ہے جہاں مختلف مذاہب، ان کی روایات اور عقائد کا احترام سکھایا جاتا تھا۔ انہوں نے ہنستے ہوئے اپنے اسکول کے دور کا ایک انتہائی دلچسپ واقعہ سناتے ہوئے کہا کہ ان کے اسکول میں روزانہ کی سرگرمیوں کا آغاز چرچ میں ہونے والی اجتماعی عبادت سے ہوتا تھا۔ ایک بار انہوں نے یہ کہہ کر اس روزمرہ کی عبادت میں شرکت سے بچنے کی کوشش کی کہ ان کا مذہب اسلام ہے اور وہ اس کا حصہ نہیں بن سکتے۔ تاہم، اسکول انتظامیہ نے ان کی اس چال کے جواب میں ان کے لیے خصوصی طور پر ایک مولوی صاحب کا انتظام کر دیا تاکہ وہ اسلامی تعلیمات کے مطابق اپنی الگ عبادت کر سکیں۔ سیف علی خان نے مسکراتے ہوئے کہا کہ یوں وہ اپنی اس ذمہ داری سے بھی نہ بچ سکے، لیکن اسی سیکیولر ماحول نے انہیں آگے چل کر مختلف مذاہب اور ثقافتوں کا احترام کرنا سکھایا۔

واضح رہے کہ سیف علی خان کی ذاتی اور خاندانی زندگی بھی ہمیشہ میڈیا اور مداحوں کی توجہ کا مرکز رہی ہے۔ انہوں نے اپنی زندگی میں دو مختلف مذاہب اور پسِ منظر سے تعلق رکھنے والی بالی ووڈ اداکاراؤں سے شادیاں کیں۔ سیف علی خان نے پہلی شادی 1991 میں اداکارہ امریتا سنگھ سے کی تھی جو عمر میں ان سے 13 سال بڑی تھیں۔ اس شادی سے ان کے دو بچے سارہ علی خان اور ابراہیم علی خان پیدا ہوئے، تاہم یہ رشتہ زیادہ عرصہ نہ چل سکا اور 2004 میں دونوں کے درمیان باقاعدہ طلاق ہو گئی تھی۔