LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
روس جوہری حملے کی دھمکیاں دینا بند کرے، نیٹو لانگ مارچ سے کبھی کوئی فائدہ ہوا اور نہ آئندہ ہوگا، مصطفی کمال معاشی ترقی میں سرمایہ کاروں کی شراکت ڈھائی سال میں دوگنا سے زائد بڑھ چکی ہے: وزیر خزانہ 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا فی الحال کوئی قانون موجود نہیں: پی ٹی اے کا اسلام آباد ہائیکورٹ میں جواب انڈونیشیا کی جیل میں ڈبل بیڈز کمرے، ٹی وی اور سوئمنگ پول حکومت بزرگ شہریوں کی فلاح وبہبود کیلئے اقدامات کر رہی ہے: مریم نواز محسن نقوی کا نیشنل پولیس اکیڈمی کا دورہ، اپ گریڈیشن منصوبے مکمل کرنے کی ہدایت کراچی: زیر تعمیر پل کی شٹرنگ اچانک گر گئی، ایک شخص جاں بحق افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف فضائی کارروائی، 22 ہلاک، ٹھکانے تباہ خانیوال میں بیٹھے پاکستانی نوجوان نے امریکی ڈاکخانے کو 126 ملین ڈالر کا چونا لگا دیا ایران میں مہنگائی کی شرح 83 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے روسی جوہری دھمکیوں کو مسترد کر دیا یوکرین کا روس کے نئے سیٹلائٹ نیٹ ورک کی تیاری میں مدد دینے والوں پر پابندیوں کا مطالبہ ہردیپ سنگھ نجر کے قتل میں بھارت ملوث تھا: کینیڈین وزیراعظم فرانس کا سعودی توانائی تنصیبات کے تحفظ کیلئے فوجی دستے تعینات کرنے کا فیصلہ

9مئی مقدمہ: نامزد ملزم کا نام پی سی ایل سے نکالنے کی درخواست خارج

Web Desk

30 September 2026

لاہور ہائیکورٹ نے 9 مئی کے پرتشدد واقعات کے ایک مقدمے میں نامزد ملزم کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ (PCL) سے خارج کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ایک تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے۔

جسٹس منور اقبال ڈوگر نے اس درخواست پر 6 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا، جس میں واضح کیا گیا کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ (ATA) کے تحت چالان شدہ ملزم کا پاسپورٹ قانون کی رو سے ضبط شدہ تصور ہوتا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ پاسپورٹ کی ضبطی ختم کرنے اور ملزم کو بیرونِ ملک سفر کی مشروط اجازت دینے کا مکمل اور باضابطہ اختیار صرف متعلقہ انسداد دہشت گردی (ATC) عدالت کے پاس ہے۔ فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ محض ضمانت منظور ہونے سے کسی ملزم کو پاسپورٹ استعمال کرنے یا ملک سے باہر جانے کی خودکار اجازت نہیں مل جاتی، بلکہ اس کے لیے اسے ٹرائل کورٹ سے ہی رجوع کرنا ہوگا۔

ہائیکورٹ کے فیصلے کے مطابق پاسپورٹ کنٹرول یا اسٹاپ لسٹ سے کسی شخص کا نام نکالنے سے قانونی طور پر ضبط شدہ پاسپورٹ کی حیثیت خود بخود ختم نہیں ہو جاتی۔ عدالت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ہائیکورٹ اپنے آئینی دائرہ اختیار کو استعمال کرتے ہوئے براہِ راست ٹرائل کورٹ کے دائرہ اختیار میں مداخلت نہیں کر سکتی، اور کسی بھی انتظامی حکم کے ذریعے پارلیمنٹ کے بنائے گئے قانون کو غیر مؤثر نہیں بنایا جا سکتا۔ عدالت نے ‘فیڈریشن بنام شیخ رشید احمد’ کے ڈویژن بینچ کے فیصلے کی نظیر کو برقرار رکھتے ہوئے ایف آئی اے اور امیگریشن حکام کی جانب سے کیے گئے اقدامات کو قانونی قرار دیا۔

واضح رہے کہ درخواست گزار کے خلاف تھانہ سرور روڈ میں 9 مئی کے واقعات کا مقدمہ درج ہے (ایف آئی آر نمبر 96/23)۔ سماعت کے دوران پنجاب حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل محمد عثمان خان نے ملزم کا نام پی سی ایل سے نکالنے کی شدید مخالفت کی تھی، اور فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے یہ فیصلہ سناتے ہوئے درخواست خارج کر دی۔