LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وفاقی وزیر احسن اقبال کا دورہ امریکہ: ہیلتھ کیئر اور معاشی ترقی کے لیے سمندر پار پاکستانیوں کو شراکت داری کی دعوت، ٹیلی میڈیسن ماڈل کی تجویز فلسطینی علاقوں پر قبضہ ختم ہونے تک اسرائیل سے تعلقات بحال نہیں ہو سکتے، مصر یمنی فورسز اور حوثیوں کے درمیان جھڑپوں میں 65 اموات کی تصدیق شہید رہبراعلیٰ کے خون کا بدلہ ضرور لیں گے، مشیر ایرانی سپریم لیڈر پشاور: چینی باشندوں کی حفاظت کےلئے فول پروف نظام قائم امریکی صدر کی روسی ہم منصب کو یوکرین جنگ کے حل میں مدد کی پیشکش وعدہ کرتا ہوں شہید امام کے مشن کو جاری رکھوں گا: مسعود پزشکیان ایران اور قطر کے درمیان بحری تجارت 5 ماہ بعد بحال مؤثر سفارتکاری اور امن سے پاکستان کا عالمی تشخص مضبوط ہوا: فیصل کریم کنڈی اسرائیل کو خطے کو دوبارہ جنگ کی آگ میں دھکیلنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی: صدر اردوان آبنائے ہرمز میں غیر ملکی فوج کی موجودگی ناقابل قبول، ایران کا سخت انتباہ عباس عراقچی سے حماس اور حزب اللہ کے وفود کی ملاقات، حمایت جاری رکھنے کا اعادہ امریکہ کا 250واں یومِ آزادی: اسلام آباد اور لاہور کی تاریخی عمارات امریکی پرچم کے رنگوں سے جگمگا اٹھیں اوپیک ممالک کا تیل کی پیداوار میں یومیہ ایڈجسٹمنٹ کا فیصلہ مشرقی امریکا میں گرمی اور ہیٹ ویو سے 25افراد ہلاک

اسپتال انتظامیہ کی غفلت، زندہ بچی مردہ قرار، ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری

Web Desk

5 July 2026

ساہیوال کے ٹیچنگ اسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے ایک زندہ نومولود بچی کو مردہ قرار دے کر ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا سنسنی خیز واقعہ سامنے آیا ہے، جس پر اہلخانہ نے شدید احتجاج کیا۔

ذرائع کے مطابق اسپتال انتظامیہ نے بچی کو مردہ قرار دینے کے بعد اس کے ماموں سے میت کی وصولی کے کاغذات پر دستخط بھی کروا لیے، تاہم جب میت حوالے نہ کی گئی تو اہلخانہ نے انتظامیہ پر بچی کو اغوا کرنے کا سنگین الزام عائد کر دیا۔ معاملے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور میڈیا کی ٹیمیں اسپتال پہنچ گئیں، اور پولیس کی بروقت مداخلت پر انتظامیہ نے بلاآخر زندہ بچی کو ورثا کے حوالے کر دیا۔ اس افسوسناک غفلت پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندان نے وزیراعلیٰ پنجاب سے ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

دوسری جانب اسپتال انتظامیہ نے اپنا موقف پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ یہ واقعہ دو مختلف خواتین کے ناموں کی مماثلت کے باعث پیش آیا۔ انتظامیہ کا کہنا تھا کہ دونوں بچیوں کی ماؤں کے نام ایک جیسے تھے، جس کی وجہ سے غلط فہمی پیدا ہوئی اور وفات پانے والی دوسری بچی کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ غلطی سے اس خاندان کو جاری کر دیا گیا۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق ریکارڈ کی دوبارہ باریک بینی سے جانچ پڑتال کرنے پر معلوم ہوا کہ اس خاندان کی نومولود بچی مکمل طور پر زندہ اور محفوظ ہے، جس کے بعد دونوں بچوں کی درست شناخت کر کے زندہ بچی کو والدین کے حوالے کر دیا گیا ہے۔